مسلم پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی، ٹرمپ آج حکم نامے پر دستخط کریں گے


\"\"

واشنگٹن ڈی سی: نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک خصوصی صدارتی حکم نامے پر دستخط کریں گے جس کے تحت شامی پناہ گزینوں اور مسلم ممالک سے تارکین وطن کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگادی جائے گی جبکہ امریکا کے ساتھ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر بھی شروع کردی جائے گی۔

اس حکم نامے کے بعد ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن سے آنے والے پناہ گزینوں کو امریکی سرزمین پر داخل ہونے نہیں دیا جائے گا اور یہ پابندی ممکنہ طور پر کئی ماہ کےلئے ہوگی۔ علاوہ ازیں تمام ملکوں سے تارکین وطن کی امیگریشن درخواستوں پر کارروائی بھی اس وقت تک کےلئے روک دی جائے گی جب تک امریکی محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیوریٹی ڈیپارٹمنٹ نئے قواعد و ضوابط کو حتمی شکل نہیں دے دیتے، جو متوقع طور پر بہت سخت ہوں گے۔

گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں آنے والے دن کو ’’بڑا دن‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ بہت سی دوسری چیزوں کے علاوہ دیوار بھی تعمیر کریں گے۔ اندازہ ہے کہ مذکورہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے امریکہ میں غیرقانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو بھی بے دخل کردیا جائے گا۔

امریکا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں نے اس حکم نامے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات امریکا کو مزید غیرمحفوظ بنادیں گے۔

ایک امریکی قانونی ماہر نے متوقع حکم نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قانونی نقطہ نگاہ سے یہ درست ہے کیونکہ یہ امریکی صدر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لیکن پالیسی سازی کے تناظر میں یہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت پناہ گزینوں کو مدد کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔

اسی بارے میں: ۔  راولا کوٹ میں مسافر بس کھائی میں گرنے سے 6 افراد جاں بحق

آئینی ماہرین کی رائے میں امریکی آئین کے تحت کسی بھی شخص، گروہ، طبقے یا ملک کے خلاف صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کوئی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ اس لحاظ سے ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا حکم نامہ غیر آئینی ہوگا جس کے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بھرپور پرچار کیا تھا جبکہ وہ اسلام کے خلاف زہر اگلنے والے اداروں کو فنڈز اور اشیرباد دینے والے نمایاں امریکیوں میں شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ کے اسی حکم نامے کے ذریعے کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی میں مزید 5000 اہلکار بھرتی کئے جائیں گے جبکہ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے وسائل میں بھی تین گنا اضافہ کردیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔