میں اور ’ہم سب‘


masood qamar

خوبصورت انداز تحریر اچھا جملہ شروع سے ہی میری کمزوری رہا ہے۔ لکھنے کا اگر انداز خوبصورت ہو تو چاہے وہ ان نظریات کے بارے میں ہی لکھا ہو جن سے میں اختلاف رکھتا ہوں مگر اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں بلکہ اپنے مخالف نظریات کو سمجھنے میں اور آسا نی سمجھتا ہوں۔ آپ انتظار حسین جی کے نظریات سے لاکھ اختلاف رکھتے ہوں مگر ان کا انداز ِ تحریر آپ کو جکڑ لیتا تھا۔ محاوروں میں افسانہ بنا نا کوئی ان سے سیکھے۔ اب ہمیں اتنے خوبصورت الفاظ میں کون بتائے گا کہ لاہور میں اب کے کوئل نہیں کوکی، اب پتنگوں سے خالی آسمان کا نوحہ کون لکھے گا؟
ایک دن جنگ اخبار کے کالموں میں وجاہت مسعود جی کا کالم پڑھا اور ان کے انداز ِ تحریر کے نشے میں آج تک ڈوبا ہوا ہوں۔ آج کل اخبارات میں کالموں کا جمعہ بازار لگا ہے مگر ایک جملہ پڑھنے کو نہیں مل رہا۔ لوگ مضمون اور کالم میں فرق ہی محسوس نہیں کرتے، بس پگڑیاں اچھل رہی ہیں یا لفظوں کے کشکول آپ کو نظر آئیں گے۔
طالبان خاندان کے ایک انتہائی اہم رکن صحافی نے ایک کالم لکھا تھا کہ ”طالبان نے کس کے ہاتھ مضبوط کیے؟“۔ وجاہت مسعود نے بہت ہی خوبصورت انداز میں اس کا جواب دیا ۔ یہ ان کا خوبصورت انداز تحریر ہی تھاکہ وہ صحافی جو لوگوں کو لبرل فاشسٹ اور ذہنی بیمار سیکو لر کے خطاب دیتا تھا اس نے جوابی کالم میں وجاہت جی کو ” درویش لبرل “ کا خطاب دیا۔ اس کالم کا بھی وجاہت مسعود نے جواب لکھا مگر میں وجاہت مسعود جی کو ملنے والے ” درویش لبرل“کے خطاب پہ ہنستا رہا ۔
کل فیس بک کھولے بیٹھا تھا۔ دیکھا کہ مسعود وجاہت آن لائن ہیں۔ میں نے ان کے ان بکس میں جا کر ان کو ملنے والے اس نئے خطاب پہ مبارک باد دی اور پھر ہم دوسرے موضوعات پہ گفتگو کرنے لگے ۔
میں نے ، ’ہم سب‘ کی بھی مبارک باد دی اور ان سے ’ ہم سب‘ میں لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انھوں نے خوشی سےتجویز قبول کر لی۔
تو صاحب اب ہم بھی ، ’ہم سب ‘ میں لکھا کریں گے۔


Comments

FB Login Required - comments