عبدالرحمن چغتائی کی پہلی تصویر اور علامہ اقبال


\"\" چغتائی صاحب کی مصوری میں ہمیں دو روایات کا ملاپ نظر آتا ہے۔ ایک طرف ایرانی، ترک اور مغل مصوری ہے، دوسری طرف بنگالی مصوروں کی بنائی ہوئی وہ تصاویر ہیں جو جدید انڈین مصوری کی بنیاد رکھتی ہیں۔ بنگال سکول آف آرٹ کو اگر دور جا کر دیکھا جائے تو اس کا سرا اجنتا اور ایلورا کے غاروں میں بنائی گئی تصویروں اور تراشے گئے بتوں سے ملتا ہے۔ یہ تصاویر آج سے تقریبا دو ہزار سال پہلے بنائی گئیں جو غاروں کے اندر دیواروں پر آج بھی موجود ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہم یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ جن بدھ راہبوں نے وہ سب بنایا ان کے نزدیک فحاشی کا معیار بہرحال وہ نہیں تھا جو آج ہمارے ذہنوں میں ہے۔ اسی طرح مغل مینی ایچر تو وہ چیز تھی کہ جس سے ریمبراں بھی متاثر ہوئے۔ ریمبراں ڈچ تھے جنہیں قدیم اردو میں ہم ولندیزی کہا کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ مینی ایچرز کی باقاعدہ نقلیں بھی بنائیں۔ سترھویں صدی میں کیا گیا یہ کام برٹش میوزیم میں آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی اور ترک مصوری کے اثرات مل جل کر مغل مینی ایچر میں منتقل ہوئے اور دونوں میں رنگ ایسے زبردست\"\"  استعمال ہوتے تھے کہ ان کا اثر نہ لینا ممکن نہیں تھا۔ تو وہ شوخ رنگ بھی مغل مینی ایچر میں ٹرانسفارم ہو گئے۔ مغلوں سے پہلے زیادہ تر ایرانی یا ترک مصوری کھجور کے پتوں کو سکھا کر ان پر ہوتی تھی۔ مغلوں نے کاغذوں کو جوڑ کر باقاعدہ وصلیاں بنانے کا رواج ڈالا۔ اسے یوں سمجھ لیجیے کہ کاغذ کی بہت سی باریک پرتوں کو جوڑ کر ایک مضبوط کاغذ تیار کیا جاتا تھا۔ پھر اسے سیزنڈ کرنے کے لیے (وقت کی مار سہنے کے لیے) باقاعدہ کئی طریقے ہوتے تھے۔ مختلف کیمیکلز میں ڈبونا، سکھانا، پھر اسے ہموار کرنا، تو اس سب کو انگریزی میں \”واش\” کہہ لیجیے۔ یہی واش تصاویر بنانے کے بعد بھی کیا جاتا تھا۔ مقصد یہی ہوتا تھا کہ تصویر دیرپا ہو۔ رنگ پھیکے نہ ہوں۔ جو رنگ مغل استعمال کرتے تھے وہ بھی کوئی عام معاملہ نہیں تھا۔ پندرھویں صدی تک چونکہ آئل پینٹنگ ایجاد نہیں ہوئی تھی تو پکے رنگوں کے لیے ٹیمپیرا ٹیکنیک استعمال ہوتی تھی۔ اس میں انڈے کی زردی میں مختلف رنگ ملا کر لگائے جاتے تھے اور ٹیمپیرا ہی کی وجہ سے وہ تصاویر آج بھی بہت اچھی حالت میں موجود ہیں۔

یہ سب جاننا اس لیے ضروری ہوا کہ بات چغتائی صاحب پر ہونی ہے۔ اجنتا اور ایلورا کی تصاویر دیکھیے، پھر بنگال سکول آف آرٹ کو دیکھیے جو اس کے واضح نقش لیے اٹھارہویں صدی کے درمیان شروع ہوتا ہے اور انیسویں صدی شروع ہونے تک پوری ہندوستانی مصوری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، پھر دیکھ لیجیے چغتائی صاحب کی تصاویر کو، تو اس میں یہ سب کا سب ہمیں مل جل کر دکھائی دے گا۔ رنگوں کی خاص تیاری، جس کاغذ پر بنانا ہے اس کی تیاری، پھر بنانے کے بعد تصویر کو دوبارہ واش کے مراحل سے گزارنا، یہ سب وہ ہے جو چغتائی نے انہیں روایات سے لیا۔\"\"

چغتائی صاحب کی تحریریں اگر پڑھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ فنکارانہ عظمت کی ان بلندیوں پر تھے جہاں سے انہیں اپنا تعلق کسی بھی روایت سے جوڑنا بے کار نظر آتا تھا۔ پھر وہ فن میں مذہب کی تقسیم کے بھی قائل تھے۔ بنگال سکول یا ماڈرن انڈین سکول کے مصور زیادہ تر ہندو تھے، تو انہیں اس روایت کو آگے بڑھانا نفسیاتی طور پر کچھ مشکل لگا۔ وہ فخریہ کہتے تھے کہ انہوں نے کسی کی شاگردی نہیں اختیار کی۔ فن کی دنیا میں اپنی آمد کو ایک اہم واقعہ سمجھنا اور باقاعدہ اسے دھماکہ قرار دینا، خود ایک فنکار کے منہ سے کچھ عجیب سا لگتا ہے، لیکن یہ سب ان کی تحاریر میں جا بجا موجود ہے۔ لاریب کہ سب کچھ ایسا ہی تھا، وہ ہندوستانی تاریخ کے اہم ترین مصوروں میں سے تھے لیکن بہرحال راجہ روی ورما، ابیندھر ناتھ ٹیگور، مکل ڈے اور کئی دوسرے مصور اس وقت اور آج بھی اتنی ہی اہم جگہوں پر موجود تھے اور ہیں کہ چغتائی کو ہم اس پورے زمانے سے الگ کر کے بہرحال نہیں دیکھ سکتے۔

تو چغتائی شعوری طور پر اپنی تصویروں میں بنگال سکول اور مغل سکول کا ملاپ پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاکہ ان پر کسی کی تقلید یا اثر کا گمان نہ ہو۔ 1919 میں ان کی پہلی تصویر آتی ہے اور وہ بلاشبہ کمال ہوتی ہے، چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد چغتائی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔ پہلی تصویر کے متعلق خود انہوں نے کیا لکھا، دیکھیے؛

\”میں نے ایک تصویر بنائی جو یقیناً خام اور تکنیک کی رو سے بھی نامکمل تھی، مگر میرا خیال تھا کہ میری یہ کوشش کامیاب ہے اور مجھے اس کا صلہ ملنا چاہئیے۔ میرے ایک عزیز دوست جو علامہ اقبال کے بہت قریب تھے، مجھے مجبور کر کے ان کی خدمت میں لے گئے۔ میرے لیے علامہ اقبال کو قریب سے دیکھنے اور ان سے ہم کلام ہونے کا یہ پہلا موقع تھا۔ وہ ان دنوں انارکلی بازار میں رہتے تھے اور پہروں بالکونی میں بیٹھے رہتے تھے۔ جب میں سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تو میں یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ میں تصویر دکھانے جا رہا ہوں بلکہ میرے ذہن میں یہ خیال بڑی شدت سے کروٹیں لے رہا تھا میں شمع و شاعر کے خالق کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ تعارف کے بعد انہوں نے یکے بہ دیگرے مجھ پر کئی سوال کر دئیے۔ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا یہ تمہارا پیشہ ہے؟

\"\"میں نے کہا کہ میرا تو ایسا خیال نہیں ہے مگر میرے بزرگ ہنر مند صناع اور مہندس ضرور تھے۔ میں نے اپنے علم کی کمی اور مطالعہ کی کم مائیگی کے سبب تصویر کا نام too late رکھ دیا تھا۔ میں نے دبی زبان سے جیسے میں صحیح تلفظ بھی ادا نہیں کر سکوں گا، تصویر دکھاتے ہوئے تصویر کا نام لیا تو انہوں نے بے ساختہ یہ شعر پڑھا

بجھ گیا وہ شعلہ جو مقصود پر پروانہ تھا

اب کوئی سودائی سوز تمام آیا تو کیا!

تصویر میں سب سے اہم ایک قبر تھی جو ایک شاندار عمارت کے گوشہ تنہائی میں افسردہ سی نظر آ رہی تھی۔ اور یہی حال اس ماں صفت خاتون کا تھا جو کچھ پھول لیے قبر کے پاس یوں کھڑی تھی کہ وہ کچھ کھو گئی ہے اور کچھ حاصل کرنے کی تلاش میں یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ عقائد کی بنا پر قبر کے تعویذ پر میں نے کلمہ لکھ دیا تھا۔ آپ نے تصویر کو غور سے دیکھتے ہوئے میری کوشش کو سراہا اور فرمایا کہ ایک تو یہ کلمہ یہاں سے ہٹا دینا چاہئیے۔ دوسرے جو عورت کھڑی ہے اسے اور زیادہ پریشان نظر آنا چاہئیے۔ تیسرے ایک افسردہ عورت قبر کے پہلو میں بیٹھی ہو جو اپنا متاع لٹا چکی ہے۔

باقی رہا قبر کا تعویذ تو اس پر قرآن کی یہ آیت لکھ دو (عربی متن)۔ آپ نے فرمایا مجھے پہلی دفعہ ایک ایسے نوجوان سے واسطہ پڑا ہے جو تصویروں کے ذریعہ اسلامی روایات پیش کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔\”

مزید احوال آگے لکھتے ہیں، \”انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے کافی وقت دیا، میرے کام میں بڑی دلچسپی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ کبھی کبھی میرے ہاں آتے رہا کرو۔ میرے دماغ میں بھی اکثر ایسی تصویریں بنتی رہتی ہیں، مجھے بھی آرٹسٹ ہونا چاہئیے تھا تاکہ میں رنگوں کے ذریعے بھی اپنے خیالات ظاہر کر سکتا۔ انہوں نے اس وقت نواب ذوالفقار علی خاں اور سردار جوگندر سنگھ کا بھی ذکر کیا کہ وہ آرٹ کے مداحوں میں سے ہیں۔ آپ نے وعدہ کی کہ وہ ان سے بھی میری ملاقات کرائیں گے تاکہ مجھے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہو۔\”

تو یہ سب مصور باکمال عبدالرحمن چغتائی کی صرف ایک جھلک تھی۔ بہت کچھ ہے۔ دیکھیے کیا بنے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 257 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “عبدالرحمن چغتائی کی پہلی تصویر اور علامہ اقبال

  • 28-01-2017 at 3:04 pm
    Permalink

    براہ کرم وہ آیات قرانی بھی لکھ دیں جو علامہ نے تجویز فرمائ تھی شکریہ

Comments are closed.