پاپولرازم عرف مقبولیت پسندی


\"\"پہلی مثال۔ ایک سیمینار میں تقاریر ہو رہی تھیں، مقررین میں ریٹائرڈ بیورو کریٹس سے لے کر تیس مار خان اینکر پرسنز تک سبھی شامل تھے، اکا دکا مجھ ایسے نالائق بھی تھے جن کی باری یوں تو بہت پہلے آنی چاہئے تھی پر منتظمین نے نجانے کیا سوچ کر میرا نمبر بعد میں رکھا۔ ایک لحاظ سے اچھا ہی ہوا کیونکہ مجھے تمام لوگوں کے خیالات عالیہ جاننے کا موقع مل گیا، مجھ سے پہلے ایک ریٹائرڈ خاتون جج تقریر کر رہی تھیں، لب لباب اس تقریر کا یہ تھا کہ ملک میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں، ہر طرف سفارش اور کرپشن کا کلچر ہے، کسی محکمے میں پیسے دیئے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، ہر طرف لوٹ مچی ہے، اقربا پروری کا دور دورہ ہے، ملک تباہ ہو رہا ہے (یا غالباً ہو چکا ہے)، بس اعلان ہونا باقی ہے۔ ظاہر کہ اس تقریر کے عوض محترمہ نے بے انتہا تالیاں سمیٹیں جس سے ا±ن کے چہرے پر تادم تقریر مسکراہٹ قائم رہی۔
دوسری مثال۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں حکومتی وزیر شریک تھے، ا±ن کے ساتھ ایک نوجوان دانشور ٹائپ صاحب تھے، دانشور ٹائپ اس لئے کیونکہ انہوں نے بال خواہ مخواہ بڑھا رکھے تھے، پروگرام کے میزبان نے پہلا سوال حکومتی وزیر سے سی پیک کے بارے میں کیا، جس کے جواب میں وزیر موصوف نے ایک مختصر سی تقریر فرمائی جس سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سی پیک سے اعلیٰ منصوبہ کرئہ ارض پر اس سے پہلے کبھی بنا ہے اور نہ آئندہ بننے کا کوئی چانس ہے۔ دوسرا سوال میزبان نے نوجوان دانشور سے پوچھا کیا آپ اس سی پیک تھیوری سے متفق ہیں! جواب میں انہوں نے ایک ”کھنگورا“ بھرا اور کہا کہ سی پیک کا تو پتہ نہیں البتہ یہ بات طے ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی شخص کرپشن، سفارش، ٹیکس چوری، بے ایمانی، سمگلنگ، زمینوں پر ناجائر قبضے، غنڈہ گردی، چاپلوسی، دروغ گوئی، فراڈ، غریب کے استحصال اور دھوکے بازی کے بغیر امیر اور کامیاب تو کیا خوشحال بھی نہیں ہو سکتا، یہ سارا نظام غریب اور پسے ہوئے طبقے کے خلاف ایک گھناﺅنی سازش ہے، جب تک یہاں سوشلسٹ انقلاب برپا کرکے اشرافیہ کے ہاتھ سے طاقت چھین کر غریبوں کے ہاتھ میں نہیں دی جائے گی، کچھ نہیں بدلے گا۔
تیسری مثال۔ اس مثال کا پہلی دو مثالوں سے واجبی سا تعلق ہے، یہ آپ کی تفنن طبع کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔ ایک صاحب جو ساٹھ کے پیٹے میں ہیں، شلوار قمیص میں ملبوس، تانگے پر سوار، ہاتھ میں بھونپو پکڑے تقریر فرما رہے ہیں، یہ ضلع قصور کا کوئی بازار ہے جہاں موصوف کی تقریر سننے کے لئے دوچار بچے جمع ہیں، ا±ن کے ساتھ اکا دکا لوگ مزید شامل ہو جاتے ہیں اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ ”مجمع“ دس افراد تک پھیل جاتا ہے۔ اِس تقریر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ میں ایک عام آدمی ہوں، میں ایک اچھا آدمی ہوں، آپ بھی عام آدمی ہیں لہٰذا آپ بھی اچھے آدمی ہیں، آیئے دونوں مل کے یہ نظام تبدیل کریں۔ واضح رہے کہ جس نظام کو موصوف تبدیل کرنے چلے ہیں، لگ بھگ پینتیس برس تک وہ اس نظام کا حصہ رہے اور بطور چیف سیکریٹری پنجاب ریٹائر ہوئے۔ اب انہوں نے یہ ایک پارٹی بنائی ہے جس کا نام تو نجانے کیا ہے مگر وہ اسے عام آدمی پارٹی قسم کی کوئی چیز بتا رہے ہیں۔ ڈی ایم جی (مشہور زمانہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ) کی معراج شاید یہی ہے۔
پاکستان میں یار لوگوں نے ایک عجیب و غریب وتیرہ بنا لیا ہے، ملک کی جی بھر کے برائی کرو، اسے دنیا کا ناکارہ ترین ملک بنا کر پیش کرو، عوام میں مایوسی پھیلاﺅ، کرپشن کی دہائی دو اور یہ پروپیگنڈا کرو کہ کہیں بھی میرٹ نہیں…… مگر خود کو اِن برائیوں کا حصہ دار نہ کہو۔ جن قابل ا حترام جج صاحبہ نے یہ کہا کہ ملک میں کہیں بھی میرٹ نہیں اگر خود ا±ن سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کی تقرری بطور جج میرٹ پر نہیں ہوئی تھی تو جواب ا?ئے گا کہ میں تو سب سے قابل تھی اس لئے چن لی گئی۔ جس نوجوان دانشور کا یہ کہنا تھا کہ اس ملک میں کوئی شخص بغیر کرپشن کے خوشحال زندگی نہیں گزار سکتا، اگر خود ا±س سے پوچھا جائے کہ پھر آپ نے کتنی کرپشن کی تو جواب آئے گا کہ نہیں میں تو ایماندار ہوں۔ یہ عجیب تماشا ہے کہ ایک طرف ہم لوگ یہ رونا روتے ہیں کہ ملک میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں مگر اسی سانس میں یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا کی بہترین فوج پاکستان کی ہے جو درست بات ہے۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر طرف اقربا پروری کا راج ہے مگر
اس بات کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں کہ پھر ہر سی ایس پی افسر کا بیٹا خود بخود افسر بھرتی کیوں نہیں ہو جاتا۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ بغیر سفارش کے اِس ملک میں کوئی کام نہیں ہوتا مگر ساتھ ہی ہم اخبارات میں جہازی سائز کے پر کشش آسامیوں کی بھرتی کے اشتہارات بھی دیکھتے ہیں جن میں وہ لوگ درخواست جمع کروانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے جو اس بات کا واویلا کرتے ہیں کہ قابلیت کو کوئی نہیں پوچھتا۔ چلیں مان لیا سفارش بھی چلتی ہے، کرپشن بھی ہے، اقربا پروری بھی ہے، لاقانونیت بھی ہے، مگر اسی ملک میں ایک وزیر اعظم پھانسی پر جھول گیا، ایک نا اہل ہوا، ایک عدالت کے سامنے جوابدہی کر رہا ہے اور ایک ڈکٹیٹر بغاوت کے مقدمے میں مفرور ہے لیکن عوام میں سستی شہرت کے لئے یہ بیانیہ بیچنے سے ہم باز نہیں آتے کہ یہاں قانون صرف غریب کے لئے ہے۔ یہ سودا چونکہ ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اس لئے ہر کوئی یہی چھابہ لگانا پسند کرتا ہے کہ یہاں کوئی نظام نہیں۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ بھیا رشوت لینے والا تو ظالم ہوا تو دینے والا مظلوم کیسے ہو گیا! پاپولرازم کی اِس رو میں ہم سب بہتے جارہے ہیں جبکہ اصل کام دریا کی مخالف سمت میں تیرنا ہے، اس کی ہمت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کلثوم نواز کا الیکشن: وجوہات یہ ہیں

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 150 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada