’آخری آدمی ‘ہوا رخصت


ghafferکم و بیش بانوے سال ایک ماہ اور دس دن کی طویل عمر پانے والے بر صغیر پاک و ہند کے معروف افسانہ نگار انتظار حسین اس دنیا سے رخصت ہو گئے،ان کی نماز جنازہ 3 فروری 2016 کو دوبجے دوپہر قومی مرکز خواجگان شادمان لاہور میں ادا کی گئی جہاں’ سید انتظار حسین ولد سید منظر علی‘ کی مغفرت کے لیے دعا کرنے والوں میں لاہور ، کراچی اور اسلام آباد سے بے شمار ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی۔ انتظار حسین کوئی مذہبی آدمی نہیں تھی مگر تین پشتوں سے چوں کہ ان کے آبا مسجد کے پیش امام رہے اور والد ان کو چوتھی پشت میں بھی پیش امام بنانا چاہتے تھے مگر ان کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ آپ کے والد نے آپ کا نام محمد رکھا، آپ نے جو افسانوی مجموعہ اپنے بھانجے کو لکھ کر پیش کیا اس پر اپنا نام ”محمد انتظار حسین“ ہی لکھا جو آپ کے بھانجے کے پاس آج تک محفوظ ہے، گویا ابتدا میں ہی آپ کی شخصیت تضادات کا شکار ہو گئی تھی۔ طبیعت میں یہ تضاد ان کی تحریروں میں آخری دم تک رہا، جس نے آپ کے کالموں میں نظریاتی سطح پر اختلاف کی صورت اختیار کر لی تھی، آپ صفدر میر (زینو) سے لے کر مستنصر حسین تارڑ تک، اپنے انہی اختلافات اور تضادات کے ساتھ زندہ رہے، یہی آپ کی توانائی تھی، اور ان اختلافات کی بنیاد پر آپ نے اپنی تحریروں میں خود کو آخر دم تک زندہ رکھا۔آپ نے ترقی پسند تحریک اور اس کے فعال کرداروں کے خلاف بے شمار دفعہ لکھااور آخری سانس تک اپنے موقف پر قائم رہے۔
اردو ادب میں انتظار حسین کی طویل تخلیقی زندگی ایک روشن باب کی طرح ہے جس نے ابھی منکشف ہونا ہے۔ عبداللہ حسین اور قرة العین حیدر کی طرح وہ بھی خوش قسمت ہیں کہ انہیں ابتدائی برسوں میں ہی شہرت اور مقبولیت مل گئی تھی۔ان پر ماضی پرستی کا الزام لگتا رہا، ہجرت کے موضوع سے وہ عمر بھر باہر نہیں نکل سکے، بہت سے ناقدین اس بات پر متفق ہیں۔ انہوں نے اپنے دو ناولوں (آگے سمندر ہے اور بستی)، ایک ناولٹ(دن اور داستان) اور خود نوشت میں بھی ایک ہی کہانی کو زمانی اعتبار سے ایک مگر مکانی اعتبار سے الگ الگ پیش کیا جس پر ظفر اقبال اور ان جیسے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انتظار حسین کے اپنے پاس کہانی نہیں تھی۔ اسی لئے انہوں نے دیو مالائی داستانوں اور جاتک کہانیوں کا سہارا لیا۔ یہ باتیں ان کی زندگی میں کہی جاتی رہیں۔ اب ان کے وصال کے بعد چوں کہ ان کا تخلیقی سفر اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، اس لئے اب نقادوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتظار حسین کے کام کو کلی تناظرمیں دیکھیں، پرکھیں اور اس پر لکھیں۔

Intazar-730x548انتظار حسین حلقہ ارباب ذوق کے رکن تھے۔حلقہ کو فعال بنانے والوں میں ان کا بھی نام تھا۔یہ الگ بات کہ آخری برسوں میں وہ حلقہ ارباب ذوق کو مردہ گھوڑاکہنے لگ گئے تھے اور اس بات کا برملا اظہارکرتے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حلقہ تو تب ہی مرحوم ہو گیا تھا جب وہ اور ان کی ٹولی پاک ٹی ہاﺅس میں بیٹھا کرتی تھی۔ یہ 1994ءکی بات ہے کہ جب اعجاز رضوی الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہوا۔ اسرار زیدی اور انتظار حسین نے اعجاز رضوی پر دباﺅ ڈالا کہ وہ الیکشن نہ لڑے اور سہیل احمد خان کو بلامقابلہ سیکرٹری حلقہ منتخب کروا دیا جائے۔ اعجاز رضوی اس بات پر متفق نہ ہوا اور کہا کہ الیکشن تو ہو گا۔ اس بات پر سہیل احمد خان نے کہا کہ اعجاز رضوی کو جو ادیب اور شاعر سپورٹ کر رہے تھے، ان کی تعداد زیادہ ہے اس لئے وہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ اسرار زیدی اور انتظار حسین احمد ندیم قاسمی صاحب کے پاس پہنچے اور ان کو کہا کہ وہ اعجاز رضوی کو الیکشن لڑنے سے روکیں۔ احمد ندیم قاسمی صاحب نے الیکشن لڑنے کو اعجاز رضوی کا جمہوری حق قرار دے کر اسے روکنے سے معذرت کر لی۔اس پر اسرار زیدی بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے سہیل احمد خان کی جگہ پر اشفاق رشید کو الیکشن میں کھڑا کردیا۔الیکشن ہوئے، ووٹوں کی گنتی ہوئی تو دونوں کے ووٹ برابر نکلے۔ الیکشن کمشنر یونس جاوید نے ٹاس کرنے کے لئے کہا، اس پر اعجاز رضوی متفق نہ ہوا اور اگلے اتوار کو دوبارہ الیکشن ہوئے اور یوں اشفاق رشید کے 72 ووٹوں کے مقابلے میں 110 ووٹ لے کر اعجاز رضوی حلقہ کا سیکرٹری منتخب ہوگیا۔ اس الیکشن کے بعد سینئرز ادیبوں کی اس ٹولی نے اجلاس میں شرکت کرنا چھوڑ دیا۔

اسی سال حلقہ کے ایک اجلاس میں صدارت افتخار بخاری نے کرنا تھی، وہ نہ پہنچے تو اعجاز رضوی نے انتظار حسین کی ٹولی میں بیٹھے سینئرز کو صدارت کے لئے استدعا کی مگر کوئی بھی اس کے لئے تیار نہ ہوا۔ اسی اثنا میں اظہر جاوید پاک ٹی ہاﺅس میں داخل ہوئے اور ندرت الطاف کے پاس بیٹھ گئے۔ اعجاز رضوی نے اظہر جاوید سے بھی کہا مگر انہوں نے بھی رضامندی ظاہر نہ کی۔ انتظار حسین اس وقت حلقہ کو ’مردہ گھوڑا‘ کہتے تھے اور مظفر علی سید نوجوانوں کو ’کاکروچ ‘کہا کرتے تھے۔اجلاس شروع ہونے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ حلقہ کے اجلاس کی صدارت کے لئے کوئی سینئر ادیب تیار نہیں ہو رہا تھا۔اعجاز رضوی بار بار انتظار حسین کی ٹولی کی میز پر آتے اور فرداً فرداً ہر ایک سے اجلاس کی صدارت کی استدعا کرتے رہے مگر یار لوگ باتوں میں ایسے محو تھے کہ کوئی بالائی منزل پر جا کر اجلاس کی صدارت کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھا۔ ازراہِ مذاق کسی نے جملہ چھوڑا، اور پاک ٹی ہاﺅس کے بیرے رفیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کو صدارت کے لئے لے جائیں۔ اعجاز رضوی جو اس ٹولی کے روئےے سے نہایت دلبرداشتہ ہو چکاتھا، اس نے رفیع سے کہا کہ وہ چائے کے برتن کچن میں چھوڑ کر اوپر آ جائے اور اجلاس کی صدارت کرے۔حلقہ کے اس اجلاس کی صدارت پاک ٹی ہاﺅس کے بیرے نے کی اور صدارتی منصب خوب نبھایا۔اعجاز رضوی جب نیچے آیا تو اس بات پر انتظار حسین اور ان کی ٹولی سیخ پا ہوئی اور سخت ناراضی کا اظہا رکیا۔ انتظار حسین نے کہا کہ حلقہ کے اجلاس کی صدارت اگر بیرے نے کرنا ہے تو ہم کس لئے بیٹھے ہیں۔ اس پر اعجاز رضوی نے برجستہ جملہ کہا ’آپ چائے لے کر اوپر آئیں‘۔ انتظار حسین سخت برہم ہوئے مگر ساتھ ہی ان کی ٹولی کے لوگوں کی ہنسی نکل گئی۔ ا س کے بعد شاید ہی کبھی انتظار حسین یا ان کی ٹولی کے کسی فرد نے حلقہ کے اجلاس کی صدارت کی ہو۔جب تک پاک ٹی ہاﺅس کھلا رہا، انتظار حسین اپنی ٹولی کے ساتھ یہاں باقاعدگی سے بیٹھتے رہے۔ پاک ٹی ہاﺅس کی بندش کے بعد انتظار حسین، مسعود اشعر، زاہد ڈار، اکرام اللہ،ایرج مبارک و دیگر دوستوں نے جیل روڈ پر واقع نیرنگ آرٹ گیلری میں بروز اتوار شام بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ بیٹھک کا یہ سلسلہ آخر دم تک موقوف نہ ہوا۔

انتظار حسین اب ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی بھر پور زندگی اور اس سے جڑے بے شمار واقعات ان کی ادبی خدمات کے علاوہ بھی انہیں علمی و ادبی حلقوں میں زندہ رکھیں گی۔ ان کی وفات کے بعد حلقہ ارباب فنون لطیفہ، انجمن ترقی پسند مصنفین، حلقہ ارباب ذوق، چوپال، الحمرا آرٹس کونسل لاہور ، اکادمی ادبیات لاہور میں اور کئی ادبی تنظیمیں کراچی، اسلام آباد، ملتان و دیگر شہروں میں تعزیتی ریفرنس کروا چکی ہیں۔ انتظار حسین کے دم قدم سے علمی و ادبی حلقوں میں رونقیں تھیں۔ وہ جس تقریب میں موجود ہوتے، اس تقریب کا وقار بلند ہو جاتا۔ان کی موجودگی میں تقریب میں شرکت کرنے والے ادیب، شاعر خود کو معتبر سمجھنے لگتے۔ اب یہ احساس دوبارہ نہ ہو سکے گا۔ ہماری نسل تو ان بڑی علمی و ادبی شخصیات کے بچھڑ جانے پر صرف ماتم کرنے کے لئے رہ گئی ہے۔ ایک دہائی میں ایسی ایسی بڑی شخصیات کے اتنے جنازے اٹھے ہیں کہ آنکھیں اشکبار ہیں اور ہم سوگوار ہیں۔یتیمی کا یہ وہ دکھ ہے جو نو عمری میں ہمیں سہنا پڑ گیا ہے۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ احمدندیم قاسمی، قتیل شفائی، شہزاد احمد، منیر نیازی، عبداللہ حسین، انتظار حسین، اشفاق احمد ، ممتاز مفتی، خالد احمد، نسرین انجم بھٹی جیسی قد آور اور معتبر شخصیات ہمارے درمیان سے یوں آگے پیچھے اٹھ جائیں گی کہ روتے روتے ہماری آنکھیں خشک ہو جائیں گی۔

’آخری آدمی‘ ہوا رخصت!
جتنی گزری، وقار میں گزری


Comments

FB Login Required - comments