قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں گھونسوں کا تبادلہ


\"\"

شہریار آفریدی اور شاہد خاقان عباسی اور دیگر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو گئے، کچھ ارکان دونوں جماعتوں کے ارکان کو چھڑاتے رہے مگر کسی نے ان کی ایک نہ سنی جس پر سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کی آپس میں ہاتھا پائی ہوئی۔ کچھ ارکان دونوں جماعتوں کے ارکان کو چھڑاتے رہے مگر کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔ شاہد خاقان عباسی اور شہریار آفریدی نے ایک دوسرے کو گھونسوں اور تھپڑوں سے نوازنا شروع کیا تو دونوں جماعتوں کے دیگر نوجوان ارکان بھی اپنے اپنے حلیفوں کی مدد کے لئے وہاں آن پہنچے جس پر اسمبلی میں گھمسان کا رن پڑ گیا جس پر سپیکر کو اجلاس کی کارروائی 15 منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑی۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے بیان کے خلاف ہنگامہ آرائی ہوئی۔

ہال ”گلی گلی میں شور ہے، نواز شریف چور ہے“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر کے دوران نعرے لگوائے تو حکومتی ارکان نے بھی جوابی نعرے بازی شروع کر دی۔ دریں اثناء ہاتھا پائی میں خواتین ارکان بھی پیش پیش رہیں اور اپنے ساتھیوں کو نعرے بازی اور زبانی لڑائی میں حتیٰ المقدور معاونت فراہم کرتی رہیں۔ ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ “گلی گلی میں شور ہے عمران اور جہانگیر ترین چور ہیں“ کے نعرے حکومتی ارکان ککی جانب سے لگائے گئے۔ سپیکر قومی اسمبلی پی ٹی آئی ارکان کے نعروں کے آگے بے بس نظر آئے، بولے ایسا ماحول رہا تو اجلاس ملتوی کر دوں گا۔ سپیکر نے وارننگ دیتے ہوئے کہا، قریشی صاحب! آپ جب چاہیں اپنے ارکان چپ کرا دیتے ہیں، آج ارکان کو جان بوجھ کر خاموش نہیں کرا رہے۔ لڑائی کے بعد، شہر یار آفریدی اور شاہ محمود قریشی نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہلڑائی میں پہل لیگی ارکان کی جانب سے کی گئی۔ ان کا موقف تھا کہ وہ ہمارے بینچوں کی جانب آئے، ہم ان کی جانب نہیں گئے تھے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔