سی پیک نسوار اور گلگتی چلغوزے


\"\"چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے حوالے سے میڈیا پر آئے روز نت نئی خبروں کے بعد اب لفظ ”سی پیک“ کا شمارسوشل میڈیا کے ان روایتی الفاظ میں ہو چکا ہے، جن کے استعمال کو ہر صارف دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک سماجی فریضہ سمجھتا ہے۔ جیسے خوشگوار پوسٹس پر کومنٹ میں نائس، اوسم، گریٹ، ویلڈن اور کسی ناخوشگوار واقعہ سے متعلق پوسٹ پر RIP ، سیڈ یا کسی بیمار کی ان لائن تیمارداری کے لئے گیٹ ویل سون وغیرہ۔۔

سی پیک کے ساتھ بھی کچھ اس طرح کا ہی المیہ ہے۔ بہت سے لوگ، جنہیں سی پیک کے پس منظر کا کوئی علم نہیں ہوتا، اس منصوبے پر صرف چلتی ہوئی تنقید پر اکتفا کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں پشاور سے کچھ صاحبان نے مشہور پشاوری نسوار پر سی پیک نسوار کا اسٹیکر لگا کراپنے کاروبار کی تشہیر شروع کردی ۔ بہت سے افراد سی پیک کی خامیوں کی تلاش میں ہی اپنی توانائی صرف کر دیتے ہیں۔ قبل ازیں میں خود بھی ایسے لوگوں ہی میں شامل تھا ، مگر میری تنقید کا محور گلگت بلتستان کی حد تک ہی تھا اور وہ اس لحاظ سے کہ گلگت بلتستان میری دھرتی ماں اور سی پیک کا دروازہ ہے۔ بقول عبدالحفیظ شاکر صاحب ” اس سرزمین کا قرض چکائے تو کس طرح“ کے مجھے بھی سی پیک کے معاملے میں ابتدائی طورپر اپنی دھرتی کے ساتھ کچھ ناانصافی ہوتی نظر آرہی تھی اور اس کے خلاف قلمی جدوجہد اپنی سرزمین کا قرض چکانے کی میری ایک حقیر کوشش تھی۔

سی پیک کے تحت دونوں ممالک کے مابین دستخط ہونے والے منصوبوں کی دستاویزات اوراس حوالے سے انٹرنیٹ پر دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد میں اس موقف پر قائم رہا کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کا کوئی نام ونشان تک نہیں۔ یہ موقف نہ صرف میرا تھا بلکہ مشاہد حسین سید جیسے لوگ بھی یہ خدشتہ ظاہر کررہے تھے کہ وفاقی حکمران حسب روایت اس بار بھی گلگت بلتستان کے عوام کو زبانی طورپر دلاسے دے کر وقت نکالنا چاہیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہوتی

تاہم وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گزشتہ دنوں چین میں سی پیک کی جوائنٹ کواپریشن کمیٹی (جے سی سی) کے چھٹے اجلاس میں شرکت سے واپسی پر سی پیک کے تحت گلگت بلتستان کو بھی کچھ فوائد ملنے کی نوید سنا دی۔ سیاستدانوں کی کہی ہوئی باتوں پر یقین رکھنے کا میں خود بھی قائل نہیں مگر تحریری دستاویزات پر مجھے بہت حد تک یقین ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس ٰ نشت میں گفتگو کے آغاز سے قبل چھٹے جے سی سی اجلاس کے منٹس تھما دیے جن پر باضابطہ طور پر دونوں ممالک کے نمائندوں کے دستخط بھی موجود تھے۔ منٹس کے اندر سی پیک سے متعلق بہت سی باتوں اور فیصلوں کا ذکر موجود تھا ۔ چونکہ ہمارا فوکس گلگت بلتستان تھا تو منٹس کے اندر ہم نے گلگت بلتستان کو ہی کھنگالنا شروع کردیا۔ جس پر معلوم ہوا کہ چھٹے جے سی سی اجلاس میں گلگت بلتستان کی تعمیروترقی کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

جن منصوبوں کا منٹس کے اندر ذکرموجود ہے ان میں عالم پل کے قریب سکردو روڈ پرمقپون داس کے مقام پرسی پیک کے تحت اکنامک زون کا قیام، شاہراہ قراقرم کے متبادل راستے کے طورپر گلگت تا چترال سڑک کی جدید طرزتعمیر، ضلع غذرکی تحصیل پھنڈر میں اسیّ میگاواٹ ہائیڈوپاور منصوبہ، دیامربھاشا ڈیم کی تعمیرمیں مالی معاونت، رائیکوٹ سے تھاکوٹ تک شاہراہ ریشم کی ازسرنو تعمیر کے منصوبے شامل تھے۔

بعد آزاں وزیراعلیٰ اپنی بریفنگ میں اس پیش رفت کا تفصلاً ذکرکرتے ہوئے سی پیک کے معاملے میں صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بنانے والی سیاسی جماعتوں پر برس پڑے ۔ جسے اگلے روز کے اخبارات میں شہ سرخیوں میں جگہ ملنے پر فیس بکی دانشوروں نے نہ صرف اسے جھوٹ کا پلندہ قراردیا بلکہ حکومت کے ساتھ ساتھ مقامی صحافیوں کو بھی مختلف القابات سے نوازنے میں دیر نہیں کی۔ حالانکہ ان لوگوں کو حقائق جاننے بغیر تنقید کا راستہ اختیارکرنے کی بجائے حکومتی ذمہ داران یا اس بریفنگ میں شریک کسی صحافی سے وہ منٹس اٹھا کر نہ صرف وفاقی سطح پر بلکہ چینی حکام سے بھی ان کی تصدیق کروانے کا خیال آجاتا تو ان کے شکوک وشبہات کا کوئی مناسب حل نکل آتا۔ ایسا نہ کرکے راتوں رات سی پیک کے ثمرات سے مستفید ہونے کا خواب دیکھنے کے چکر میں حکومت یا صحافیوں پر تنقید مہذب معاشرے کا خاصہ نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  معاملہ روز مرہ کے شہری شعور کا ہے

بلا شبہ فی الحال یہ منصوبے صرف کاغذوں کی حد تک ہی ہیں اور ان پر عملدرآمد کے لئے ابھی کافی وقت درکار ہے۔ ایسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں اورعوام کو حکومتی کارکردگی پر اس وقت تک اعتبار نہیں آ سکتا جب تک کہ کسی منصوبے پر عملی کام ہوتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت خاص طورپر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو فالو اپ میٹنگس میں پھرتی کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے۔ حکومتی سطح پر فالو اپ کے بغیر یہ منصوبے کاغذوں کی حدتک ہی رہ جائیں گے اور حکومت پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جائیگا۔ لہذا حالات کی نزاکت کو مدنظررکھتے ہوئے موثر فالو اپ کے ذریعے سی پیک منصوبوں پر جلد سے جلد عملدرآمد کو ممکن نہ بنایا گیا تو پٹھان بھائیوں کی سی پیک نسوار کی طرح گلگت بلتستان کے لوگ سی پیک اخروٹ اور چلغوزے کی تشہیر شروع کردینگے۔ جس کے جواب میں فیس بک پر بے شمار کومنٹس ، لائیکس اور شیئرز کے علاوہ کچھ نہیں مل سکے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔