لاپتہ افراد کہاں ہیں؟


\"\" اپنے جوان بیٹے سے ملنے کے لیے تڑپتی ہوئی ایک ماں کی سسکیاں آج پھر سے یاد آرہی ہیں ۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے ساتھ ہی بھارت کا جنگی قیدی بن جانے والے بشارت شاہ کی بوڑھی ماں یہ کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا کرتی تھی کہ دشمن ملک میں اس کا بیٹا نہ جانے کس حال میں ہوگا، وہ کیا کھاتا ہو گا ، کہاں سوتا ہو گا ،اور کہیں اس پر تشدد تو نہیں کیا جاتا ہوگا۔ اسے قلق تھا کہ عام قیدیوں کے ورثا کی طرح اسے یہ سہولت کیوں نہیں کہ وہ اپنے جنگی قیدی بیٹے سے ملاقات کر سکے،اس کے لیے کھانا لے جاسکے اور اس کے لیے تسلی کے دو لفظ بول سکے۔بچپن کی یہ یادیں اس احساس کے ساتھ ذہن میں ابھر رہی ہیں کہ آج اپنے ہی ملک میں لاپتہ ہو جانے والے پروفیسر سلمان حیدر اور دوسرے بلاگرز کی ماﺅں اورعزیزو اقارب کی حالت اس ماں سے قطعاً مختلف نہیں ہوگی جس کا بیٹا 1972 ءمیں بھارت کا جنگی قیدی تھا۔

پروفیسر سلمان حیدر اور دوسرے لاپتہ افراد کس قسم کے خیالات کے حامل ہیں، ان خیالات کے ابلاغ کے لیے وہ کیا سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور ان کے خیالات اور سرگرمیوں سے یہاں کون کون خائف ہوا، اس کے متعلق بہت کچھ کہا جاچکا ہے جسے دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ سوچ کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ جو کچھ ابھی تک نہیں کہا گیا لوگوں کے ذہنوں کی رسائی وہاں تک بھی ہے۔ اس ضمن میں کہنے کی بات یہی ہے کہ اگر کسی نے اس ملک کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی ہے یا ملکی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کے ساتھ کسی بھی رو رعایت کے بغیر جو بھی قابل جواز قانونی کاروائی ممکن ہو سکتی اسے سر عام کر گذرنے سے ہر گز دریغ نہ کیا جائے مگر ایسی کسی بھی حرکت یا فعل سے ہر صورت گریز کیا جائے جس سے کسی فرد کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو سکتے ہوں۔ کسی بھی شہری کے انسانی حقوق کی پامالی نہ صرف آئین اور قانون سے روگردانی بلکہ ڈسپلن کی بد ترین خلاف ورزی کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔ مگر یہاں تو انسانی حقوق کو نظر انداز کرنے کے سب سے زیادہ شبہات ان کے لیے ہیں جن کے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ وہ اول و آخر سراپا ڈسپلن ہوں۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ پروفیسر سلمان حیدر وغیرہ کے لاپتہ کیے جانے پر شک کا دائرہ پھر سے ایسے ہی لوگوں کے گرد کھینچا جارہا ہے اور اس شک کووہ لوگ مزید تقویت بخشتے ہیںجو ٹی وی سکرینوں پر یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ وہ اپنے تئیں تصور کیے گئے ملکی مفاد کے لیے کسی بھی حد کو عبور کرنے کے مجاز ہیں۔

قانون کی حد کسی بھی فرد یا ادارے کے لوگوں پر بلا تفریق کس حد تک لاگو ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہو جانا چاہیے کہ 29 مئی 2010 ءکو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر 11 قیدی اڈیالہ جیل سے رہا تو کر دیئے گئے تھے مگر رہا ہوتے ہی وہ لاپتہ افراد بن گئے تھے۔ لاپتہ افراد کے ورثا نے خفیہ ایجنسیوں پر شک کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کی درخواستپر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پاکستان کی سر فہرست خفیہ ایجنسیوں ، آئی ایس آئی ، ایم آئی اور آئی بی کے سربراہوں کو جواب دہی کے لیے ذاتی طور پر عدالت میں طلب کر لیا۔ 24 نومبر 2010 ءکو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے کی بجائے خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان نے اس وقت کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کے ذریعے رجسٹرار سپریم کورٹ کو تحریری بیان میں مﺅقف پیش کیا کہ نہ تو اڈیالہ جیل سے رہا کیے گئے قیدی ان کی تحویل میں ہیں اور نہ ہی کوئی عدالت اس سلسلے میں ان سے براہ راست جواب طلب کر سکتی ہے لہذا اس طرح کی کاروائی وفاق پاکستان یا متعلقہ وزارت کے سیکریٹری کے توسط سے کی جانی چاہیے۔ 25 نومبر 2010 ءکوکیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے مذکورہ مﺅقف کو آئین و قانون کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ تو خفیہ اداروں اور نہ ہی ان کے سربراہوں کو آئین و قانون کے مطابق کسی قسم کا کوئی استثنیٰ حاصل ہے۔لہذا حساس اداروں کے سربراہوں کو آئین کے آڑٹیکل 185(3) اور سپریم کورٹ کے رولز 1980 ءکے تحت ذاتی طور پر حاضری کے نوٹس بھجوائے گئے تھے۔کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بنچ نے اس کے بعد سخت لہجے میں حساس اداروں کے سربراہاں کی توجیہہ کو غیر قانونی اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا تھا کہ کیا وہ کوئی ایسا قانونی حوالہ دے سکتے ہیں جس کی رو سے خفیہ ایجنسیوں یا ان کے سربراہان کو براہ راست نوٹس نہ بھیجے جا سکتے ہوں ۔ اٹارنی جنرل کا جواب نفی میں آنے کے بعد عدالت نے اپنے سابقہ احکامات بحال رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 13 دسمبر 2010 ءتک ملتوی کر دی تھی۔ اس کے بعد یہ کیس دلچسب مرحلہ میں یوں داخل ہوا کہ خفیہ اداروں کے سربراہوں کی طرف سے ایک درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت مقرر کردہ تاریخ سے قبل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا انہیں لاپتہ قیدیوں سے متعلق کچھ اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں جنہیں وہ عدالت کے روبرو پیش کرنا چاہتے ہیں۔اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جب قبل از مقررہ تاریخ کیس کی سماعت کی تو ایجنسیوں کے وکیل نے قیدیوں کی گمشدگی کا راز افشا کرتے ہوئے کہا کہ ان قید یوں نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد خود کو اپنی مرضی سے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے بھیس میں آنے والے اپنے دہشت گرد ساتھیوں کے حوالے کیا تھا جو انہیں قبائلی علاقوں میں اس جگہ لے گئے جہاں فوجی آپریشن جاری ہے۔ اسی آپریشن میں مصروف فوجیوں نے جب ایک کاروائی کے دوران کچھ افراد کو اپنی تحویل میں لیا تو ان میں اڈیالہ جیل سے رہا کئے گئے 11 قیدی بھی برآمد ہوئے۔ یوں سپریم کورٹ کی مداخلت سے اچانک لاپتہ ہونے والے11 افراد کی گمشدگی کا مسئلہ کسی نہ کسی حد تک حل ہوا۔

مذکورہ مثال سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ کسی بالا دست ادارے میں تشریف فرما لوگ خود کو جو جس قدر بھی برترتصور کر لیںان کیبرتری کسی صورت بھی اس قانون سے بالا نہیں ہو سکتی جو ہر نفس اور ادارے پر یکساں ، مساوی اور بغیر کسی امتیاز کے لوگو کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ لہذا یہ بات سمجھ لی جانی چاہیے کہ کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے یا فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی خود ساختہ جواز کے تحت کسی شخص کو ماورائے قانون لاپتہ بنا دے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ اگر عدالت چاہے تو قانون کی بالا دستی کے لیے شک کے دائرے میں آنے والے کسی بھی فرد یا ادارے سے یہ اقرار نامہ طلب کر سکتی ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد ان کی تحویل میں تو نہیں ہیں اور اگر ہیں تو کسی حیثیت میں ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔