آہ فاطمہ ثریا بجیا نہ رہیں !


farhana sadiq

اگر ہم پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہری دور پہ نظر ڈالیں تو ہمیں سب سے کامیاب شعبہ ڈرامانگاری نظر آئے گا۔ اور اگر ہم گزشتہ چالیس برس کے ڈرامانگاروں کا جائزہ لیں ،توان میں ایک اہم نام فاطمہ ثریا بجیا کا نظر آئے گا۔ بجیا یکم ستمبر انیس سو تیس کو انڈیاکے شہر حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ ادبی گھرانے سے تھا۔آپ کی بہنوں میں سارہ نقوی مرحومہ ، صغرا کاظمی، زہرہ نگاہ، اسما سراج اور زبیدہ سراج اور بھائیوں میں احمد مقصود حمیدی، انور مقصود، عمر مقصود اور عامر مقصود شامل ہیں۔ان میں سے سارہ نقوی مشہور ریڈیو براڈکاسٹرتھیں ، زہرہ نگاہ اردو کی جانی پہچانی شاعرہ ہیں، جبکہ انور مقصود اردو طنز و مزاح میں ایک قدآور نام ہیں۔

بجیا نے ساٹھ کی دہائی میں تھیٹر، ریڈیو اورٹیلی ویڑن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے۔۔کئی یادگار ڈراما سیریز لکھیں۔ جن میں آگہی، شمع، افشاں، عروسہ، اساوری، اوراق، انا، کرنیں، آبگینے بابر اورگھر اک نگر نام نمایاں ہیں۔ خصوصی مواقع پر مختصر نوعیت کے ڈرامے بھی تخلیق کیے۔ریڈیو کے لیے بھی کرداروں کو کہانیوں میں پرویا۔تاریخی اور نامور ناولوں سے ماخوذ کرکے کئی شاندار کہانیوں کو ڈرامائی تشکیل دی۔

maxresdefault
فاطمہ ثریا بجیا صرف ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ وہ ایک انجمن ، ایک ادارے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ وہ شہر کراچی میں ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی جانی جاتی تھیں۔ بجیا کو انیس سو ستانوے میں پاکستانی حکومت کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی اور اس کے علاوہ دوہزار بارہ میں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔۔ اس کے علاوہ انہیں کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں جاپان کا اعلی سول ایوارڈ بھی شامل ہے۔

فاطمہ ثریا بجیا پاکستان کا فخر تھیں۔ انہوں نے ہمارے ملک کو دنیا بھر میں متعارف کروایا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں جینے کے لئے ایسے عہد ساز لوگوں کا زمانہ نصیب ہوا۔ بجیا کے انتقال کے ساتھ ہی کلاسیکی ڈراما نگا ری کا ایک عظیم عہد تمام ہوا۔


Comments

FB Login Required - comments