اوراق ناخواندہ



\"\"ڈاکٹر طاہر مسعود صحافت کے استاد اورمحقق ہیں۔ شاعری اورافسانہ نگاری سے خصوصی شغف ہے۔ صبح 3 بجے بیدار ہوتے ہیں اور تخلیقی کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں،اسی لیے ہر سال کئی کتابیں تحریرکرتے ہیں۔ ان کا تازہ ترین کتاب اوراق ناخواندہ (شخصی خاکوں اوردفیات کا مجموعہ) ان کے مختلف شخصیتوں پر لکھے گئے خاکوں اور تاثرات پر مبنی ہے۔
انھوں نے شخصیات کے انتخاب میں ادیبوں، شاعروں،اساتذہ، صحافیوں اورسیاست دانوں کو شامل کیا ہے۔ یہ کتاب 331 صفحات پر مشتمل ہے اور 33 شخصیات کے خاکے اس میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر طاہر مسعود اپنی خاکہ نگاری میں دلچسپی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سچی بات یہ ہے کہ خاکہ نگاری اسی لیے اچھی لگتی ہے کہ مجھے انسانوں سے محبت ہے۔ مجھے دوست تو اچھے لگتے ہیں پر دشمن بھی برے نہیں لگتے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اپنی زندگی میں جن بڑی شخصیات یا عام افراد سے ملا یا متاثر ہوا، جن سے کچھ سیکھا کچھ سمجھا جنہوں نے مجھے ملول و اداس کیا جن کے ذریعے مسرتوں اورکامیابیوں کی نعمتیں ملیں یا جنہوں نے مجھے بگڑا بنایا یہ کتاب اس کی داستان ہے۔ ڈاکٹر طاہر میرے ابی جان کے موضوع پر لکھتے ہیں کہ آٹھویں نویں جماعت میں آیا تو دوستوں کے ساتھ کوئی فلم لگتی تو دیکھنے چلا جاتا۔ سینما گھر سے نکلتے ہوئے ابی جان کے ایک دوست نظر آگئے۔
گزشتہ روز دوپہر کو اماں جان نے اطلاع دی کہ ابی نے بلایا ہے۔ ابی جان نے مجھ سے سوال کیا کہ کل دوپہر آپ کہاں گئے تھے؟ میں چپ رہا،کہا کسی ایسی جگہ گئے تھے کہ بتا نہیں سکتے؟ ادھر پھر خاموشی۔ ابی خان کہنے لگے دیکھو بیٹا اگر تمہیں فلم دیکھنی ہو تو مجھے بتادیا کرو، میں اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے ٹکٹ خریدوں گا اور سب سے اچھی کلاس میں بٹھا کر آو¿ں گا، تم چوروں کی طرح فلم دیکھنے جاتے ہو اور وہ بھی تھرڈ کلاس میں بیٹھ کر دیکھتے ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
طاہر لکھتے ہیں کہ ابی کی یہ نصیحت اچھی لگی اور ایک اعتماد سا آگیا۔ ڈاکٹر طاہر نے ایک اور مزیدار واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اسکول کی چھٹیاں ہوئیں، تینوں بھائی بنگال کے سفر پر نکل گئے۔ سفر سے واپسی پر ابی جان نے ہم تینوں کو ہدایت کی کہ ہم سب اپنے اپنے سفری مشاہدات مضمون کی صورت میں قلم بند کریں، یوں پہلا انعام بڑے بھائی جان خالد مسعود، دوسرا طاہر اور تیسرا ابو جان کے اکلوتے بیٹے اور طاہر کے چچا زاد بھائی شفیق احمد فاروق کو ملا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کوخوبصورت تحریر لکھنے کی عادت اپنے چچا سے پڑی۔
طاہر مسعود اور ان کا خاندان 1971ء میں بنگلہ دیش میں ہونے والی خانہ جنگی کی بنا پر پاکستان ہجرت کرآیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ راج شاہی میں قومی انتخابات کے بعد آسمان پر ایک جھاڑو نما دم دار ستارہ رات کو نمودارہوجاتا تھا۔ بڑے بوڑھوں کی رائے تھی کہ یہ منحوس ستارہ ہے، اب ضرور شہر پر کوئی افتاد ٹوٹنے والی ہے اور ایسا ہی ہوا۔ گھر پر فائرنگ ہوئی۔ طاہر نے فٹ نوٹ میں عظیم دانش ور برٹرنڈر رسل کی کتاب کا حوالہ دیا ہے کہ ایسے غیر معمولی جھاڑو نما یا دار دار تاروں کو زمینی آفات یا کسی بادشاہ کی موت کی پیش گوئی سے تعبیرکرتے تو اسے توہم پرستی قرار دیا گیا۔
پھر مشرقی پاکستان میں کشت خون کے دوراں جانوروں کے رونے اور چلانے کی آوازوں کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ آخر رسل کی سائنس اس مشاہدے و تجزیے کو تسلیم کرنے سے کیوں منکر ہے ؟ طاہر مسعود کو توہم پرستی کی تشریح کرنے کے بجائے ان وجوہات کا ذکر کرنا چاہیے جن کی بنا پر اکثریتی آبادی والے بنگالی پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔
ایسی آوازیں ان ممالک میں لوگوں پر اثرانداز نہیں ہوتیں جہاں جمہوری نظام مستحکم ہے اور اکثریت کو حکمرانوں کو منتخب کر کے اور ان کے احتساب کا حق ہے۔ طاہر راج شاہی چھوڑنے کا سبب یہ بیان کرتے ہیں۔ عزیز کی ایک صاحبزادی جو نہایت حسین و جمیل تھی اس سے ایک فوجی جوان نے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے۔ ابی جان نے مجبور ہوکرکراچی رخصت سفر باندھنے کا فیصلہ کیا۔ طاہر مسعود کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سچائی کی راہ سے نہیں ہٹتے تو انھوں نے ایک تلخ حقیقت کو بہادری سے بیان کردیا۔
ڈاکٹر طاہر مسعود دائیں بازو کے دانشور اور ادیب سلیم احمد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ قمر جمیل اور سلیم احمد یہ دونوں حضرات ریڈیو سے وابستہ تھے یا ہم گہرے دوست لیکن مزاج ، بات اور عادات و اطوار میں جدا … تین سال تک کہ ادبی نظریات میں بھی ایک کے پاس شمال کی خبر ہوتی تھی تو دوسرے کے پاس جنوب کی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب قمر بھائی نے اردو میں نثری نظام کو متعارف کرانے کی ایک دھواں در تحریک چلا رکھی تھی۔ طاہر لکھتے ہیں کہ جنرل ضیائ الحق نے جماعت اسلامی کے محمود اعظم فاروقی کو وزیر اطلاعات بنایا تو انھیں مشیر اطلاعات و نشریات مقررکیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سلیم بھائی کو اس بات کا شکایت رہی کہ ان کے دور مشیری میں شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کو دینی اعتبار سے قابل اعتراض کلام کی بنائ پر ریڈیو اور ٹیلی وڑن پر ”بین“ کیا گیا۔ جوش صاحب کو صفائی کا موقع دیے بغیر ہی پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔
کاش سلیم احمد شاعر انقلاب کی اس توہین پر مشیر اطلاعات کی حیثیت سے مستعفی ہوجاتے۔۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ جالبی صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ بڑی بات سوچی، بڑے علمی وادبی منصوبوں پر ہاتھ ڈالا اور بیان کردہ اپنے اوصاف کی وجہ سے انھیں تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔وہ معروف ادیب انتظار حسین ایک پہلو یہ بھی تھا کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ وہ چند ادیب جنہوں نے اپنی تخلیقات کے طلسم میں ابتدائ ہی سے مجھے جکڑے رکھا، ان میں انتظارحسین کا نام سرفہرست ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے دورِ حاضر کے مزاحیہ نامہ نگار مشتاق احمد یوسفی کا خاکہ کا آغاز یوں کیا ہے کہ ہم اردو مزاج کے عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں۔ یہ مشہور فقرہ ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کا ہے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے خود یوسفی صاحب کی کتابوں پر چھپتا رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر لکھتے ہیں کہ لیکن مجھے اس فقرے سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔
ڈاکٹر طاہر مسعود شمیم احمد سچے انسان ، بے لاگ ادیب کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ شمیم بھائی بھی ایک ہی تھے، ان جیسا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ بے لاگ اور دو ٹوک بات کرنے والے،کبھی مصلحت کو خاطر نہ لانے والے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن دنوں ایم کیو ایم کا عروج تھا شمیم بھائی اکثرکلاسوں میں ان کی ”مہاجر دوستی“ کے ڈھول کا پول کھولتے رہتے تھے۔ان ہی دنوں کا واقعہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایک اخباری بیان میں یہ کہہ دیا کہ سلیم احمد اور شمیم احمد سے میری رشتے داری ہوتی ہے۔ یہ پڑھ کر شمیم بھائی ایسے غضب ناک ہوئے کہ عینی (سلیم بھائی کی بیٹی) سے کہا کہ ابھی اسے فون کرکے کہو کہ اس جھوٹ کی تردید کردے۔
دو ایک دن بعد وضاحتی بیان آگیا۔ وہ معروف ادیب جمیل الدین عالی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ عالی جی جو رائٹرزگلڈ کے سیکریٹری تھے ان دنوں جوانی کے نشے میں سرشار اپنی شخصیت میں پائی جانے والی محبوبیت کے سبب ادیبوں اور شاعروں کی آنکھ کا تارا تھے۔ انھوں نے آدم جی اور سیٹھ داو¿د سے بات کرکے انعامات کا اجرائ کیا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے اپنی کتاب میں اپنے استاد پروفیسر شریف المجاہد، ڈاکٹر معین الدین عقیل، افتخارعارف، پروین شاکر، ذکائ ارلحمن، جمال احسانی، الطاف حسن قریشی، مجید نظامی، ابن الحسن، فرہاد زیدی، نیر علوی، پروفیسر غفور، معراج محمد خان، حسین حقانی، فوزیہ وہاب، حکیم محمد سعید، ڈاکٹر شکیل اوج، عظمت علی خان اور شہلا احمر وغیرہ پرخاکے تحریرکیے مگر معراج محمد خان ے بارے میں خاکہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ طاہر مسعود کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے نمایاں رہا مگر انھوں نے بائیں بازو کے رہنما معراج محمد خان پر سب سے زیادہ مو¿ثر خاکہ تحریر کیا۔
طاہر نے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور معراج محمد خان کے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حفیظ پیرزادہ کی وزارت اطلاعات کے خلاف جب پاکستان ٹیلی وڑن پر جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے کی فلم پر ردعمل ہوا تو وزارت مولانا کوثر نیازی کے حوالے کی گئی جس کی وجہ سے بھٹو اور معراج محمد خان ایک دوسرے سے دور ہوگئے۔ طاہر کا یہ مشاہدہ معروضی صورتحال کے مطابق نہیں ہے۔ بھٹو صاحب اور معراج محمد خان کے درمیان اختلافات کی وجوہات انتہائی گہری تھیں۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے سادہ سلیس جملوں کے ذریعے مختلف شخصیات کے خاکے تحریر کیے ہیں۔ طاہر کے استدلال سے اتفاق کرنا ضروری نہیں مگر کتاب کے مطالعے سے ذہن کو سوچنے کا مواد ملتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے یہ کتاب زیادہ اہم ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر توصیف احمد خان کی دیگر تحریریں