لانگ بوٹ فار لانگ روٹ


\"\"کچھ صحافی بھی نا مظلومیت کی چادر ایسے اوڑھتے ہیں جیسے کلبھوشن یادیو بڑے جرائم کرنے کے بعد ٹی وی اسکرین پر ہوائیاں اڑی ہوئی معصوم اور بیچاری شکل کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔۔۔ یوں تو پرائے کام میں ٹانگ اڑانا بڑا ہی نازیبا سا لگتا ہے مگر جو دوسروں کو گرانے کے لئےہر پل اپنی ذات کو کیلے کے پھسلن والے چھلکے کی مانند بنا لے اسکی ٹانگ میں بھی وہی لونگ بوٹ فکس کرنا پڑ ہی جاتا ہے جو طنز کی راہوں پر چلتے قدم روک سکے۔۔۔

 پہلی بات تو یہ کہ ہم صحافی دھکے کھاتے ہیں، خوار ہوتے ہیں، آنسو گیس، تڑ تڑ چلتی گولیاں جانے کیا کچھ نہیں دیکھتے۔ مگر ایک سوال ہے۔۔۔ اگر اتنا ہی ظلم ہے ہم پر تو ہم کوئی اور پیشہ کیوں نہیں اختیار کر لیتے؟ معذرت کے ساتھ! پیشہ کوئی بھی آسان نہیں۔ رزق حلال اگر ایک کرسی پر بیٹھ کر بھی کمانا ہو تو کمانے والا کا یا تو دماغ ہر وقت پھٹ رہا ہوتا ہے یا کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔۔تو پھر بہتر ہے کہ گھر بیٹھ کر خواتین کے لباس، حسن، زلفوں، لونگ شوز اور ہرے سویٹر پر ہی تنقید برائے تنقید کی جائے۔۔

 دوسری بات یہ کہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں ہونے والی تقریبات بھی اکثر ہم صحافیوں کا ہی آخری سٹاپ ہوتی ہیں۔ وی آئی پی کھابوں پر بھی ہم صحافی مدعو ہوتے ہیں۔ سیاحتی مقامات پر بھی ہم صحافیوں کی ہی میٹینگز ہوتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تکالیف سے بھی دوچار ہیں۔۔۔ مگر ایسا نہیں کہ کوئی صحافی کسی بھی اعلی تقریب میں شان و شوکت کے ساتھ جا کر کبھی بھی آرام دہ کرسیوں پر نہیں بیٹھا۔ تو چاہے وہ پھڑ پھڑاتا کیری ڈبا ہو یا کورٹ روم میں کرسی کی قلت۔ ہر پل کا رونا کسی طور بھی باجی کو مظلوم ثابت نہیں کر پا رہا۔

 پھر باجی ہماری کو یہ بھی گلہ ہے کہ کوئی عورت انہیں جانتی نہیں پہچانتی نہیں پھر بھی لڑنے لگی؟ شکر ہے لڑائی کی صورت ہی میں سہی اس نے کوئی بات تو کی باجی تو خود بندے سے حال بھی نہیں پوچھتیں اور اس کے دل و دماغ کا حال جھوٹ کے جال میں پرو کر لکھ دیتی ہیں۔ کیا اس وقت باجی کے ذہن شریف میں یہ سوال نہیں آتا کہ جان نہ پہچان میں تیرے اڑ پھس ڈالنے والے مہمان کی صورت میں بلائےجان۔۔۔۔ ؟

 تو جناب ایسی ہی اڑپھس کسی اور کو بھی محسوس ہو سکتی ہے؟ باجی سے ہوا روبرو کوئی ان ہی کے جیسا۔۔۔ انسانوں کی مختلف عادتیں ہیں۔ کوئی جھوٹا نہیں کھاتا ،کوئی میٹھا نہیں بولتا، کوئی صبر کرنا نہیں جانتا،اور بلا۔۔۔ بلا۔۔۔ آپ کسی کرسی پر پہلے سے موجود بندے کی کرسی کے بازو کو اپنی کرسی بنا لو جیسے ایک خاتون نے خود بلا کر بٹھایا عین ممکن ہے دوسری کی عادت لگا کر کھانے کی نہ ہو، عین ممکن ہے وہ بھی باجی کی طرح گفتگو کے آداب سے واقف نہ ہو۔۔ تو بات تو صاف ہے جیسے کو تیسا۔۔۔

 اب رہی خاتون کی گالی کی بات تو اگر ایک بدتمیز شخص آپ کو اٹھنے کا کہہ رہا ہے اور آپ مسکرا رہے ہیں اسے جواب دینے کی بجائےاور ساتھ ہی زمانے بھر کی خراش آپ کے گلے میں آ جمی ہے تو معذرت کے ساتھ اگلی خاتون جو آداب گفتگو سے واقف نہیں وہ بھی منہ میں شہد بھر کر نہیں بیٹھی ہوئی۔۔۔ کیچڑ میں پتھر پھینکو گے تو چھینٹیں تو آئیں گی۔۔

پھر باجی پٹنی ڈال دیتی ہیں ہائےقوم ہائےقوم۔۔۔ باجی میری۔۔۔ جب بات کرنے والا ایک بد اخلاق شخص ہو نا تو قوم اس سے نہ تو اخلاقی بات کی توقع رکھتی ہے اور نہ ہی اسکی غیر اخلاقی بات سے اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ جو بداخلاق ہے اس کا تو کام ہے بری باتیں کہنا۔ جیسے جو حسد کا مارا ہوتا ہے وہ ہر وقت دوسرے کے حلیے پر تنقید کرتا پھرتا ہے۔۔۔ ۔قوم کا حصہ تو وہ خود بھی تھی مگر کیا ایسی گالی دینے والی خاتون کے قوم کا حصہ ہونے سے پوری قوم بری ہو گئی؟ نہیں نا؟ اسی طرح اگر وہ کسی سیاسی پارٹی کا۔حصہ ہے۔ تو پوری پارٹی بری نہ ہوئی۔۔ سیاسی پارٹی ملک میں کی گئی کارکردگی کی بنیاد پر اچھی یا بری کہلاتی ہے خواہ کوئی بھی ہو۔۔۔

افسوس کہ ایک خاتون کے اچھلنے کودنے کو آپ نے اتنا زیادہ اجاگر کیا مگر جانے کیوں آپ کی تحریر سے مجھے لگا جیسے لفظ لکھتے ہوئےدل میں ایک ایسا الاؤ روشن تھا کہ خیر سے حدت کے باعث دوارن تحریر چھلانگوں کا کوئی ریکارڈ یقینی طور پر باجی کی طرف سے بھی قائم ہوا ہو گا۔۔ ۔

اور آخری بات باجی۔۔۔ بوٹ لونگ ہوں یا سویٹر ہرا۔۔ ۔جب آپ کسی کی پسند پر تنقید کرتی ہیں تو خدا کی قدرت میں عیب نکالتی ہیں۔ اگر یہ منفرد رنگ نہ ہوں تو معاشرے میں ہر طرف صرف پھیکا پن ہی محسوس ہو گا۔۔ ۔ ذرا دیر کو سوچئےگا کہ آپ بھی تو کیسری جوڑا پہنتی ہیں اگر کل کو کسی اور عورت نے آپ پر کالم لکھ کر یہ کہہ دیا کہ انہیں کیسری جوڑے میں دیکھ کر یہ خیال آیا جیسے سیخ کباب بنارسی طرز کا تیار ہوا ہو۔۔۔؟

اوروں کو بھی تو حق ہے نا باجی۔۔ ۔ !

آہ میری بہت پیاری سہیلی کی بات یاد آ رہی ہے ۔۔۔ سعدیہ اسے کونسا کوئی کسی نے پہلی بار سنائی ہیں۔۔ ۔میری پپاری سہیلی شاید کہ اب کوئی لونگ شو اس طرح فکس ہو گیا ہو کہ حسد کی راہ پر جاتے پاؤں کو آگے نہ بڑھنے دے۔۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔