قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی : ایاز صادق کی استعفے کی پیشکش


\"\"قومی اسمبلی میں گزشتہ روز ہنگامہ آرائی پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماوں کو استعفے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ سوچتے ہیں کہ میں جانب دار ہوں تو وزیراعظم سے بات کرکے استعفیٰ دے دوں گا۔
قومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماو¿ں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کل پریس گیلری سے کسی خاتون نے موبائل کیمرے سے فوٹیج بنائی، مناسب ہے کہ آئندہ پارلیمنٹ کے اندر فوٹیج نہ بنائی جائے۔
سپیکر کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران سب کا اتفاق تھا گزشتہ روز جو ہوا وہ جمہوریت اور پارلیمان کے تقدس کے لیے اچھا نہیں تھا کیونکہ اس سے پارلیمینٹیرینز کی عزت بڑھی نہیں کم ہوئی اور اب طے پایا کہ غیر مناسب نعرے بازی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پہل کس نے کی ہم اس تفصیل میں نہیں گئے لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے زیادتی ہوئی جب کہ خواتین، قیادت اور پارلیمینٹیرینز کی عزت کے حوالے سے تجاویز آئی ہیں تاہم پیر کو 3 بجے دوبارہ اجلاس ہو گا جس میں آج کی تجاویز پر لائحہ عمل بنائیں گے۔
ایاز صادق نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلوں کو کیسے منوانا ہے یہ لیڈر شپ کی ذمہ داری ہے، یہ بھی تجویز آئی کہ ایوان میں تمام لیڈرز بات کریں کہ یہ ٹھیک نہیں ہوا جس پر میں نے کہا کہ آپ سوچتے ہیں میں جانبدار ہوں تو وزیراعظم سے بات کر کے استعفیٰ دے دوں گا تاہم سب نے کہا کہ آپ ٹھیک اجلاس چلا رہے ہیں جب کہ پارلیمانی رہنماو¿ں نے قیادت سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں