محترم عامر رانا کے سوالات کے کچھ مزید جواب


\"\"فارن ایڈ اکنامکس میں ایک انتہائی حساس معاملہ ہے – کھربوں ڈالر کی امداد چاہے وہ حکومت سے حکومت ہو یا حکومت سے این جی او یا این جی او سے این جی او ، افریقی ممالک کو دی جا چکی ہے مگر معیشت کے تجزیے یہ بتاتے ہیں کہ اس سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا – کینزین معیشت دانوں اور فری مارکیٹ معیشت دانوں کے درمیان اس موضوع پر کافی اختلاف پایا جاتا ہے –

کینزین معیشت دان جن میں جیفری سیچ نمایاں ہیں ، فارن ایڈ کے سب سے بڑے حامی ہیں وہ اس کے فوائد گنواتے ہیں – یاد رہے کہ جیفری حالیہ امریکی الیکشن میں ڈیموکریٹکس میں صدارتی نمائندگی کا الیکشن لڑنے والے برنی سینڈر کے دست راست اور فارن پالیسی ایڈوائزر تھے – اسی طرح بل گیٹس کے بھی یہ ایڈوائزر رہے مگر جب NINA MUNK کی کتاب مارکیٹ میں آئی تو بل گیٹس نے اپنے ایک کالم میں کھل کر کہا کہ نینا نے جو حقائق اپنی کتاب میں دیئے ہیں اس سے میرا فارن ایڈ یا چیرٹی پر سے دل اٹھ گیا ہے – اس موضوع پر جیفری کی سب سے اہم کتاب \”کامن ویلتھ \”ہے –

فارن ایڈ کے سب سے بڑے مخالف اور ورلڈبنک کے سابق معیشت دان ولیم ایسٹرلی ہیں انہوں نے اس موضوع پر تین انتہائی خوبصورت کتابیں لکھی ہیں :

  1.   The Elusive Quest for Growth: Economists\’ Adventures and Misadventures in the Tropics
  2. The White Man\’s Burden: Why the West\’s Efforts to Aid the Rest Have Done So Much Ill and So Little Good
  3. The Tyranny of Experts

ولیم فری مارکیٹ اکانومسٹ ہیں ، ہائیکین ہیں یعنی فریڈرک ہائیک کے تصورات سے نسبت رکھتے ہیں – وہ غربت جیسے مسائل کا حل خیرات و امداد میں نہیں بلکہ مارکیٹ میں آزادی کو سمجھتے ہیں – جیفری سیچ اور ولیم ایسٹرلی کے مباحث سے وہ تمام لوگ واقف ہیں ،جو فارن ایڈ کے موضوع کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں –

ولیم اور سیچ کے درمیان مباحث میں Nina Munk کی کتاب \"\"The Idealist: Jeffrey Sachs and the Quest to End Poverty نے فیصلہ کن کردار ادا کیا . نینا کچھ عرصہ تک جیفری سیچ سے بے انتہا متاثر رہیں – فارن ایڈ کے تجربات کے نتائج دیکھنے کے لئے وہ افریقہ چلی گئیں – دس سال سے زائد عرصہ انہوں نے ان تمام فارن ایڈ پروجیکٹس کے نتائج کو اسٹڈی کیا اور یہ کتاب لکھی – یاد رہے کہ نینا بھی فری مارکیٹ اکانومسٹ ہیں ، غربت کا حل مارکیٹ کو قرار دیتی ہیں اور ان کے نزدیک افریقہ میں غربت کی وجہ اول سیاسی ہے ، دوم انتظامی ہے ، سوم : معاشی ترغیبات (Economic Incentives) کی غیر موجودگی ہے –نینا کی اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے بل گیٹس نے لکھا کہ فارن ایڈ کے مسئلے پر سب سے زیادہ comprehensive اور فیصلہ کن کتاب ہے – خود جیفری سیچ بھی ان حقائق کو ماننے پر تیار ہوئے کہ یہ خرابیاں یقینا موجود ہیں مگر ہم ان کو دور کرنے کی کوشش کر کے فارن ایڈ سے غربت کے خاتمہ کی مزید بہتر کوشش کر سکتے ہیں –

فری مارکیٹ اکنامکس افریقہ کی پس ماندگی کی اول وجہ نوآبادیات اور اس کی اب تک حاوی میراث کو سمجھتی ہے – دوم ، افریقہ میں سٹیٹس کو طبقات کی سیاست معیشت اور معاشرہ پر اتنی مظبوط اجارہ داری ہے کہ وہاں خوشحالی کے امکانات محدود ہیں – جب تک سیاست ثقافت اور معیشت کو آزاد نہیں کیا جاتا اس وقت تک ترقی ناممکن ہے – سوم :فارن ایڈ عام لوگوں کے لئے نہیں بلکہ اشرافیہ اور بیورو کریٹس کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے یوں وہ مقابلہ کی مارکیٹ میں متوقع چیلنجز کا سامنا کرنے سے بچ جاتے ہیں – کینزین اکنامکس کا کہنا ہے کہ سیاست و ثقافت کو یقینا آزاد ہونا چاہئے مگر ریاستی سرپرستی سے چلنے والا معاشی نمونہ (State-led economic model) بہت پراثر ہے اور فارن ایڈ کا مقصد حکومتوں اور معاشروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش ہے – اس میں ناکامی اب تک صرف اس لئے ہوئی ہے کہ غریبوں کو دی گئی امداد اتنی کم تھی کہ وہ صحیح طرح سے اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکے – اگر رقم بڑھا دی جائے تو پھر امکانات زیادہ واضح ہو جائیں گے –

اسی بارے میں: ۔  چوتھے صنعتی انقلاب کی دستک: کیا آپ تیار ہیں؟

غریب ممالک کی معیشت امیر ممالک کی معیشت سے مختلف ہے – غریب ممالک کی معیشت کو اسٹڈی کرنے کے لئے ابھیت بینرجی کی کتاب \”Poor Economics\” ایک بہترین مائکرو اکنامک مطالعہ ہے جس سے اس موضوع سے متعلق فیصلہ کرنا ذرا آسان ہو جاتا ہے کہ کینزین اور فری مارکیٹ معیشت دانوں میں کس کی رائے زیادہ بہتر ہے – پاکستان میں بھی یہ سمجھنا آسان ہے کہ آج تک حکومتوں کو ملنے والی امداد تو چھوڑئے ، این جی او سیکٹر کی طرف سے ملنے والی مالی امداد نے پاکستان میں غربت کے خاتمے میں کتنا کردار ادا کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں – اور جب ہم پاکستان میں جی ڈی پی گروتھ کا غربت سے موازنہ کرتے ہیں تو حیران کن طور پر جی ڈی پی گروتھ اور غربت میں کمی کے درمیان مثبت تعلق کا مشاہدہ کرتے ہیں –

غریب ممالک میں غربت کیوں ہے ، اس کی تشخیص اور عملی حل آسان کام نہیں – یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس کے \"\"درمیان کینزین معیشت دانوں اور فری مارکیٹ معیشت دانوں کے درمیان گہرا اختلاف موجود ہے – اسی طرح یہ سوالات کہ غریب ممالک سے پیسہ اور ٹیلنٹ امیر ممالک میں کیوں جاتا ہے یہ بھی اسی طرح سنجیدہ موضوع ہے جس طرح ہم دیہی علاقوں کی معیشت اور شہری علاقوں کی معیشت کے درمیان فرق دیکھتے ہیں – ٹیلنٹ کو امکانات کی ضرورت ہوتی ہے تو سرمایہ کو نفع کی – سرمایہ ساری دنیا میں اسی طرح گھوم رہا ہے – ٹرمپ سمجھتا ہے کہ امریکہ کا پیسہ اور روزگار دوسرے ممالک کی طرف جا رہا ہے خاص طور پر چین اور بھارت کی طرف – چین اپنی فنانشل مارکیٹ کو اس ڈر سے آزاد نہیں کر رہا کہ کہیں پیسہ بھاگ نہ جائے – مودی حکومت کو اپنی معیشت میں سب سے بڑا مسئلہ ہی پیسہ لگتا ہے جسے وہ کنٹرول کرنا چاہتا ہے – غریب ممالک کو ایک طرف سے یہ پریشانی ہے کہ سرمایہ کار ان کے ممالک میں سرمایہ کیوں نہیں لگا رہے تو دوسری طرف انہیں یہ پریشانی ہے کہ کہیں موجود پیسہ بھی نہ بھاگ جائے – سرمایہ اور ٹیلنٹ کو سرحدوں میں بند کرنے کے آج تک مفید نتائج نہیں نکلے ،کسی بھی ملک کی اکانومی مارکیٹ کی آزادی کے بغیر ترقی نہیں کر سکی – ایسٹ ایشن ممالک چین تائیوان سنگا پور اور ویتنام نے کسی محبت میں کیپیٹلزم کو گلے نہیں لگایا تھا ان کے لئے معیشت کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی کوئی اور صورت باقی نہیں بچی تھی – خود چینی صدر نے چند دن پہلے ورلڈ اکنامک فورم میں وہی بات کہی جو ایڈم سمتھ نے ویلتھ آف نیشن میں لکھی تھی کہ protectionism (انٹی گلوبلائزڈ تجارتی پالیسی ) کا مطلب خود کو ایک تاریک کمرے میں قید کرنے کے مترادف ہے –

ماحولیاتی آلودگی بھی ایک دلچسپ موضوع ہے – ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں آنے والے تیسرے برفانی عہد کے بعد سے اب تک سالانہ موسم کی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے – اس کے اسباب سے متعلق موسمیات کے ماہرین کے نزدیک شدید اختلافات ہیں – اگر کاربن کے اخراج کے نظریہ کو ہی درست مان لیں جسے عموما ریاستی سطح پر مانا جاتا ہے اور حالیہ پیرس کانفرنس میں ماحولیاتی تحفظ کے لئے کاربن کے اخراج کو محدود کرنے کا ایجنڈا ہی پیش کیا گیا تو سوال یہ ہے کہ اس کاربن کے اخراج کے اسباب کیا ہیں – سب سے بڑی وجہ ترقی یافتہ ممالک میں پبلک \"\"ٹرانسپورٹ ہے – خود چین میں جو ماحولیاتی آلودگی کے معاملے میں سرفہرست ہے یہ مسئلہ شہری آبادیوں میں زیادہ ہے تو کیا اب عوام کو گاڑیاں خریدنے کے حق سے محروم کر دیا جائے ؟ یقینا ان کی صنعتوں میں کاربن کے اخراج سے متعلق ویسی احتیاطی تدابیر نہیں جیسی ہم امریکہ کینیڈا اور یورپ وغیرہ میں دیکھتے ہیں ، مگر چین آج تک یہی کہتا آیا ہے کہ مجھے ترقی تو کرنے دو پھر ہم بھی اپنی صنعتوں پر روک لگائیں گے – بھارت کا بھی یہی کہنا ہے کہ موسمی آلودگی کا بہانہ کر کے ہماری صنعتوں پر پابندیوں کی سازش کی جا رہی ہے ، جب مغرب ترقی کر رہا تھا تو ہم نے کہا تھا کہ تم دھواں زیادہ کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ پاکستان کے کیس میں بھی دلچسپ صورتحال یہ سامنے آتی ہےکہ یہاں کاربن کے اخراج کا سب سے بڑا سبب نہ صنعتیں ہیں اور نہ پبلک ٹرانسپورٹ بلکہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ اس کی وجہ ہیں جو تعداد میں کم سہی مگر کاربن کے اخراج میں انتہائی خطرناک ہیں – اب اس طرح کے سرکاری معاشی منصوبوں کا الزام دنیا کے سنجیدہ حلقوں میں کیپیٹلزم کو نہیں دیا جاتا بلکہ سب مانتے ہیں کہ کیپیٹلزم پرائیویٹ سیکٹر کی نمائندگی کرتا ہے ریاست کی کمرشل سرگرمیوں کی نہیں –

اسی بارے میں: ۔  پھر یہ پھرتیاں کس لیے ؟

ہم انسان کاربن کے اخراج سے متعلق ایک بڑی آزمائش میں ہیں – اس کی بنیاد پر ہم صنعتی تمدن کو رد نہیں کر سکتے کیونکہ بغیر صنعتی تمدن کے سات ارب سے زائد آبادی کا بوجھ نہیں اٹھایا جا سکتا – ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں آبادی کے اضافہ کا سب سے بڑا سبب صنعتی تمدن ہے ؛ وافر خوراک ، بہترین معیار زندگی اور انٹی بائیو ٹک ادویات – اس سلسلے میں دی گئی گراف آپ کی مددگار ہو گی – بل گیٹس کا کہنا ہے کہ دور حاضر کا سب سے بڑا محسن وہ ہو گا جو توانائی کے حصول کا ایسا ذریعہ دریافت کرے جس میں کاربن کا اخراج بالکل ہی نہ ہو یا انتہائی کم ہو کیونکہ اس طرح وہ دنیا کے سب سے بڑے چیلنج کو مثبت رسپانس کر رہا ہو گا – توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی توانائی وغیرہ کا تصور فری مارکیٹ اکانومسٹ زور شور سے پیش کرتے ہیں کہ یہ ذرائع اس چیلنج کو مثبت رسپانس کرنے کے لئے مارکیٹ کی ایجاد ہیں – قصہ مختصر یہ کہ یہ ایک طویل موضوع ہے جسے ایک کالم تو کیا ایک ریسرچ پیپر میں سمیٹنا بھی ممکن نہیں یوں مختصر جواب لکھنا میرے لئے دشوار ہے –\"\"

آج تک دنیا میں کسی ایسے دور کا تاریخ میں ذکر نہیں آیا کہ جو چیلنجز سے محفوظ ہو – ہم سات ارب آبادی کی حامل ایک پیچیدہ دنیا کے رہائشی ہیں – ہمارے مسائل بھی پیچیدہ ہیں اور ان کا حل بھی – دور حاضر کی سب سے بڑی قدر علم ہے – وہ علم جو ہمیں صرف یہ نہ بتائے کہ کیا چیز کیا ہے بلکہ یہ بھی کہ کس چیز کو کس طرح بہترین طریقہ سے سرانجام دینا ہے – ہمیں اپنے عہد کے مسائل کا باریک بینی سے اور مفصل جائزہ لینا ہو گا تاکہ ان کے حل میں مثبت پیشرفت ہو اور ترقی کے امکانات کو مزید وسیع کرنا ہو گا تاکہ ہر متجسس انسان اپنی منزل پا سکے – سیاسی سماجی اور معاشی زندگی میں سوائے آزادی مساوات اور انصاف کے اور کوئی بندوبست اس جستجو میں آج تک کامیاب نہیں ہو سکا – مارکیٹ کو قید کرنا انسانوں کے قید کرنے کے مترادف ہے – آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا اور تمام دنیا کے انسانوں کے پوٹینشل کو کھل کر اظہار کے مواقع دینا ہی میرے نزدیک کامیابی کی بہترین صورت ہے –


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 134 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “محترم عامر رانا کے سوالات کے کچھ مزید جواب

  • 29-01-2017 at 9:13 am
    Permalink

    why you put climate change in this?? this is totally different topic,,,

Comments are closed.