فاسٹ باؤلروں کی چالاکیاں


\"\"

پشاور کے ایک مشہور فاسٹ بالر تھے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میں ایک بار پانچ وکٹیں لے بیٹھے۔ قومی ٹیم میں شامل رہے تھوڑا عرصہ لیکن کرکٹ بورڈ میں افسری کرتے عمر بتا دی۔ ایک فسٹ کلاس میچ کے دوران موصوف کو نہایت تسلی سے مار پڑی۔ ان کو اتنے چوکے چھکے لگے کہ انہیں کرکٹ سے نفرت ہو گئی ہو گی۔

ہمارے مشر کی ممتا کبھی کبھار ہی جاگتی ہے۔ جب جب جاگی ہے اس کی اپنی تو پھر بہترین ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ والوں کی بھی برابر ہوئی ہے۔ ساتھ والوں کو محسوس زیادہ ہوتی ہے کہ ان کا قصور کوئی نہیں ہوتا۔ مشر نے پشوری فاسٹ بالر کو گدڑ کٹ کھاتے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ ہم سب کو حکم دیا کہ اج اور ابھی سب اسی سے جا کر آٹو گراف لیں گے۔ یہ ہمارے شہر کا ہے۔ یہ کٹ کھائے یا کسی کو پھینٹی لگائے ہمیں اس سے پیار ہے۔

مشر نے ممتا بھرا منہ بنایا اور ہماری قیادت کرتے ہوئے آٹو گراف لینے چلا گیا۔ ہمارے پشوری فاسٹ بالر کو آگ لگ گئی جب اس سے آٹو گراف مانگا مشر نے۔ اس نے کاپی دور پھینک دی۔ اول فول بکنے لگا اور خوب گالیاں دیں۔ اس دن اس کی ہمارے ہاتھوں ٹھکائی ایسی ہونی تھی کہ کرکٹ بورڈ میں افسری رہ جاتی اس کی۔ لیکن پولیس آ گئی درمیان میں۔

فاسٹ بالر ایسے ہی جذباتی سے ہوتے ہیں۔

ہم نے جب اپنی محلے کی کرکٹ ٹیم بنائی تو اس میں پورے آٹھ دانے فاسٹ بالر جمع کر لئے تھے۔ جیمز تھا جو پہلے اوور کی پہلی بال سے بیٹسمین کے سر کا نشانہ لگاتا تھا۔ شنواری تھا جو شاٹ پچ بال تو کراتا ہی تھا ساتھ بیٹسمین کو دھمکیاں بھی دیتا تھا۔ اس زان ٹنگ کا راتہ یعنی اب ذرا تگڑا ہو جاتا کدھر ہے۔ کوہستان کا امین ہوتا تھا جو چپ چاپ آتا تھا اور بیٹسمینوں کی گٹے توڑ بالیں کراتا رہتا تھا۔ مروت تھا جو بیٹسمین کو وہاں نشانہ لگاتا تھا کہ اس کی ازدواجی زندگی کے سارے ارمان ٹوٹ پھوٹ جائیں۔

اسی بارے میں: ۔  سیاست نہیں مفادات کی جنگ

\"\"

بیٹنگ ہماری ٹیم کی پاکستان ٹیم جیسی ہی تھی۔ بالنگ البتہ ایسی تھی جیسی کبھی ویسٹ انڈیز کی مشہور ہوا کرتی تھی۔ آٹھ پاگل اور کریک قسم کے فاسٹ بالر جو کسی ٹیم کو ساٹھ ستر سے زیادہ رن نہیں بنانے دیتے تھے۔ شاہ اسلامیہ کالج میں پڑھتا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ وہ کے پی کا سب سے تیز بالر ہے۔ ہماری ٹیم کا اس کی ٹیم کے ساتھ اسی کے گاؤں میں سیمی فائنل آ گیا۔

شاہ نے ایک فاسٹ بالر کی سوچ مطابق پریشر ڈالنے کا اچھا طریقہ نکالا۔ پچ کو ہی مختصر کر دیا، اس چھوٹی پچ پر جب شاہ کی بالنگ کا سامنا کرنا پڑا تو ہماری ٹیم چھتیس رن پر ہی آؤٹ ہو گئی۔ سکور اتنا کم تھا کہ جیتنے کی کوئی صورت نہ تھی پھر بھی نو وکٹیں کھو کر ہی شاہ کی ٹیم میچ جیت سکی۔

یہ گلی محلے کلب کرکٹ بلکہ فاسٹ بالروں کی باتیں ہیں۔ فاسٹ بالر جتنا بھی مدہم طبعیت ہو اس کو مشتعل ہوتے وقت نہیں لگتا۔ وہ جتنا مرضی اچھا کھلاڑی ہو مخالف بیٹسمین کو ڈرانے کے لئے باڈی لائین بالنگ ضرور کرے گا۔ بار بار باؤنسر پھینکے گا نو بال وائڈ بال کرے گا۔ فالتو رن دے گا۔ جب مار پڑے گی تو پھر لال پیلا ہوا شرمندہ پھرے گا۔

شاہی باغ کرکٹ سٹیڈیم پشاور کی ایک دیوار گورنمنٹ کالج کے ساتھ لگتی ہے۔ گورنمنٹ کالج والے اس سٹیڈیم کو اپنی جائیداد سمجھا کرتے تھے۔ مفت میچ دیکھنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے۔ ہر میچ کے دوران کالج کے لڑکے مفتا لگانے کے لئے پولیس سے متھا لگاتے اور میچ خراب ہوا کرتا تھا۔ شاہی باغ میں کچھ عرصہ بین الاقوامی میچ کرانے پر پابندی بھی رہی۔

اسی بارے میں: ۔  کیا نواز شریف کی سزا صدر ممنون حسین ختم کر سکتے ہیں؟

\"\"

پاکستان سری لنکا کا میچ تھا۔ گورنمنٹ کالج والے کامیابی سے سٹیڈیم میں گھس کر بیٹھ گئے تھے۔ عمران خان بھی اس میچ میں کھیل رہے تھے۔ میچ کے دوران اروندا ڈسلوا نے کپتان کو ایک ہی تگڑے چوکے کے بعد ایک اٹھا نما چھکا رسید کر دیا۔ یاد نہیں کون کپتان تھا لیکن اس اوور کے بعد کپتان کو فیلڈنگ کے لئے باؤنڈری پر ہماری طرف بھیج دیا گیا۔ کالج کے لڑکوں کو کپتان کا ایسے چھکے کھانا پسند نہ آیا۔

ایک لڑکے نے پیپسی کی پلاسٹک والی بوتل اٹھا کر کپتان کو دے ماری۔ سارے انکلوژر میں سناٹا چھا گیا۔ کپتان نے بوتل اٹھائی اور اس کو بظاہر اسی لڑکے کا نشانہ لگا کر پیار سے ہوا میں اچھال دیا۔ سب یہی سمجھے تھے کہ بوتل اب واپس آ کر اسی لڑکے کو وجے گی۔ کپتان نے بڑی کامیابی سے ڈرا دیا تھا۔ لیکن جب اس نے صرف ڈرانے پر ہی گزارا کیا مارنے سے گریز کیا تو سب نے اس کے لئے بہت تالیاں بجائیں۔ بوتل پھینکنے والے لڑکے کو بھی بہت لعن طعن کی۔

کپتان سیاست میں آ کر بھی نہیں بدلا۔ فاسٹ بالر ہی رہا ہے اسی سوچ کے ساتھ سیاسی چالاکیاں کر رہا ہے۔ حکومت کو دے مار باؤنسر پر باؤنسر کرا رہا ہے۔ اس کے لئے کتنی نو بال ہوتی جا رہی ہیں کتنی وائیڈ ہو گئی ہیں اسے کوئی پروا نہیں۔ اس پر بھی نہیں کہ میچ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 260 posts and counting.See all posts by wisi