سیاسی معاملات میں جذباتیت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا


جنوبی افریقہ کے اک دیومالائی کردار ہیں، بشپ ڈیسمنڈ ٹُوٹُو۔ اگر میرا ذہن درست ساتھ دے رہا ہے تو انہوں نے \"\"1990 کی دہائی کے پہلے حصہ میں نیلسن مینڈیلا مرحوم کی رہائی کے بعد، جنوبی افریقہ کی قوم سازی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ Truth and Reconciliation Commission یعنی، سچ اور صلح کے ادارے کے بنوانے ، رہنمائی اور چلانے والوں میں سے تھے۔ اچھی طرح یاد ہے کہ سنہء 2005 میں اک بہت پڑھے لکھے امریکی شخص کے مونہہ سے بشپ صاحب کا یہ قول سنا تھا کہ \”مجھے میرے والد نے اپنا لہجہ نہیں، اپنی دلیل بلند کرنا سکھائی تھی۔\” بارہ سال ہو گئے، کئی مرتبہ میں خود بھی پھسلن کا شکار ہوا، مگر کچھ کامیابی بھی رہی کہ لہجہ نہ بلند کیا ۔ وطن عزیز کی عمومی جذباتی اور دلیل دشمن معاشرت میں اس رویہ پر گالیاں پڑیں، بےغیرتی کے طعنے سنے اور بزدلی کا تاج بھی پہنا۔ مگر ان سارے تمغوں کے بعد آخری مسکراہٹ کے تحفہ نے کئی مرتبہ بہت سے دلدر دور کر ڈالے۔

چند اک واقعات آپکی نذر کرتا ہوں، اور امید یہی رہے گی کہ اگلی مرتبہ اپنے \”پانڈے ٹینڈے \” کھڑکانے سے قبل آپ چند لمحات کے لیے سوچ و بچار کریں گے۔

۔ سنہ 2013 میں چند بلوچ دھشتگردوں نے زیارت میں جناح ریزیڈنسی کو تباہ کر ڈالا۔ اس حملے میں، زیارت میں \"\"رہنے اور ریزیڈنسی پر ڈیٹی کرنے والے تین پشتون بھی انہوں نے مار ڈالے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نام نہاد آزادی پسند بلوچ دوستوں نے کیسے خوشیاں منائی تھیں اور اس بات کی منادی کرتے رہے کہ گویا بلوچستان کی آزادی جیسے اگلے دن ہی ملنے والی تھی۔ ہونا ہوانا کیا تھا، کچھ بھی نہ ہوا۔ صرف یہ ہوا کہ اس حملے کو کرنے اور تین پشتونوں کو قتل کرنے والے بلوچ دھشتگرد 2016 میں مارے گئے۔ مرنے والے سارے کے سارے 32 سال کی عمر سے کم تھے۔ آزادی پسند کسی بلوچ کے مونہہ سے پچھلے اک سال میں انکے بارے میں نہ پڑھا، نہ سنا اور نہ ہی جانا۔ مرنے والوں کے گھر سے جا کر تو معلوم کیجیے کہ ان پر کیا بیت رہی ہے۔

۔ سیاست اور نسل پرستی کی جذباتیت میں کراچی کو قتل گاہ بنا ڈالنے والے اک \”سیاسی جماعت\” کے کارکنان کے پسماندگان کی کیا حالت ہوگی، یہ نہ آپ جانتے ہیں، نہ میں اور نہ ہی لندن مقیم انکے عظیم رہنما۔ مجھے صولت مرزا کا آخری بیان اور انکی بیوہ کا ٹی وی انٹرویو ابھی بھی یاد ہے، اور وہ بے بسی بھی ذہن میں گونج پیدا کرتی ہے جو میں نے صولت مرزا اور انکے گھر والوں کے بےچارگی میں محسوس کی تھی۔ ٹپوری، کیپری، کانا، مادھوری، گولی، بانڈ، شوٹر، ہیرو اور ٹُنڈا، یہ سارے کے سارے اسی \”سیاسی جماعت\” کے کارکنان تھے جو سیاست میں پہلے جذباتیت اور پھر پرتشدد ذہنیت کا شکار ہوئے۔ یہ سارے ہی عمر کی تیسری اور چوتھی دہائی میں تھے۔ بلوغیت میں بندوق اٹھائی، جوانی میں مارے گئے۔ انکی مائیں، بہنیں، بیٹیاں آج کس حال میں ہونگی؟ ذرا سوچئیے گا؟

اسی بارے میں: ۔  مسلمانوں کے لیے مغرب کے اچھوت نگر

۔ مذہب و مسلک کے نام پر پہلے انجمن سپاہ صحابہ اور بعد میں لشکرجھنگوی کے کئی کارکنان اپنی جوانیاں قتل و \"\"غارت میں رولتے گئے۔ مارتے بھی رہے، مرتے بھی رہے۔ ذہن میں کئی نام آتے ہیں، ایثار قاسمی، شعیب ندیم، حق نواز جھنگوی، ملک اسحاق اور بیٹا، اور ابھی حال میں ہی آصف چھوٹو۔ یہ تمام اپنی جوانیوں میں اس پرتشدد طریقے سے اپنے مسلکی بیانیہ کو آگے بڑھانے کے سرخیل تھے، اور انجام بھی متشدد ہوا۔ سوچتا ہوں کہ مرنے سے چند لمحات قبل، آخری سانسیں لیتے ہوئے وہ اپنے پیاروں کے بارے میں کیا سوچ رہے ہونگے؟

۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے اک صاحب تھے خرم ذکی ۔ انکو پچھلے سال کراچی میں اک مظاہرہ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ صاحب کا لہجہ بلند تھا۔ انکے قتل کے چند دن بعد انکے معصوم بچوں سے انکے مسلک کے لوگ جلسوں جلوسوں میں تقاریر کروا رہے تھے۔ ان معصوموں کو جذباتی الفاظ اگلتے دیکھنا میرے لیے اک شدید تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ اس پر بات کی تو جتھے کے جتھے انکے مسلک سے حملہ آور ہوئے اور مجھے انہوں نے نقصان بھی پہنچایا۔ اس عظیم کربلا کو بپا کر دینے کے بعد، سب اپنی اپنی چائے کے سڑُوکے مارنے میں مصروف ہو گئے، خرم ذکی مرحوم کے بچوں اور انکے گھر والوں کے کیا معاملات ہیں، اور انکے اس وقت کے چاہنے والوں کے ابھی کیا معاملات ہیں؟ وہ انکے حق میں لہجہ بلند کرنے والوں کے سوشل میڈیائی اکاؤنٹس پر لگی انڈین ہیرؤنز، آئن سٹائن، اور مختلف عمارات کی تصاویر سے بہت صاف معلوم پڑتا ہے۔

۔ پچھلے سال ہی پنجاب کے اک گاؤں میں اک مولوی صاحب کی جذباتی تقریر کے دوران اک سوال میں غیرارادی طور پر اک نابالغ بچے نے اپنا ہاتھ غلطی سے کھڑا کر دیا۔ اس محفل میں لعن طعن سننے کے بعد موصوف گھر گئے اور ٹوکے سے اپنا ہاتھ کاٹ کر کپڑے میں لپیٹ کر مولوی صاحب کو پیش کر ڈالا۔ مقامی لوگوں نے بہت توصیف کی، اور آس پاس کے لوگ اس بچے کی \”زیارت\” کے لیے بھی تشریف لائے۔ زیارت کے بعداس بچے نے ابھی کچھ جمع تفریق کر کے کوئی ساٹھ سال تو جینا ہوگا۔ پنجابی معاشرت میں بحیثیت \”ٹُنڈا\” کیسے جیے گا؟ اسکے حق میں نعرے مارتے لوگوں کو اتنی ہی پرواہ ہے جتنی اوپر بیان کیے گئے واقعات میں متعلقہ مجاہدین کو ہو سکتی ہے۔\"\"

اسی بارے میں: ۔  بیسویں صدی کا سب سے بڑا لبرل کون؟

۔ ابھی حال ہی میں اٹھائے گئے بلاگرز پر بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی کہ ہر طرف گویا اک طوفان برپا تھا۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ واقعہ 2016 قبل مسیح میں ہوا تھا۔ اپنا مؤقف پیش کیا تو جواب میں زیادہ تر کچھ ویسا ہی سننے کو ملا جسکی تفصیل اوپر بیان کر چکا ہوں۔ انکی مہم کے اک سرخیل پرسوں سے جنرل سید پرویز مشرف صاحب کی دبئی کے اک نائٹ کلب میں ٹھمکے لگاتی ویڈیو کو مشقِ سخن بنائے ہوئے ہیں۔ کوئی انہیں بتائے کہ صاحب، وہ بلاگرز۔۔۔جناب۔۔۔؟

دلیل بلند کرنا آسان نہیں ہوتا کہ عمومی انسانی نفسیات جذباتیت اور اکثریت کے مزاج کے ساتھ بہہ جانے والی ہوتی ہے۔ یہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ اکثریتی انسانوں کے اندر کا   مسلکی، نسلی، سیاسی، مذہبی ، معاشی، معاشرتی اور پیشہ وارانہ قبائلی انہیں اک دوجے کے ساتھ جُڑ کر، اک دوجے کے لہجے میں لہجہ ملا کر اور اک قبائلی گروہ یا لشکر میں انفرادی شمولیت دکھا کر تحفظ کا احساس رہتا ہے۔ لہذا آپکو وطن عزیز میں اسکے تماشے مذہب، مسلک، سیاست، معاشرت اور پیشہ واریت کے مختلف لیولز پر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ اک واقعہ ہوتا ہے تو یار لوگ اپنے پانڈے ٹینڈے اٹھا کر باہر نکالتے ہیں، خوب بجاتے ہیں، جب بجا بجا کر تھک جاتے ہیں تو یہی پانڈے ٹینڈے واپس اپنی اپنی زنبیلوں میں رکھ کر چائے کے سڑُوکے لگاتے ہوئے کسی اگلے واقعہ کے انتظار میں مورچہ زن ہو جاتے ہیں۔ بجانے اور کھڑکانے کے شغل کے بعد سوچنے اور تفکر کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ یار، اس ساری مشق کی جمع تفریق آخر کیا رہی۔

طوالت کی دلی معذرت، دوستو۔ مگر مقصد چار لفظی تھا، جو بیان کر ڈالا کہ \” سیاسی معاملات میں جذباتیت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا \”


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔