’ہم سبٗ بس ایسے ہی ہیں


aniq naji صوفے پر نیم دراز میں جاتی ہوئی سردیوں کی آخری دھند کھڑکی سے دیکھ رہا تھا۔ موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ کال کرنے والے نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ بتایا لمبی بات نہیں کرسکتا۔ ضروری کام سے کہیں جانا ہے۔ کال کرنے والے نے مدعا بتا کر جلدی سے فون بند کر دیا اور میں نے ٹی وی آن کر دیا۔ میری بیٹی نے دریافت کیا، آپ نے تو کام سے جانا تھا۔ میں نے سمجھایا کہ میں جان چھڑا رہا تھا۔ اس نے پوچھا پھر جھوٹ کیا ہوتا ہے؟ میں بولا : بہت بری چیز ہوتا ہے۔ تم نے کبھی نہیں بولنا اور ہاں! ڈیڈی کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ اس نے دوبارہ سوال کرنے کی کوشش کی۔ میں نے فوراً آوازبلند کر کے اپنی جان چھڑائی۔ ننھا ذہن الجھا تو ضرور ہو گا۔ لیکن آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگے گی۔

جھوٹ صرف وہ ہوتا ہے، جو کمزور بولتا ہے۔ طاقتور ہمیشہ حق پر ہی ہوتا ہے۔ جہاں دو افراد 1985ءسے 1993ء تک پھر 1997ء سے 1999ء تک اور پھر 2008ء سے تاحال پنجاب کے حکمران ہیں اور آج بھی کہتے ہیں کہ تھانہ کلچر تبدیل کر دیں گے؟ پٹواری کلچر تبدیل کر دیں گے؟ ہربچہ سکول جائے گا؟ انصاف دہلیز پر دیں گے؟ بے روزگاری ختم کریں گے؟ یعنی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے آج بھی مستقبل کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ وعدے بھی ہو رہے ہیں ۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ ماضی بعید کوچھوڑیں۔ گزشتہ ساڑھے سات برس میں جو کام آپ نہ کر سکے، آئندہ کیسے کر پائیں گے؟ وہ نظام جس کی بدولت حیرت انگیز کامیابیاں آپ نے سمیٹیں اور آج بھی حکمران ہیں، اس کو بدل کر آپ اپنے پیروں پر کلہاڑی کیوں ماریں گے؟ بلٹ پروف جاپانی لگژری جیپ کا مسافرکہتا جا رہا ہے کہ وہ غریبوں کا نمائندہ ہے اور ان کا درد سینے میں لئے پھرتا ہے۔ اور کیا غلط کہتا ہے جب برادر بزرگ انمول گھڑی کلائی پر باندھ کر، جرمن گاڑیوں کے قافلے میں یوں گھومے، جیسے فاتح جنرل مفتوحہ علاقوں کا جائزہ لینے نکلا ہو اور پھر بیان کرے کہ غریبوں کو انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ سب جانتے ہیں، غریبوں کو عدل و انصاف ملنے کی صورت میں آنجناب کے پیروں کے نیچے سے وہ زمین ہی نکل جائے گی، جس سے حضور طاقت کشید کرتے ہیں۔ لیکن سب خاموش ہی رہتے ہیں۔ حقیقت پسندی یہی ہے۔

شریف برادران کے جدہ نکل جانے پر ، آصف زرداری بزدلی کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے۔ جیل کاٹنے کو دلیری کا نام دیتے تھے۔ کراچی میں کھڑے ہو کر نعرہ مستانہ بلند کیا۔ پھر نہ جانے کیا ہوا، ایسا دبئی نکلے کہ دلیری کی شان بڑھا دی۔ کیا اب بھی وہ شریف برادران کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہیں؟ان کی حکمرانی میں بھوک سے بلکتے بچے ، آئے روز لقمہ اجل بنتے ہیں۔ پروٹوکول کی وجہ سے مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہلاک ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے سات سال میں لاہور میں ہونے والے ترقیاتی کام کا آدھا بھی وہ کراچی کو نہ دے پائے۔ دعویٰ ان کا بھی یہی ہے کہ وہ عقل کل ہیں اور غریبوں کا درد انہیں کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتا۔

برسوں سے منجمد سیاست اور روایتی سیاسی چہروں سے اکتائے ہوئے لوگ ایک نئی اور تازہ ہوا کو محسوس کر کے جاگتے ہیں اور عمران خان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ خان صاحب روایتی سیاست کوچیلنج کرتے ہیں۔ روایتی زبان بولتے ہیں اور پھر شاہ محمود قریشی مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ آ کھڑے ہوتے ہیں۔ شیخ رشید جیسا اصول پسند اور باکردار لیڈر، انہیں نصیحت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ جن لوگوں میں تبدیلی کی نہ صرف خواہش تھی بلکہ وہ گھروں سے باہر نکلے تھے، آج مایوسی کا شکار ہیں۔ سب جانتے ہیں ، عوام کی مایوسی اور سیاسی نظام سے لاتعلقی کا فائدہ ہمیشہ کی طرح حکمران طبقات کو ہوتا ہے اور پھر ہو رہا ہے۔

دین کی فکر میں موٹے ہوتے ہوئے علماومشائخ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہماری پسماندگی، جہالت اورمسائل کا اصل سبب، ہمارے گناہ ہیں اور اگر کوئی انفرادی حیثیت میں نیک ہے، تب بھی وہ اجتماعی گناہوں کا کفارہ بھگتے گا۔ کیونکہ اس نے دین کی تبلیغ میں حصہ نہیں ڈالا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان کی اولادوں کے علاوہ سب پر جہاد فرض تھا اور بعض صورتوں میں آج بھی ہے۔ لیکن نہ کوئی بولتا ہے اور نہ ہی جلسوں کے ہجوم میں کمی واقع ہوتی ہے۔ علما بولنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور لاکھوں مداحوں کی خودسپردگی کا مزہ لیتے ہیں۔ کان ترستے ہیں کبھی سنیں کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ لہٰذا ہم اپنے محلوں، گلیوں اور شاہراہوں کی صفائی کریں گے۔ پھول لگائیں گے۔ پھلدار درخت لگائیں گے۔ رائے ونڈ میں تبلیغی مرکزمیں ایمان تازہ کرتے سینکڑوں افراد ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔ ہزاروں تبلیغی بھائی، دین کی دعوت دینے تین دن سے چالیس دن ہزاروں سینکڑوں میل سفر بھی کرتے ہیں۔ کیا یہ نصف ایمان جوکہ صفائی ہے کے لئے کبھی تین یا چالیس دن نکالیں گے، کیا یہ ممکن ہے کہ تبلیغی بھائی جو نظم و ضبط کے پابند بھی ہیں، غریبوں کی بستیوں میں صفائی کرتے دکھائی دیں؟ علامہ طاہرالقادری کے چاہنے والے بہرحال موجود ہیں اور جان پر کھیلنے کو تیار بھی۔ کیا کبھی علامہ اپنی طاقت جو دنیا بھر میں پھیلی ہے، کا فائدہ اٹھا کر، اپنے مراکز کے علاوہ یتیم خانے بھی بنائیں گے؟ مولانا فضل الرحمن کو سیاسی جادوگرسمجھا جاتا ہے۔ دلیل اور الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا کبھی وہ اپنی حکمت اورطاقت کا رخ ان بیواﺅں اور یتیموں کی فلاح کی جانب کریں گے، جن کے رکھوالے دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں کبھی یہ بحث ہوگی کہ حالت جنگ میں مبتلا ملک کے آفت زدہ علاقوں کے شہریوں کو عید کی قربانی، عمرہ اور حج پر خرچ ہونے والی رقم مدد کے لئے دی جا سکتی ہے؟ کیا کبھی کوئی فتویٰ آئے گا کہ ملک بھرمیں پھیلی مساجد عشا کے بعد فجر تک بے گھروں کا آسرا بنیں گی۔ ایم کیو ایم کے نوجوان تو کیا، اب توسینئر دوستوں کو بھی یاد نہیں کہ 80ءکی دہائی کے وسط میں ان کے کارکنوں نے کراچی شہر کو صاف کرنے کی مہم چلائی تھی اور ہزاروں نوجوان لڑکوں لڑکیوں نے اپنے شہر کو دھو ڈالا تھا۔ مجال ہے ایسی کوئی صفائی مہم دوبارہ دیکھنے کو ملے۔ صفائی تو ضرور ہوتی رہی۔ مگر راستوں کی نہیں۔

سفاک آمر یا مسیحا کی خواہش کا نتیجہ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویزمشرف نکلے۔ ایک مادرملت کورسوا کر کے سچا ثابت ہوا۔ دوسرا ملک توڑکے۔ تیسرے نے تو کمال ہی کر دیا۔ اس کا دیا سچ آج بھی آئین، قانون اور معاشرے میں دھاڑیں مار رہا ہے اور رہا چوتھا، تو ہم سب کے سامنے ہے۔ سچا تھا۔ سچا ہے، توآرام سے بیٹھا ہے نا!

تاجر سینہ ٹھونک کرکہتا ہے کہ دکان کھولنے اور بند کرنے کے اوقات کی کسی حکومتی پابندی کو نہیں مانے گا۔ ٹیکس نہیں دے گا۔ حکومت اس سے مذاکرات کرتی ہے اور عوام کو قدموں تلے رکھ کر جھک جاتی ہے۔ ایک اور طبقہ جس میں امیرغریب سب شامل ہیں۔ اپنی ہر ناکامی اور حسرتوں کا ملبہ مغرب پر ڈالتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کا اوڑھنا بچھونا، اپنی تہذیب اور ثقافت کی حفاظت کرنا ہے۔ ہرتبدیلی اور سائنسی دریافت، ان کو شیطانی نظر آتی ہے۔ آپ کوملے ہوں تو بتایئے۔ مجھے آج تک امریکیوں کا کو کوئی تبلیغی گروہ نہیں ملا، جو ہمیں برگرکھانے پرآمادہ کرے یا جینز پہننے کی دعوت دے۔ کتنے امریکی ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم فیس بک یا ٹیوٹرکو لازمی استعمال کریں۔ اگر تو معاملہ اشتہارات کا ہے تو اسلامی بھنڈی اور پاکستانی پراٹھا کے اشتہار دینے سے کون روکتا ہے۔ اسلامی بھنڈی کی ترکیب اگر عجیب لگے تو معذرت۔ لیکن اگر شہد اسلامی ہوسکتا ہے، تو بھنڈی کیوں نہیں؟

ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ سرکاری ہسپتال کی حالت زار میڈیا پر نشر ہونے سے ہی حکمرانوں کو خبر ہو گی۔ کیا اس سے پہلے وہ بے خبر ہوتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ سرکاری سکولوں کی حالت کیا ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو سرکاری سکولوں کے جراثیموں سے دور رکھتے ہیں۔ آج کل چائلڈ لیبر پر بات کرنے کا بڑا فیشن ہے۔ کیا یہ لعنت تازہ تازہ دیکھنے کو ملی ہے، جو اچانک شور برپا ہو گیا ہے۔ غریبوں کے بچے گلیوں اورسڑکوں پرہی کیا، ہر دوسرے گھر میں ملازمت کر کے، اپنی پیدائش کے حادثے اور زندگی کا خراج دیتے ہیں۔ ہندوﺅں کے براہمن، شودر کے سماجی نظام کا مذاق اڑا کر، ہم مساوات کے نعرے لگاتے ہیں اور ذات برادری سامنے رکھ کرووٹ دیتے ہیں۔ سبزنمبرپلیٹ لگی سرکاری اور پولیس کی گاڑیاں روزانہ بچوں کو سکول چھوڑتی اور مارکیٹ سے سودا ڈھوتی عام نظر آتی ہیں۔ شرمندگی تو خیر کس بات کی، مقابلے کے امتحان میں پاس ہوکر نئے آنے والے افسر سرکاری وسائل پر اس طرح حملہ آور ہوتے ہیں، گویا صدیوں اسی کا انتظار کیا تھا۔ ہم سب کودکھائی دینے والا یہ تماشا تو کمال کا ہے کہ پی آئی اے کی ہڑتال ہوتی ہے۔ ہزاروں مسافر رل جاتے ہیں۔ ان کی مدد کے بجائے، مجبوری سے فائدہ اٹھا کر نجی ایئرلائنزکرایہ تین گنا بڑھا دیتی ہے اور ایئرلائنز کا مالک اور کوئی نہیں، جناب شاہد خاقان عباسی ہیں جو حکمران جماعت کے بااثر وزیر ہیں۔ یہ وہی جماعت ہے نا! جس نے عامیوں کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ محترم قائد اپنے وزیر سے یہ بھی نہ کہہ سکے کہ کچھ لاج رکھ لو اور مجبوریوں کے دام نہ لگاﺅ اور اگر بے رحم منافع کمانا ہی ہے تو کم ازکم حکومت سے علیحدہ ہو جاﺅ۔ سیاست چھوڑو، کاروبار کرو۔ حکومت اور ہوتی کیا ہے؟ اگر ایک چھوٹا طبقہ ، عوام کے استحصال کی طاقت رکھتا ہو اور وہ ایسا کرے بھی تو حکومت عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کو استحصال سے بچاتی ہے۔ لیکن یہاں کیا ہوا، اور سب کے سامنے ہوا۔ مجبوریاں بکتی رہی ہیں اور بکتی رہیں گی۔ ہاں! فحاشی کے خلاف بہرحال ہم نے نعرے لگانے ہیں۔ کیا ہوا اگر دوست محمد کھوسہ پر کسی کے قتل کا الزام لگ گیا؟ الزام ہی تو ہے۔ خاتون سازش کر کے غائب ہوگئی ہوگی۔ سچ صرف وہ ہے، جوطاقتور بولتا ہے۔ کمزور ہمیشہ جھوٹ۔

 میری بیٹی محض 6سال کی ہے۔ ابھی کیا سمجھاﺅں؟ خود سمجھ جائے گی کہ ’ہم سب، بس ایسے ہی ہیں ۔

(برادر وجاہت مسعود نے ’ہم سبٗ کے نام سے نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان کومبارک اور نیک تمنائیں۔ )


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “’ہم سبٗ بس ایسے ہی ہیں

  • 12-04-2016 at 9:11 am
    Permalink

    عمدہ تحریر ہے. مبارکباد قبول فرمائیں.

Comments are closed.