سوالوں کے سائے میں بلاول کی قیادت


\"\"”امید کا قتل“ عنوان ہے اور یہ سندیسہ ہے آج کی صحافت میں عملاً موجود ایک عامل صحافی کا۔ موضوع بلاول بھٹو زداری کو بنایا گیا، تشویش پیپلزپارٹی کی قیادت کے حوالے سے بلاول کی صورتحال سے ہے۔ پہلے آپ یہ خط مفصل ملاحظہ فرمالیں گفتگو بعد میں کریں گے۔ خط میں صرف ایک لفظ تبدیل کیا گیا ہے، تحریر کے سلسلے میں ذہنی اخلاقیات پر ضرورت سے زیادہ گراں تھا۔ ان کی رائے میں:
”محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی نے برسراقتدار ا?ٓر اپنی حکومت کی پانچ سالہ مدت تو پوری کرلی لیکن اس کے خمیازہ کےطور پر ایک طویل عرصہ کے لئے سیاست سے ناک آﺅٹ ہوگئی۔ چاروں صوبوں کی زنجیر اور وفاق کی علامت ملک گیر جماعت سندھ کی لوکل پارٹی بن کر رہ گئی۔مصالحت کا نعرہ بلند کرنے والے آصف علی زرداری نےاپنی سیاست اور بھٹو کی عوامی جماعت کو مکمل طور پر مصلحت سے دوچار کردیا۔ بالآخر تین سال گزر جانے کے بعد بھٹو اور بی بی کے وارث کے طور پر بلاول بھٹو کو زرداری کالاحقہ لگا کر میدانِ سیاست میں اتارا گیا۔ جس کا مقصد ہمدردی اور بھٹو ازم کے نام پرووٹرز کودوبارہ اپنی طرف راغب کرنا تھا۔
لیکن ستم ظریفی یہ کہ بلاول کو سیاسی اکھاڑے میں اتارنے کے ساتھ ہی ان کے استاد اوروالد محترم آصف زرداری نے انہیں ناپختہ کار قرار دے کر رنگ سے باہر بلا کر منظرعام سے غائب کردیا۔ یہ بلاول سے متعلق پہلی سیاسی غلطی تھی۔ بعد ازاں اس غلطی کااحساس کرتے ہوئے بلاول کو تمام تر جارحانہ رویئے سے لیس کرکے آزمودہ اور تجربہ کار سیاستدانوں کے مقابل لاکھڑا کردیا گیا۔ جس نے اپنی منحنی آواز میں مولاجٹ بن کردھواں دھار انٹری دے ڈالی۔ یہ گھن گرج بلاول کی نوجوان شخصیت سے کسی طور میچ نہ کرپائی۔ کمزور اردو، نامناسب لہجہ اور بے تکی تقریروں میں جذبات کی بھرمار نے ایک تعلیم یافتہ سنجیدہ سیاستدان کی بجائے ایک لاا±بالی اور اکھڑ لڑکے کے روپ میں بلاول کی شخصیت کو بری طرح کچل دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بینظیر کی تربیت انہیں اپنے ساتھ رکھ کر کی تھی جبکہ بلاول کو یہ اپرچونٹی میسر نہ آسکی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ زیرک اورقابل سیاسی اساتذہ کی زیرنگرانی پیپلزپارٹی کے اس اکلوتے وارث کی گرومنگ کی جاتی۔ تحریر و تقریر کے فن اور سیاسی داﺅ پیچ اور نشیب و فراز سے مکمل آگاہی فراہم کی جاتی لیکن لگتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں کیاگیا۔
پچھلے دنوں بلاول بھٹو نے حکومت کے خلاف باقاعدہ لانگ مارچ کی تاریخ دے کر سیاسی ماحول کو خوب گرمایا اور باوجود ہزار خرابی بسیار پیپلزپارٹی کے مایوس جیالوں میں تھوڑی بہت ہلچل پیدا ہوئی لیکن آصف علی زرداری کی پاکستان واپسی کے بعد لانگ مارچ کے بجائے ضمنی انتخاب کے ذریعے اسمبلیوں میں جانے کا اعلان کردیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بلاول نے ایک بار پھر پنجاب کارخ کرکے لاہور تا فیصل آباد عوامی ریلی کی قیادت کی جو بظاہر لانگ مارچ کامتباد ل تھی۔ لیکن یہ پاورشو قطعاً متاثر کن تھا نہ ہی اس میں کی گئی بلاول بھٹو کی تقریر میںٹھوس بات کی گئی۔ گھسے پٹے الزامات اور خالی خولی نعروں کے سوا عوام کے پلے کچھ بھی نہ پڑا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اتنی تجربہ کارا ور سیاسی مہارت رکھنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے پاس کوئی ایسی ٹیم نہیں جو بلاول بھٹو کو پارٹی کے اصل وڑن سے روشناس کراتے ہوئے ان کا میچور امیج عوام میں اجاگر کرے۔ کیا رضا ربانی، اعتزاز احسن، قمر الزمان کائرہ اور پیپلزپارٹی کے اعلیٰ ترین اذہان بھی پارٹی قیادت (آصف زرداری +فریال تالپور) کے سامنے جرات اظہار نہیں رکھتے۔ بلاول بھٹو پنجاب میں ایک دو ریلیوں کی قیادت کے بعد بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے جبکہ آصف زرداری پہلے ہی پاکستان سے باہر ہیں۔ اس طرح ایک بار پھر خوب گھن گرج کے بعد میدان خالی ہوجائے گا۔
پیپلز پارٹی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر پہلے اپنے تنظیمی ڈھانچہ کو ازسرنو تشکیل دے کر پارٹی ورکروں میں ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرے۔ عام جیالے کو پارٹی قیادت تک رسائی دے کر گراس روٹ لیول کے مسائل سنے اور انہیں حل کرے اور ان کا سیاسی اعتماد بحال کرے تاکہ یہ ورکرز سٹریٹ پاور جمع کرنے کے قابل ہوسکیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور قیام کے دوران بھی لانگ مارچ کا اعلان کرنے والے بلاول بھٹو ایک گھر میں ہی مقید رہے۔ بلاشبہ انہیں سکیورٹی تھریٹس موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ عوام میں آئے بغیر آپ اپنے آپ کوکیسے عوامی لیڈر بنا پائیں گے جبکہ آصف زرداری تک عام تو کیا خاص لوگوں کی رسائی بھی ناممکن ہے۔ ویسے بھی آصف زرداری کو کسی طرح بھی عوامی لیڈر نہیں کہاجاسکتا۔ بلاول سے متعلق پارٹی پالیسی دیکھ کر جانے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کی اس آخری امید کاقتل اس کے اپنوں کے ہاتھوں سے ہو رہا ہے“!
سندیسہ ختم ہوا، جس فکری جہت کی نمائندگی ان صاحب کے خیالات میں نظر آتی ہے ایک تو اس میں وہ ”اقلیت“ نہیں ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان کے تناظر میں قوم مجموعی طور پر پی پی کے احیائے نو کی حسرت میں مبتلا ہے، زیربحث مندرجات میں اس ذہنی کیفیت کو سامنے لا رہے ہیں، لیکن؟
”لیکن“ سے ہی گڑبڑ شروع ہوتی ہے۔ ہر گڑبڑ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پس منظر میں حقائق کو سر کے بل دیکھنے کا بدقسمت ترین فکری تسلسل ہے۔ یہ بدقسمتی ایک طرح سے ایسے مخلصین کو محیط کئے ہوئے ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی کے احیائے نو کی حسرت میں مبتلا ہیں۔ مزید حرماں نصیبی کے طور پر اس بدقسمت فکری تسلسل میں ان دانشوروں کی اکثریت کو بھی شامل کرلیں جو ملک میں جمہوری طرز حکمرانی کو بار بار منسوخ، معطل اور تبدیل کرنے کے نظریاتی اور سازشی اقدامات کے نقصان سے پوری طرح آگاہ ہیں، وہ پاکستان کے دولخت ہونے کو براہ راست صرف اورصرف جمہوری اصولوں سے روگردانی اور ان کی نافرمانی کا نتیجہ ہی سمجھتے ہیں۔ مگر وہ بھی ”حقائق کو سر کے بل دیکھنے کے“ نظریاتی قیدی ہیں!
آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار، قومی انتخابات کے نتائج کی روشنی میں برسراقتدار منتخب حکومت نے تمام تر آئینی تقاضوں اور کلچر کے مطابق اقتدار منتقل کیا۔ جمہوری پارلیمانی نظام کے مخالف درماندہ حالت میں جبکہ اس نظام کے حامیوں اورترجمانوں کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل میں دبنگ لب و لہجے کے جمہوری یقین و ایمان کی جھلکیاں ہیں، پاکستانی عوام مدتوں بعداپنے مقدر کے ا±فق پر عزت اور آزادی کا سورج مسلسل طلوع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ناقدین کی خدمت میں!

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔