علی بخش ظہور، پاکستان کا پہلا پلے بیک سنگر


\"\"برصغیر پاک و ہند میں موسیقی کی تاریخ کم و بیش ساڑھے سات  سو سال پرانی ہے، تاہم ابتدا میں موسیقی شاہی درباروں اور امراء و رؤسا کے دالانوں تک محدود رہی۔ مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دربار میں موجود نو رتنوں میں رام تانو پانڈے کو انتہائی اہمیت حاصل تھی۔ برصغیر میں بابائے موسیقی کے لقب سے یاد کیے جانے والے اس عظیم موسیقار کو دنیا میاں تان سین کے نام سے جانتی ہے۔

سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد موسیقی طوائفوں کے بالاخانوں میں پہنچی، جہاں امراء اور نوابین آتے اور موسیقی سے حظ اٹھاتے رہے۔ اس وقت تک یہ موسیقی راگ راگنیوں، خیال، ٹھمری، ٹھاٹ تک محدود تھی۔ صوفیائے کرام کا عارفانہ کلام بھی محدود آلاتِ موسیقی کے ساتھ مخصوص انداز میں پڑھا جاتا تھا، جسے  قوالی کا نام دیا گیا۔ رفتہ رفتہ موسیقی نے برصغیر پاک و ہند کے گلی کوچوں میں اپنے قدم جمائے، لیکن اس موسیقی اور گائیکی کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ریکارڈنگ کے آلات ایجاد ہوئے تو سنہ انیس سو دو میں گوہر جان کی آواز میں مرزا اسد اللہ خان غالب کی غزل \”یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا\” ریکارڈ کی گئی۔ بعض کتب میں اس غزل کی گائیکی کے حوالے سے ساشی مکھی اور فینی بالا کے نام بھی ملتے ہیں۔ غزل گائیکی میں اس کے بعد عنایت بائی، کندن لال سہگل، ماسٹر مدن، کملا جھریا، جوتیکا رائے، ملکہ پکھراج، اختری بائی اور بہت سے نام نمایاں رہے۔

انیس سو تیس کی دہائی میں گونگی فلموں کی جگہ پُرآواز فلموں نے لی تو فلمی گائیکی کا آغاز ہوا، اس طرح گائیکی میں عوامی رنگ بھی شامل ہوتا گیا۔ فلمی گائیکی میں زہرہ بائی انبالے والی، امیر بائی کرناٹکی، ثریا، نورجہاں، شمشاد بیگم، خورشید بیگم، سریندر کور، پنکج ملک، کوی پردیپ، سریندر، طلعت محمور اور محمد رفیع نے خوب نام کمایا۔ پاکستان بنا تو جیسے دیگر چیزوں کی طرح فنکاروں کا بھی بٹوارہ ہوگیا۔ کچھ گلوکار ہندوستان میں رہ گئے، کچھ ہندوستان سے پاکستان آگئے اور کچھ یہاں سے ہندوستان منتقل ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک سال تک یہاں کوئی فیچر فلم ریلیز نہیں ہوسکی تاہم اگلے برس 7 اگست 1948ء کو عیدالفطر کے روز پہلی پاکستانی فلم ریلیز ہوئی۔ تیری یاد نامی یہ فلم لاہور کے سینما پربھات میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ داؤد چاند اس فلم کے ہدایتکار تھے۔ فلم کے گیت علی بخش ظہور، منور سلطانہ اور آشا پوسلے کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے۔

علی بخش ظہور پہلے پاکستانی فلم سنگر ہیں۔ وہ گیارہ مئی انیس سو پانچ کو بھارت میں پیدا ہوئے۔ معمولی ابتدائی تعلیم کے بعد موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے لگے اور زانوئے تلمذ استاد برکت علی گوٹے والے کے سامنے خم کیا اور بعد ازاں استاد عاشق علی خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ موسیقی میں کمال حاصل ہوا تو آل انڈیا، ریڈیو پر اپنے فن کا جادو جگانے لگے۔ علی بخش ظہور کی گائی ہوئی ٹھمریوں، غزلوں، کافیوں اور حضرت سلطان باہو کی ابیات  کو بےحد پسند کیا گیا۔ اور پھر فلم کے موسیقاروں نے انہیں فلمی گیتوں کی جانب بھی کھینچ لیا۔ فلم تیری یاد کے گیتوں نے شائقین کے دل جیت لیے، خاص طور پر ان کے گیت \”محبت کا مارا چلا جا رہا ہے\” نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر وہ فلموں کے لیے بھی باقاعدگی سے گانے لگے۔

سن 1953 تک وہ پاکستانی فلموں کے مصروف اور مقبول گلوکار رہے۔ انہوں نے منور سلطانہ کے ساتھ جو گیت گائے وہ بہت مشہور ہوئے۔ فلم بے قرار کے لیے منورسلطانہ کے ساتھ گایا گیا ان کا دوگانا \”دل کو لگا کے کہیں ٹھوکر نہ کھانا،  ظالم زمانہ ہے یہ ظالم زمانہ\” آج بھی شائقین کی روح کو سرشار کرتا ہے۔ تین برس تک وہ پاکستانی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے۔ عنایت حسین بھٹی کی آمد اور بے پناہ مقبولیت نے انہیں فلمی دنیا سے دور کردیا۔ پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے گیتوں کا انمول خزانہ دینے والی یہ آواز اٹھارہ نومبر انیس سو پچہتر کو لاہور میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

علی بخش ظہور کے گائے کچھ نایاب گیت ذیل کے لنکس پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں


Comments

FB Login Required - comments

زاہد حسین کی دیگر تحریریں
زاہد حسین کی دیگر تحریریں