انصاف کی فراہمی تک پاناما کیس سنتے رہیں گے، سپریم کورٹ


\"\"

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے وراثتی جائیداد کی تقسیم اور تحائف کی وصولی پر جواب کے لیے مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ تفصیل جمع کرانے کے لیے پیرتک کی مہلت دی جائے جس پر جسٹس کھوسہ نےاستفسار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ تمام دستاویزات ہیں اور پیش کردی جائیں گی لیکن اب آپ دستاویزات پیش کرنے کے لیے وقت مانگ رہے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ عدالت فیصلہ نہیں کر رہی تاہم عدالت سست روی کا شکار نہیں ہے، ہم کسی سے مرعوب نہیں ہوں گے اور قانون پر فیصلہ دیں گے لوگوں کی خواہشات پر نہیں، انصاف کے تقاضے پورے ہونے تک کیس سنیں گے اور یہ کیس تب تک سنیں گے جب تک مطمئن نہیں ہوتے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔