سوشل میڈیا کی مخالفت؛ پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں


\"\"انگریزی کا ایک محاورہ میرے ذہن میں اکثر اس وقت آتا ہے جب جب میں وقت، تعلق یا پیسہ ضائع کر رہی ہوں۔ محاورہ ہے excess of anything is bad یعنی کسی بھی چیز کی زیادتی مہلک ہوتی ہے۔ ہمیں اس وقت سوشل میڈیا کی بدولت خبر، اطلاع اور علم کی فراوانیت ہے۔ جس سے بلاواسطہ قاری اور لکھاری دوستوں کو پریشانی لاحق ہے۔ اور جس کا حل یہ دوست سوشل میڈیا کا استعمال ترک کرنا تجویز کرتے ہیں۔ میری رائے میں دوسروں کی ایجاد کردہ چیزوں میں فرضی نقص گھڑنا اور اس کی بنیاد پر ان کا استعمال روکنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی دانشمندانہ۔ آپ فیس بک یا سوشل میڈیا سے کیا حاصل کر رہے ہیں یہ آپ کا قومی و ملی رحجان یا میلان ہے۔ لہٰذا آپ فیس بک کو کوسنے کی بجائے اپنے ملی رویوں اور میلانات میں شائستگی پیدا کریں تا کہ چیزیں جیسی ہیں ویسی ہی رہیں اور آپ کو ٹھیک ٹھیک دکھائی بھی دیں۔

میں انسان و علم دوست اور ترقی پسند ہونے کے ناتے آپ کی تحریروں سے سوشل میڈیا کے استعمال کی جو حوصلہ شکنی ہوئی ہے اپنے دلائل سے اس کا اثر زائل کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ میرے نقطہ نظر کو بھی مناسب جگہ دیں گے۔ اور اگر میرے دلائل مضبوط ہوئے تو آپ اپنی رائے تبدیل کرنے پر شرمندگی محسوس نہیں کریں گے۔

میرے نزدیک سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت ان کے نقائص سے کہیں زیادہ ہے۔ بالخصوص فیس بک کی کیونکہ اس کا استعمال آسان ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے لوگ اس سے وابستہ ہیں۔ حتٰی کہ گھریلو مائیں اور نو مولود بچوں کے بھی فیس بک اکاؤنٹس ہیں۔

فوائد

1۔ کیا 2006 یا اس سے پہلے جب سوشل میڈیا اور فیس بک کا رواج عام نہ تھا آپ اور میں قومی و بین الاقومی خبروں، تبصروں اور اطلاعات کی اتنی جانکاری اور ان پر کوئی ذاتی رائے رکھتے تھے؟ یقیناً نہیں۔

2۔ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی لمحہ لمحہ بدلتی چالیں، بد عنوانیاں اور بے ضابطگیاں جو نیوز چینلز کے علاوہ عام پبلک بھی ریکارڈ کر لیتی ہے جس سے مک مکا والا کلچر دم توڑ رہا ہے۔ کیا سوشل میڈیا اور فیس بک سے پہلے ایسا ممکن تھا ؟ شاید نہیں!

3۔ کیا سوشل میڈیا اور فیس بک سے پہلے لبنیٰ، طیبہ اور سلمان تاثیر کیسز کی بربریت اور دونوں فریقین کی پوزیشن اتنی تفصیل سے معلوم ہو پاتی تھی؟ ہرگز نہیں۔

4۔ اعلیٰ ریستورانوں میں ہم گدھے، چوہے یا کچھوے کھا رہے ہیں۔ ہماری آدھی سے زیادہ اشیائے خوردونوش ملاوٹ شدہ ہیں۔ اس سب کی ویڈیوز سوشل میڈیا کی وجہ سے پھیل جاتی ہیں جس سے پبلک با اثر اور سرمایہ دار محتاط ہو رہا ہے۔ اس کے لئے آپ کو سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک کا مشکور ہونا پڑے گا۔

5۔ دنیائے علم میں آئے روز نت نئی ریسرچز، چھپنے والی ہر نئی کتاب اور تازہ بحث کے گروپس سوشل میڈیا کی وجہ سے فری ہیں اور ان کا استعمال و حصول بھی سہل ہے۔ ایسا کچھ سال پہلے سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔

6۔ دنیا میں سرحدوں پر کسی کی کس سے کیا لڑائی ہے۔ کوئی ملک سرحدیں وسیع کرنا چاہتا ہے تو کوئی دنیا میں خیرسگالی کے لئے ساتھی ملک کو پہاڑی تحفتاً دین کرتا ہے۔ کسی ملک کی افواج دفاع کر رہی ہیں یا دہشت گردی اور شر انگیزی کو ہوا دے رہی ہیں۔ فیس بک اور سوشل میڈیا آپ کو اس سب سے با خبر رکھتے ہیں۔ اور 10، 15 سال قبل ایسا ممکن نہیں تھا۔

7۔ پاکستان میں اس وقت کتنے مسالک جنم لے چکے ہیں جن کی وجہ سے مذہبی رواداری نا پید ہو رہی ہے۔ مذہبی، لسانی اور صوبائی نفرتیں اور تعصبات ہمارے ملک کی جڑیں کس قدر کھوکھلی کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا ہمیں ان موضوعات پر دعوت فکر دیتا ہے اور معاملات پر علم کی بدولت ہماری آراء بہتر کرتا۔

8۔ امریکہ اور انگلستان سمیت ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی رحجانات، معیارات اور پالیسیاں کیا ہیں۔ ہمیں ان سے قدم سے قدم ملانا ہے تا کہ ملک و ملت کے بچوں کی بہتری ہو سکے اس سے آگاہی بھی سوشل میڈیا اور فیس بکی تحریکوں سے ممکن ہوئی ہے۔

9۔ فیس بک کی مدد سے آپ اپنے ہم خیال لوگوں سے کسی بھی وقت کسی بھی علمی یا ذاتی مسئلے پر رائے لے سکتے ہیں۔ ان دوستوں اور رشتہ داروں سے بات کر سکتے ہیں جن سے مصروف زندگی سے خاص طور پر وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ فیس بک کی مخالفت بھی لاؤڈسپیکر، ریڈیو اور ٹی وی کی تاریخی مخالفتوں جیسی ہے۔ اور اس کو حمایت میں بدلنے کے لئے ہمیں ذہنی نشونما کے مزید 20 ارتقائی سال درکار ہیں۔

میری ایک بہت قابل بزرگ سہیلی نبیلہ کیانی نے ایک دفعہ ایک نصیحت کی تھی کہ میں زیادہ سے زیادہ پڑھتی رہوں، پڑھنے سے ذہنی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ میرے حساب سے فیس بک اور سوشل میڈیا ہماری ذہنی نشونما اور بالیدگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لکھاری خواتین وحضرات اس کی حوصلہ شکنی نہ کریں اور ہماری ذہنی و جسمانی بوسیدگی کا باعث نہ بنیں کیونکہ یہ کام ہماری سیاسی و مقتدر قوتیں پہلے ہی زور و شور سے کر رہی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “سوشل میڈیا کی مخالفت؛ پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

  • 25-01-2017 at 2:39 pm
    Permalink

    محترمہ عظمی صاحبہ, ایسا کیجیے کہ میری تحریر کی چند آخری چار پانچ سطور دوبارہ پڑھ لیجیے۔ اور تسلی رکھئے کہ ایسا نہیں ہے ادھرمیں اپنے ذاتی فیصلے اور ان کی بنیاد شئر کروں اور ادھر لوگ میرے نقش قدم پر چل پڑیں, ہر شخص اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔ میرا بلاگ ہمارے معاشرے میں فیس بک کے غلط استعمال کے خلاف ہی تو ہے، سب کچھ صاف اور واضح تو لکھا ہے۔ لاوڈ سپیکر کا بھی جب بے جا استعمال اور بہت شور ہو تو لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، ٹی وی کا چینل بدل لیتے ہیں اور ناپسندیدہ جگہ سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی میں نے ذاتی تجربات اور مشاھدات کی بنا پر فیس بک چھوڑ دی . پھر وہی کہوں گی کہ ہر شخص اپنے فیصلوں میں آزاد ہے بھئی۔ باقی میں ہر وقت آن لائن ہوتی ہوں کیونکہ میری روزی روٹی یہیں ہے۔ معلومات کے لئے بہت اچھے لوگوں کو پڑھتی ہوں، آن لائن بھی اور آف لائن بھی۔ فیس بک پر تو جو معلومات ہیں ان میں سے بیشتر کی درستگی بھی بہت مشکوک ہے اور ان کی تصدیق کے لئے دوبارہ مصدقہ ذرائع ہی استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ فرقہ ورانہ انتشار بھی فیس بک پر ہی دیکھا۔ میرے تو بہت سے مسالک سے بہت اچھے روابط ہیں کیونکہ وہی بات کہ ذاتی زندگی میں ہر کوئی سب کچھ نہیں کہتا۔میں آپ کے چند نکات سے متفق بھی ہوں, یہ نہیں کہ آپ کا ہر نکتہ ہی میرے نظریے میں غلط ہے، مگر اپنے بنیادی موقف پر قائم ہوں کہ یہ ارتقائی دور اپنا وقت لے گا ورنہ یقین رکھیے کہ قائل ہو جانے کی صورت میں میں اپنا نقطہ نظر بدلنے میں کبھی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتی کیونکہ ہم سب ہی سیکھنے اور سمجھنے کےعمل سے گزرتے رہتے ہیں اور بدلتے رہتے ہیں، یہی تو زندگی ہے۔

Comments are closed.