اگر آج ہم سلمان حیدر کے لیے نہ بولے۔۔۔


\"\" ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کا نسخہ کس قدر کارگر ہے، یہ ہم سے زیادہ شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ گزشتہ سات دہائیوں سے جس قسم کے لوگ چہرے بدل بدل کر ہم پر حاکم ہیں، ان کی کام یابی کا راز یہی یک سطری کلیہ ہی تو ہے۔ زبان، رنگ ونسل سے لے کر ذات پات اور سیاست سے لے کر دھرم اور عقائد تک۔ یہ تقسیم جتنی گہری ہوگی، حاکمیت کا شکنجہ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔

مجھے یہ احساس سلمان حیدر اور دیگر کے اغوا یا لاپتا ہونے کے بعد شدت سے ہوا۔ ہمارے بعض نام نہاد باشعور طبقے نے بجائے ان کے اغوا کے خلاف آواز بلند کرنے کے الٹا ان کے اغوا ہونے کی وجوہات بیان کرنا شروع کر دیں۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ انہیں کس نے اٹھایا ہے، مگر باقاعدہ ایک مہم شروع کر دی گئی، جس کا واضح مقصد ایک ماورائے آئین اور قانون اقدام کو جواز فراہم کرنا تھا، اس کے ساتھ معاشرے کے ایک بہت بڑے طبقے نے سلمان حیدر اور لاپتا افراد کے معاملے پر ان کے مذہبی اور سماجی عقائد کی بنیاد پر دوری اور لاتعلقی اختیار کی۔ کسی نے یہاں تک کہا کہ ”ان“ نے بھی تو ”ہمارے“ لوگ جب اٹھائے گئے، یا ماورائے عدالت قتل کیے گئے تو لاتعلقی رکھی سو ہم بھی انتقاماً یہی کریں گے۔ بہت سے ذہنی غلاموں نے نظریاتی اور عقیداتی تعصب کی بنیاد پر اس واقعے پر کھلم کھلا اظہار مسرت کیا۔

’فیس بک‘ پر ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے علی الاعلان کہا کہ میں استاد ہونے کے باوجود سلمان حیدر کے لیے کچھ نہ کہوں گا کہ ان کے ’کام‘ ہی ایسے تھے! اور ان ’کاموں‘ میں موصوف نے ’فیس بک‘ پر مبینہ طور پر ان کی جانب سے کچھ ’صفحات‘ کا حوالہ دیا۔

طرح طرح کے خانوں میں بٹے ہوئے عوام ہی دراصل اوپر والوں کے جبر کا ایک کارگر ہتھکنڈا ہے، جس کی وجہ سے نام نہاد پڑھے لکھے بھی بہ آسانی ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ لاپتا ہونے والا لاکھ آپ سے سیاسی، لسانی، مذہبی، نظریاتی یا سیاسی اختلاف رکھتا ہو، مگر آپ کو تو ایک ماورائے آئین اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم راہ کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے، الٹا آپ بھی پست ترین سوچ کا اظہار فرما رہے ہیں۔

تعلیم اور شعور ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ کوئی بھی فرد چاہے مبینہ طور پر کتنے ہی گھناﺅنے ”جرائم“ میں ملوث کیوں نہ ہو، ہمیں چاہیے کہ قانون شکنی کے خلاف پوری قوت سے بولیں اور کہیں کہ یہ چلن غلط ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ آج سلمان حیدر کے لاپتا ہونے کو حق بجانب قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، یہی لوگ ماضی میں لاپتا ہونے والوں پر انسانی حقوق کے حوالے دیتے نہیں تھکتے تھے، جب ایک یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی اور لندن سے پڑھا ہوا استاد اس قدر کم تر سوچ کا مظاہرہ کر سکتا ہے، تو پھر باقیوں کی ڈگر کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ ایسے لوگ یہ سوچنے سے بھی عاری ہیں کہ ماورائے قانون و آئین چلن چل نکلا تو کل کو جسے چاہا ’غدار‘ اور ’کافر‘ کہہ کر اٹھالیا جائے گا اور جو چاہے سلوک کیا جائے، پھر آج جس طرح آپ سلمان حیدر کے لیے بیگانے بنے ہیں، یہی سلوک آپ کی باری پر بھی باقی لوگ کریں گے اور سوچیں گے کہ ہم کیوں بولیں، ہم تو لبرل ہیں اور وہ تو کٹر مذہبی فکر کا ہے، یا ہم تو فلاں مکتبہ فکر کے ہیں اور وہ تو نظریاتی، سیاسی یا لسانی طور پر ہمارا مخالف ہے۔

آپ سلمان حیدر کو چاہے جس ’جرم‘ کا مرتکب سمجھتے ہوں، لیکن خدارا، اس طرح کی جبری گمشدگی پر شادیانے نہ بجائیے۔ حاکموں کے مفادات بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی، کچھ بعید نہیں کل یہ سلوک آپ کے ساتھ بھی ہونے لگے۔ اس لیے آواز اٹھائیے تاکہ اپنا کل آزاد اور محفوظ بنا سکیں۔

تعارف: بلاگر اِبلاغ عامہ اور تاریخ کے طالب علم ہیں۔ انسانیت کی پامالی پر دل گرفتہ رہتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واحد مسرت کی دیگر تحریریں
واحد مسرت کی دیگر تحریریں

One thought on “اگر آج ہم سلمان حیدر کے لیے نہ بولے۔۔۔

  • 27-01-2017 at 11:50 pm
    Permalink

    First they came for the Socialists, and I did not speak out—
    Because I was not a Socialist
    Then they came for the Trade Unionists, and I did not speak out—
    Because I was not a Trade Unionist
    Then they came for the Jews, and I did not speak out—
    Because I was not a Jew
    Then they came for me—and there was no one left to speak for me

Comments are closed.