دورِ سلاطین کی قدیم ترین مسجد کی تباہی


\"\"

مارگلہ نیشنل پارک کی اہمیت محض اس کے جمالیاتی حسن یا قدرتی مظاہر کے حوالے سے نہیں بلکہ ان حسین پہاڑیوں میں ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے آثار بھی ملتے ہیں جن کے نقوش ہماری عدم توجہی کے باعث مٹ رہے ہیں۔

مارگلہ کے ان آثار میں سب سے نمایاں پونے دو ہزار سال پرانا ایک بدھ مت کا سٹوپ اور سلاطین دہلی کے دور کی ایک قدیم مسجد ہیں جو کہ مقامی زبان میں ’خرماں والی بن‘ کہلاتی ہے۔ شاہ اللہ دتہ گاؤں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ٹیکسلا کی طرف جانے والے گندھارا اور مسلم تہذیب کے آثار ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ قائم ہیں۔ پچھلے سال وفاقی محکمہ آثار قدیمہ نے ان تہذیبی آثار کے تحفظ اہتمام کیا لیکن بدقسمتی سے کام ختم ہونے کے بعد فیتہ کاٹا گیا، فوٹو کھینچے گئے اور انہیں کسی نگہداشت کے بغیر ہی چھوڑ دیا گیا۔

ان قدیم عمارات کی دیواروں کو کسی بھی دیرپا سپورٹ کی بجائے عجلت میں سہارا دے کر عوام اور عوامل فطرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی یہ دوسری قدیم ترین مسجد جو کہ سلاطین دہلی کے دور سے منسوب کی جاتی ہے نصف سے زیادہ منہدم ہو چکی ہے۔ پہلی قدیم ترین مسجد سندھ کے علاقے الور میں محمد بن قاسم کے دور کی بیان کی جاتی ہے۔

کشان دور کا یہ سٹوپ بھی نازک حالت میں ہے اور اس کی دو دیواریں گر چکی ہیں۔ کاش پاکستان کے ان قدیم ترین آثار کی حفاظت اور بحالی کا بندوبست کیا جائے اور متعلقہ محکمے اس کی نگہداشت کا مناسب بندوبست کریں۔

اس سلسلے میں محکمہ آثار قدیمہ کے علاوہ سی ڈی اے کو بھی توجہ دینی چاہیے اور ان قدیم آثار کو اسلام آباد کے سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے پر توجہ کرنی چاہیے۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں