تشدد کا فلسفہ اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے


\"\"اقبالؒ کا شعر ہے کہ ’’پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کاجگر، مردِ ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر‘‘ اسی سے ملتا جلتا اردو زبان کا محاورہ ہے کہ ’’ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔‘‘ اس سب کے باوجود ہمارا گمان ہے کہ یہ سب باتیں نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ جب علم وشعور کی روشنی آتی ہے تو قدیمی تصورات کے اندھیرے کا فور ہوجاتے ہیں۔ استشنائی واقعات یا مثالوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر عمومی رویے ایسے نہیں ہوتے کوئی انسان خواہ کیسا ہی گیا گزرا کیوںنہ ہو اگر اسے ایک صاف ستھرا بہتر ماحول میسر کرتے ہوئے افہام و تفہیم سے گفتگو چھیڑی جائے تو فہم و شعور کے کئی بند دریچے وا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ غیر مہذب سو سائٹیوں کے قدیمی تصورات جبرو دہشت پر استوار ہوئے ہیں لیکن جوں جوں تعلیم و آگہی نے جڑ پکڑی علم و عرفان کو جلا ملتی چلی گئی پھر جبر کی جگہ محبت و شفقت، دہشت کی جگہ دلیل و حجت اور تشدد کی جگہ حکمت و تدبر نے لے لی یوں جو گھی ٹیڑھی انگلیوں سے نہیں نکلتا تھا وہ سیدھی انگلیوں سے ہی رواں دواں ہونے لگا۔
ہمارے سکولوں میں جب ہم پڑھ رہے تھے تو اساتذہ کا ایک ہی مقولہ ہوتا تھا کہ ’’بگڑے تگڑے بچوں کا علاج صرف ڈنڈا پیر ہے‘‘ ہمارے ماسٹر جی کہا کرتے تھے کہ ’’آسمان سے چار کتابیں نازل ہوئی تھیں اور پانچواں ڈنڈا اترا تھا۔‘‘ مدعا یہ کہ جس بگڑے بچے کی درستی اخلاقی باتیں نہیں کر سکتیں اس کی مرمت صرف ڈنڈا یعنی مارپیٹ کر سکتی ہے باتوں کی بجائے لاتوں کے استعمال کا یہ مجرب نسخہ محض تعلیمی اداروں تک محدود نہیں تھا بلکہ جرم و سزا کے تمام ایوانوں میں اسی سوچ کا رواج تھا کہ مجرموں کو بطور تادیب ایسی بھیانک سزا دو کہ ان کی اگلی نسلیں بھی اسے یاد رکھیں بلاشبہ معاشرہ جزا اور سزا کے تصورات کو بالفعل اپنائے بغیر درست طور پر قائم نہیں رہ سکتا اگر ہم نے اپنے سماج کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانا ہے تو لازم ہے کہ جرم کی مطابقت میں سزا کے نظریے کو لاگو کیا جائے ورنہ اگر عادی مجرمین کے اذہان سے سزا ئوں کا خوف ختم ہو گیا تو سو سائٹی کے شرفاء کا سکون کے ساتھ جینا ممکن نہیں رہے گا لیکن ہم اس مسلے پر دو باتوں کو اہمیت دیں گے اول یہ کہ سزا جرم کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ کیا مجرم اس کا عادی ہے یا واقعی کوئی جینوئن مجبوری یا کوئی غلط فہمی اسے اس جانب لے جانے کا باعث بنی ؟ ایسی کوئی تو جیہ اگر چہ جرم کی سنگینی کو کم نہیں کرتی لیکن اصلاحی پہلو میں معاونت ضرور کر سکتی ہے۔ لوگوں کے منفی ذہنوں کو بدلنا سماج کی اصل خدمت ہے۔
سماج میں کئی برائیاں غلط طور پر مگر مثبت اسلوب میں گھسی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’بڑوں کا اپنے سے چھوٹوں کو سمجھانا‘‘ ہماری سوسائٹی غیر تحریری طور پر بڑوں کا یہ حق تسلیم کرتی ہے اور ساتھ ہی انہیں ایک نوع کے جبر کا حق بھی دیتی ہے اور جبر بالعموم الفاظ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ کسی نہ کسی حد تک فورس کے استعمال کی آمیزش بھی روا رکھی جاتی ہے۔ بڑا چاہے باپ ہو یا استاد، ملازم کے اوپر آقا ہو یا بیوی پر شوہر کی حیثیت میں مجازی خدا بنا کھڑا آقا۔ حاضر و موجود یا حسبِ توفیق میسر جہالت کی مطابقت میں لٹھ تھا منا گویا اس بڑے کا حق ہے جو ہماری نام نہاد سوسائٹی کے نا خداؤں نے اسے تفویض کر رکھا ہے۔ سر سید نے کہا تھا کہ مغرب میں سماجی اصلاح کی تحریک اس لیے کامیاب رہی کہ اس کی مخالف مذہبی تعلیمات خاصی کمزور تھیں جبکہ ہمارے مسلم سماج میں یہ اصلاحی تحریک چلانا اس لیے مشکل ہے یہاں مذہبی تصورات کو اتنا تقدس حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عظیم سے عظیم تر سماج سدھار تحریک کے آڑے آسکتے ہیں۔ کوئی بھی بات کرو کوئی سابھی روایتی ایشو اٹھاؤ کہا جائے گا کہ مذہب میں تو ایسے نہیں ہے ہمارے حضرت صاحب تو یوں فرماتے ہیں۔ اس لیے یہاں سماجی اصلاح کا کام بھی بہت حد تک مذہب کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
عرض مدعا یہ ہے کہ آج ہم سب سوسائٹی میں موجود جبرو تشدد کے ہاتھوں بہت پریشان ہیں حال ہی میں ایک معصوم بچی دس سالہ طیبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس معصومہ کے جسم پر بائیس کے قریب تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں اس اندروہناک سانحہ نے ہماری پوری سوسائٹی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے یہ تمام تفصیلات بھی ہم تک آزاد میڈیا کی برکت سے پہنچی ہیں ورنہ ما قبل ایسی کئی گھناؤنی وارداتیں ہوئی تھیں لیکن سوسائٹی میں اثرورسوخ رکھنے والے ظالم لوگ انہیں دبا لینے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ کم سن طیبہ کے ساتھ یہ مظالم کسی ان پڑھ جاہل گھرانے میں نہیں بلکہ عدالتی شعبے سے وابستہ ایک ایڈیشنل سیشن جج کے گھر میں روا رکھے گئے ہیں اگرچہ موصوف جج صاحب طرح طرح کی توجیہات کرتے پائے گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اُن کی بیگم سائیکو یا ذہنی مریضہ تھیں تو کیا وہ خود بھی غافل تھے؟ گھر میں کافی عرصے سے جو کچھ ہو رہا تھا کیا وہ سب انہیں نظر نہیں آ رہا تھا ؟ اس معصوم بچی کی جو چیخیں ہمسائے اور ادھر اُدھر کے لوگ سن رہے تھے آخر وہ گھر والوں کو کیوں سنائی نہ دیں ؟
ہم سکولوں میں یا گھروں میں چھوٹے بچے بچیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے تشدد کے خلاف تو اظہارِ خیال کر سکتے ہیں لیکن اگر یہی معاملہ عورت مرد کے حوالے سے ہو تو کئی مقامات پر عورت کے خلاف مرد کے ہلکے تشدد کو جواز بخشتے پائے جاتے ہیں یا یوں تشریحات کرتے ہیں کہ ’’ناموس زن کا نگہباں ہے فقط مرد‘‘

.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔