ٹرمپ کی صدارت اور پاک امریکہ تعلقات


\"\"
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا الیکشن جیتا اسلام آباد میں پاک امریکہ تعلقات کے مستبقل کے حوالے سے مسلسل قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ پہلے سے تناؤ کا شکار پاک امریکہ تعلقات کو ٹرمپ انتظامہ کیا رخ دے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی ایک متنازع امور ہیں جن پر طویل عرصے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو پا رہی ہے۔ چند ہفتے قبل امریکہ نے پاکستان کے میزائل سازی سے متعلق چند اداروں کے ساتھ کاروبار پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ قبل ازیں ایف سولہ طیاروں کی فروخت کو روک دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دوںوں ممالک کے درمیان زبردست کشیدگی پیدا ہوئی کیونکہ پاکستان ان کی ادائیگی بھی کرچکا تھا۔
سابق صدر بارک اوباما کے مقابلے میں ٹرمپ قومی سلامتی اور دہشت گردی کے امور پر بے لچک اور سخت گیر پالیسی کے علمبردار کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ حریفوں کے ساتھ مکالمے کی بجائے دھونس جمانے کے قائل نظر آتے ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات میں دباؤ کا ہتھیار ابھی تک زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ اس کے باوجود اگر ٹرمپ نے پاکستان کو دباؤ کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی خلیج وسیع تو ہوسکتی لیکن حاصل کچھ نہ ہوگا۔
امریکہ کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ بنیادی مقام رکھتی ہے کیونکہ اس کے ساتھ امریکہ کی اپنی داخلی سلامتی جڑی ہوئی ہے۔ افغانستان سے ابھرنے والی القاعدہ نے امریکہ میں حملے کئے۔ یورپ میں بھی سبوتاژ کی کئی ایک کارروائیوں میں ملوث پائی گئی۔ طالبان اس کے حلیف تھے اور پاکستان کے اندر بھی موجود کئی ایک امریکہ مخالف گروہ ان تحریکوں کو نظریاتی اور فکری رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ملا جلا رجحان رہے گا۔ باالفاظ دیگر کشیدگی بھی برقرار رہے گی اور کچھ میدانوں میں تعاون بھی جاری رہے گا۔ اسے دوغلا پن بھی کہا جاسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی دوغلے پن سے دونوں ممالک کے تعلقات عبارت ہیں۔
افغانستان ایک ایسے خطہ ہے جو عالمی برداری بالخصوص امریکہ کے اربوں ڈالر خرچ کرنے اور بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہوسکا۔ افغانستان سے القاعدہ کو نکال باہر کرنے میں امریکہ کامیاب ضرور ہوا لیکن طالبان ابھی تک نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ کابل میں قائم صدر اشرف غنی کی حکومت کو مسلسل چیلنج بھی کرتے ہیں۔ پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں طالبان اور ان کے اکثر سرگرم حلیف افغانستان منتقل ہوچکے ہیں جہاں وہ حکومت مخالف کارروائیوں میں مصرف ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کابل اور قندھار میں یک بعد دیگرے حملے کر کے اپنی موجودگی کا بھرپور اظہار کیا۔
افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین تعلقات میں نہ صرف سرد مہری قائم ہے بلکہ وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں بھی جتی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کو افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اشتراک کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ افغانستان میں اگر چڑیا بھی پر مارتی ہے تو اس کا الزام پاکستان پر دھرا جاتا ہے اور صدر اشرف غنی کی حکومت اپنے آپ کو بری الزمہ قراردے دیتی ہے۔ کوئی بھی افغان فورسز اور خفیہ اداروں کی کارکردگی یا نااہلی کا سوال نہیں اٹھاتا بلکہ لمحوں میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔
اوباما انتظامیہ مایوسی اور جھنجھلاہٹ میں اپنے آخری سال میں بھارت کی حوصلہ افزائی کرتی رہی کہ وہ کابل حکومت کا ساتھ دے اور افغانستان میں امریکی انخلاء سے پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرے۔ معاشی ہی نہیں بلکہ دفاعی معاملات میں بھی اس کا شریک کار بننےاور اہل مغرب کا بوجھ بانٹے۔ بھارت روپیہ پانی کی طرح افغانستان میں بہا رہا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اس کی افغانستان میں موجوگی سوہان روح بنی ہوئی ہے۔ بھارت کی موجودگی اسے افغانستان میں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چنانچہ صحت مندانہ مسابقت کے بجائے دونوں ممالک ایک دوسرے کو زک پہنچانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ اس محاذ آرائی میں خسارہ صرف افغانوں کا ہوتا ہے جن کے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں اور ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔
امریکہ پاکستان سے اپنی خفگی کے اظہار کے لیے مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان کو کشمیری عسکریت پسندوں کی مدد سے باز رکھنے کے لیے بھرپور زور لگاتا ہے۔بھارتی فوجی ہلاک ہوں تو دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے لیکن بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر چپ سادھ لیتا ہے۔
چین کے ساتھ پاکستان کے وسعت پذیر تعلقات بھی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹرمپ کا امریکہ چین کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مخاصمت میں اضافہ متوقع ہے۔ ٹرمپ جیسے سیاستدانوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔ وہ چین کا ہوا کھڑا کر کے اپنے شہریوں کو خائف کرسکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد انتہاپسند مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی جنگی ماحول بنایا۔ اسلام فوبیا پیدا کیا۔ چین کے خلاف ٹرمپ پہلے ہی بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔ وہ قوم پرست اور قدامت پسند امریکی شہریوں کو چین کے خلاف اکسا کر ان کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان چین اور روس کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے تعلقات میں کشیدگی کے نمایاں امکانات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان چین اقتصادی راہ داری سے بھارت تو ناخوش ہے ہی امریکہ بھی مضطرب ہے۔ خطے کے کچھ اور ممالک بھی اپنی اہمیت کم ہوتے دیکھ کر بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ چین سے فاصلہ پیدا کرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی عسکری اور سیاسی اشرافیہ میں امریکہ کی ڈگڈگی بجانے والے بہت کم ہوچکے ہیں۔ چار سو چین کا ڈنکا بجتا ہے۔ پاک چین دوستی زبانی کلامی دعوؤں اور نعروں کے خول سے نکل کر کاروبار، اشتراک اور باہمی مفاد کے مضبوط قالب میں ڈھل چکی ہے۔
پاکستان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی امریکہ کے اندر بالخصوص محکمہ دفاع اور فوج میں مضبوط لابی پائی جاتی ہے جو ہر حال میں اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ امریکیوں کو پاکستان کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ اس کی تزویراتی حیثیت اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ چنانچہ امریکہ کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے نظر انداز نہیں کرسکتی۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث وہ خودبخود خطے کی سیاست اور معیثت کا محور بن جاتا ہے۔
دوسری جانب چین کے ساتھ گہرے سیاسی اور اسٹرٹیجک تعلقات کے باوجود پاکستان امریکہ کو کھونا نہیں چاہتا۔ وہ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ امریکہ اپنا وزن مکمل طور پر بھارت کے پلڑے میں نہ ڈال سکے۔ پاکستان مخالف امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کو حقیقت بننے نہ دیا جائے۔
پاکستان کا مفاد بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی برقرار رکھنے میں پنہاں ہے تاکہ امریکہ اور اہل مغرب کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی سے محفوظ رہا جا سکے۔ ان طاقتوں نے لیبیا، عراق اور اب شام کا جو حشر کیا ہے وہ اہل پاکستان کے لیے سبق آموز بھی ہے اور عبرت انگیز واقعہ بھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو اور اعلانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محض امریکیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آزمائش ہیں۔ وہ تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کو شراکت اور عزت کی بنیاد پر ساتھ لے کر چلنے کی بجائے طاقت کے زور پر چلانا چاہتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کا دنیا کی سپرپاور کا سربراہ بن جانا عالمی امن کے لیے سخت خطرہ ہے۔
امید ہے کہ امریکی شہری اور انتظامیہ انہیں اپنے جارہانہ عزائم کی تکمیل سے روکے گی اور دنیا کو کسی حادثے کا شکار نہیں ہونے دے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 35 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood