اُس کو شاید کھلونا لگی ہتھکڑی


\"\" کہتے ہیں کہ برا وقت آئے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کے حوصلے چٹان کی مانند ہوتے ہیں۔ جو برے وقت میں سائے کی طرح ساتھ چھوڑ جانے کی بجائے سائے کی طرح چمٹے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بُرے وقت میں اپنوں میں چھپے غیر اور غیروں میں چھپے اپنوں کی پہچان بھی ہوجاتی ہے۔ کچھ یہی معاملہ رہا ہے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کے ساتھ بھی۔ جوں ہی ان کی سیاسی زندگی کا دوسرا کڑا امتحان آیا تو ان کے با اعتماد ساتھی انھیں چھوڑ کر جانے لگے۔ ایم کیو ایم کا اچھا برا ماضی اپنی جگہ مگر حقائق سے انحراف سراسر ناانصافی ہوگی۔ کچھ سر پھرے ایسے بھی تھے جنھوں نے کارواں میں شامل ہونے کے لئے اس وقت کا انتخاب کیا جب کارواں گھنے سایہ دار گلستانوں سے نکل کر تپتے صحرا سے گذر رہا تھا اور گرم ریت پر آبلہ پا مسافر رواں دواں تھے۔ آگ برساتا سورج مسافروں کو آبلہ تن بھی کر رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں متعدد کڑیل جوان کارواں کو چھوڑ کر سائبانوں کی تلاش میں جا چکے تھے۔ مگر کچھ ضعیف العمر لوگ کارواں میں شامل ہوگئے۔ پروفیسر حسن ظفر عارف کے ساتھ ساتھ معروف انقلابی رہنما کامریڈ مومن خان مومن نے بھی متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کرلی۔ جو لوگ گورنری، وزارتوں اور مراعات کی وجہ سے ایم کیو ایم کے قائد سے جڑے ہوئے تھے انھوں نے لاتعلقی اختیار کرلی جبکہ حسن ظفر عارف اور مومن خان مومن نے ہتھکڑی پہن کر بھی تعلق کو قائم رکھا۔

عمر کے اس حصے میں ہتھکڑی وہ بھی بے گناہ ہونے کے جرم میں۔ مومن خان مومن کا جرم یہی ہے کہ عمر بھر \"\"منشیات کیوں نہیں بیچی۔ غیر قانونی اسلحے کی فیکٹریاں کیوں نہیں لگائیں۔ پروفیسر حسن ظفر عارف کا جرم ان کی آگہی ہے۔ وہ آگہی جو حقیقت پسندی کی جانب لے جاتی ہے۔ اس دورِ ابتلا کی حقیقت پسندی یہی ہے کہ زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنے قبیلے سے جڑے رہو۔ قبیلے مضبوط ہونگے تو قوم مضبوط ہوگی نتیجے میں وطن کی بنیادیں مضبوط ہونگی۔ اس ملک کے نوے فیصد لوگ زبان کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ یہی زمینی حقیقت ہے۔ حسن ظفر عارف اور مومن خان مومن کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑیاں یہ بتا رہی ہیں کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کاخاتمہ نہیں ہوا ہے۔ کتنے حسن ناصر ہیں تختہ دار کے منتظر یہاں۔ کتنے منصور ہیں سولی کے طلبگار یہاں۔ عدالت میں جب آواز لگتی ہوگی، مومن خان مومن حاضر ہو تو یقیناَ مومن ہی حاضر ہوتا ہوگا۔ جب ظفر عارف کو پکارا جاتا ہوگا تو کوئی عارف ہی ہوگا جو منصف کے روبرو اپنے مرتبے کا لحاظ کئے بغیر با ادب با ملاحظہ قیام کرتا ہوگا۔ باپ کے ہاتھ میں جب اولاد کو ہتھکڑی نظر آتی ہوگی تو احساسات و جذبات کا کیا عالم ہوتا ہوگا۔ اُس باپ کے ہاتھ میں جس کا جرم صرف یہ ہو کہ اس نے ایک سیاسی تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہو اور اس تنظیم کے ماضی کے سارے گناہ ان لوگوں پر تھوپے جارہے ہوں جو ثابت قدم ہوں۔ جو قیادت سے لاتعلقی اختیار کرلیں وہ گنگا نہائے سادھو کی مانند ہوجائیں۔

مومن خان مومن کی بہادر بیٹی قوم کی بیٹی ہے۔ جس طرح ملالہ اور کامریڈ واحد بلوچ کی بیٹیاں بھی بلاشبہ قوم کی بیٹیاں ہیں اسی طرح ایک بے گناہ سیاسی قیدی کی بیٹی بھی قوم کی بیٹی کیوں نہیں ہوسکتی۔ اس بہادر بیٹی نے جب باپ کے ہاتھ میں ہتھکڑی دیکھی تو بجائے افسردہ ہونے کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ پاکستان جب سے بنا اس ملک کی عوام نے مارشل لا بھی دیکھے اور جمہوریتیں بھی دیکھیں۔ مارشل لا کے ادوار بد اچھا بدنام برا کی مانند ہمیشہ بدنام رہے۔ مگر دیکھا جائے تو جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کی جمہوری حکومتوں میں بھی عوام کا معاشی، سماجی اور سیاسی قتل عام کیا گیا۔ کراچی کے شہریوں کے ماورائے عدالت قتل ایک جمہوریت کی چیمپئن کہلانے والی جماعت کے دور حکومت میں ہوئے تھے۔ جن الزامات کے تحت اس حکومت کو برطرف کیا گیا ان میں سے ایک الزام ماورائے عدالت قتل کا بھی تھا۔ ایم کیو ایم کے دور حکومت میں بھی بلدیہ فیکٹری، بارہ مئی اور دیگر واقعات رونما ہوئے۔ جس طرح یہ ملک مختلف تجربوں سے گذرتا آیا ہے۔ یہی حال سیاسی تنظیموں کا بھی ہے۔ طاقتور اداروں سے بھی غلطیاں ہوئیں اور سیاسی تنظیموں سے بھی۔ جمہوری اور سیاسی ارتقاء کو جاری رکھنے میں ہی ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ مومن خان مومن اور ان کی بیٹی کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ ملک کے سیاسی کارکنوں کےلئے نویدِ سحر ہے اور اشرافیہ کے لئے خوف کی علامت کہ آج بھی نظریاتی لوگ زندہ ہیں۔ بیٹی مسکرارہی تھی اور باپ کے ذہن میں حبیب جالب کے یہ اشعار گونج رہے ہونگے۔

اُس کو شاید کھلونا لگی ہتھکڑی

میری بچی مجھے دیکھ کر ہنس پڑی

یہ ہنسی تھی سحر کی بشارت مجھے

یہ ہنسی دے گئی کتنی طاقت مجھے

کس قدر زندگی کو سہارا ملا

ایک تابندہ کل کا اشارہ ملا

 


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “اُس کو شاید کھلونا لگی ہتھکڑی

  • 29-01-2017 at 1:27 am
    Permalink

    Zulm ki siah rat dhalnay wali hay haq parsto zara hosla rakhna seaher honay ko hay in shah allah

Comments are closed.