گھریلو ملازم بچوں پر تشدد کے پیچھے چھُپی نفسیات


\"\"طیبہ تشدد کیس نے ایک بار پھر اس مسئلے کو میڈیا اور عوام کی نظروں میں اجاگر کر دیا ہے جو کہ آج سے چند سال پہلے بھی بہت شدت سے سامنے آیا تھا – جنوری 2014 میں بھی ایک ماہ میں چار ایسے کیس سامنے آئے تھے جہاں مالکان کے ظلم و تشدد کی وجہ چار معصوم گھریلو ملازم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے – افسوسناک امر یہ تھا کہ چاروں کیس رجسٹر ہونے کے باوجود ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ملی تھی – اور خدشہ ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہو گا –

پاکستان میں‌ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد گھریلو ملازموں کی حیثیت سے کام کر رہی ہے – اگرچہ اس سلسلے میں کوئی حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں مگر ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی شہروں میں ہر چوتھے گھر میں ایک نہ ایک گھریلو ملازم ہوتا ہے ان میں سے بہت بڑی تعداد کم عمر بچیوں کی ہوتی ہے – ILO کی ایک تحقیق کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں تمام ملازمتوں میں سے چار سے دس فیصد تک ملازمتیں گھریلو کام کاج کی ہوتی ہیں – ILO کی ہی ایک اور تحقیق کے مطابق 2004ء میں پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد دو لاکھ چونسٹھ ہزار تھی جو کہ گھریلو ملازموں کے طور پر کام کر رہے تھے – 2005 کے ہولناک زلزلے اور اس کے بعد کے سالوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے پاکستان میں اس تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا – بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی اس تعداد میں اضافے کا سبب بنی – اندازہ یہ ہے کہ اب تک یہ تعداد بڑھ کر سات سے دس لاکھ تک پہنچ چکی ہو گی۔

تقریباً یہ سارے ہی بچے نہایت غیر انسانی حالات میں کام کرتے ہیں اور ان کو لگاتار جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے – نہ تو ان کے کام کے کوئی اوقات معین ہیں اور نہ ہی مقدار – یہ سارا سارا دن انتہائی سخت مشقت کا کام کرتے ہیں گندی اور غیر محفوظ جگہوں پر سوتے ہیں اور ان کی خوراک بھی معیاری اور مناسب نہیں ہوتی – ان کی تنخواہیں بھی اکثر ان کے والدین ایڈوانس میں لے چکے ہوتے ہیں – اگر ہم ان حالات پر نظر ڈالیں جن میں ان بچوں کو کام کرنا پڑتا ہے تو ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ گھریلو ملازمت بچوں کی مزدوری کی بد ترین شکل ہے- اگر ان بچوں سے کوئی غلطی ہو جائے یا پھر ان کے مالکان ان سے ناراض ہو جائیں تو ان بچوں کی حالت اور بھی دگرگوں ہو جاتی ہے کیونکہ یہ مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں- ان کے والدین ان کو چھوڑ کر اپنے گاؤں اور گھروں کو لوٹ چکے ہوتے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ۔

ان بچوں اور ان کے مالکان کے درمیان کے تعلق میں انتہا درجے کا عدم توازن ہوتا ہے – مختلف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس عدم توازن کی وجہ سے سے مالکان میں پرلے درجے کا غرور اور احساس برتری جنم لیتا ہے اور بچوں میں احساس کمتری، عدم تحفط اور بے بسی کے احساسات پنپتے ہیں – یہ بچے صرف تنخواہ کے لئے نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضروریات مثلاً کھانے اور رہائش کے لئے بھی اپنے مالکان کے محتاج ہوتے ہیں – اسی بے بسی کی حالت کی وجہ سے ہی یہ بچے استحصال، جبر اور تشدد کا شکار ہوتے ہیں – ان کے مالکان ان کو بحیثیت انسان بھی خود سے کمتر سمجتھے ہوئے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کو کوئی بری بات نہیں بلکہ اپنا حق سمجھتے ہیں – ان بچوں کو طبقاتی اور نسلی طور پر بھی خود سے کمتر سمجھا جاتا ہے –

اسی بارے میں: ۔  جناح کسی کے بھی ہیرو نہیں

طاقت کا یہی عدم توازن جس میں سارا اختیار اور طاقت ایک طرف اور دوسری جانب مکمل بے بسی ہوتی ہے تشدد اور ظلم کی نفسیات کو جنم دیتا ہے – اقبال فرما گئے ہیں کہ صاحبِ نظراں نشہ قوت ہے خطرناک- بچے کی زندگی پر مکمل اختیار اور کنٹرول کا احساس ہی وہ نشہ ہے کہ جو مالکان کو ان پر کسی بھی قسم کا تشدد اور جبر کرنے کا لائسنس دیتا ہے بلکہ اس پر اکساتا ہے – ہالینڈ کے نفسیات دان جان وینڈر ڈینن کی رائے ہے کہ طاقت اور اختیار ہر انسان کو کرپٹ کر دینے کا جوہر رکھتے ہٰیں – وہ کہتا ہے کہ کسی بھی قسم کا اختیار انسان کو نرگسیت کا مارا، مغرور، خود پسند، آمریت پسند بلکہ جنس کا شیدائی اور مزید طاقت اور اختیار کا بھوکا بنا دیتا ہے- طاقت اور اختیار کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں مگر ان میں سب سے بد تر وہ ہے جو کسی کی ذات ہر ہو یعنی ایک آجر یا مالک کا اپنے ملازم پر اختیار- یہ اختیار دوسرے کو مکمل طور پر اپنا زیرِ نگیں بنانے، اس پر مکمل طور پر حاوی آنے اور اس سے سب کچھ چھین لینے کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس میں صحیح اور غلط میں کسی تمیز کا قائل نہیں ہوتا –

یہ بات بھی کئی تحقیات کی مدد سے ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کے پاس جب بھی کسی پر اختیار ہو تو وہ پر تشدد روئیے اپنانے کی طرف مائل ہوتا ہے -اس میں دلچسپ بلکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ خاندانی پس منظر، تعلیم، رنگ اور نسل سے قطع نظر تمام انسان اسی قسم کا رویہ اپناتے ہیں اور اس میں کسی بھی قسم کی کوئی تخصیص نہیں‌- یہی وجہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ چاھے ڈاکٹر ہوں یا جج، وکیل ہوں یا بزنس مین سب کا رویہ ان گھریلو ملازمین کے ساتھ ایک ہی جیسا ہوتا ہے – انسان کی اسی خاصیت کو سمجھنے کے لئے 1971 میں سٹینفورڈ یونیورسٹی میں شعبہ سائیکالوجی کے پروفیسر فلپ جی زمبارڈو نے اپنے طلباء کے ساتھ مل کر ایک مشہور و معروف تجربہ کیا – اس تجربے میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی کہ کس طرح اداراتی اور نظام کے تحت حاصل اختیار انسانوں کو متشدانہ روئیوں کی طرف مائل کرتا ہے – اس تجربے میں ایک قید خانے کے ماحول کو تشکیل دیا گیا جس میں کچھ لوگوں کو قیدیوں اور کچھ کو گارڈز کا رول دیا گیا۔ کوشش یہ کی گئی کہ اس قید خانے کے ماحول کو جس حد تک ممکن ہو سکے اصلی قید خانے کے ماحول کے مطابق بنایا جائے – ارادہ یہ تھا کہ یہ تجربہ پندرہ دن تک جاری رکھا جائے- مگر جیسے ہی تجربہ شروع ہوا برائی کی قوتوں نے اپنا کام دکھانا شروع کر دیا اور اس فرضی قید خانے میں تشدد اس حد تک بڑھ گیا کہ تجربہ صرف چھ دنوں میں ختم کرنا پڑا- دیکھا یہ گیا کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے امن پسند نوجوان جن کو گارڈز کا کردار دیا گیا تھا اپنے قیدیوں پر جو کہ ان کے ہی ساتھی تھے بلا جھجک تشدد کر رہے تھے اور قیدی بھی جو در حقیقت قیدی نہیں تھے اصلی قیدیوں کی طرح اس تشدد کو برداشت کر رہے تھے – کچھ گارڈز نے یہ بھی اقرار کیا کہ ان کو ایسا کرنے میں مزہ آ رہا تھا- بعد میں کئے جانے والے کئی تجربات اور تحقیقات نے بھی اس نامکمل تجربے کے نتائج کی تصدیق کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی دماغ جہاں انتہائی خوبصورت ادب اور آرٹ کے نمونے تخلیق کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ بے انتہا جبر اور تشدد کی بھی صلاحیت رکھتا ہے مسئلہ صرف اور صرف مکمل اختیار اور طاقت کا ہے – جہاں بھی دوسروں پر بے پناہ اختیار اور طاقت حاصل ہو انسانی دماغ جبر، ظلم اور تشدد کے بت نئے طریقے ایجاد کرنے لگے گا –

اسی بارے میں: ۔  بنگلہ گھاٹ کی گہری رات اور لہو میں ڈوبے ماہی گیر

یہ جو ہم گھروں میں ملازم بچوں پر تشدد کے واقعات دیکھتے ہیں یہ دراصل اسی سٹین فورڈ تجربے کا تسلسل ہے – جہاں بھی بے بس بچے اور ان پر مکمل اختیار رکھنے والے مالکان ہوں گے ظلم اور تشدد ضرور ہو گا – لوگوں کو اخلاقیات کے درس پڑھا کر اور اسلام کی تعلمیات یاد دلا کر اس تشدد اور ظلم کو کبھی بھی نہٰں روکا جا سکتا – اس مسئلے کا واحد مستقل حل گھروں میں کم عمر بچوں کو ملازم رکھنے پر مکمل پابندی کے علاوہ کچھ بھی نہیں- چونکہ مالکان کو بچوں کی طرف سے مزاحمت یا جوابی کارروائی کا کوئی خوف نہیں ہوتا اس لئے تشدد ہوتا رہے گا اور بچے مرتے رہیں گے جب تک کہ بچوں کو ملازم رکھنے پر مکمل پابندی نہیں لگائی جائے گی اور اس پر عمل درآمد نہیں کروایا جائے گا-


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔