حکومت کی بے بسی یا انکار؟


\"\"

\’\’ماضی کے حکمرانوں کے ساٹھ ملین ڈالر سوئس بنکوں میں پڑے ہیں جو آج بھی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستانیو! ہم تمہاری محنت کی کمائی ہیں جسے لُوٹ کر یہاں ڈال دیا گیا ہے۔ آئو ہمیں لے جائو‘‘۔
یہ صاف شفاف، واشگاف اعلان ملتان کے جلسہ میں مسلم لیگ نون کے ممتاز رہنما اور صوبائی حکمران اعلیٰ جناب شہباز شریف نے کیا ہے۔ اپنے بڑے بھائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ \’\’ہم بھائی ایک دوسرے کو شیشے کی طرح جانتے ہیں‘‘۔
صوبائی وزیر اعلیٰ کو مبارک باد دینی چاہیے اس سچائی اور اس کھرے پن پر کہ لگی لپٹی رکھے بغیر انہوں نے یہ فرض عوام کو سونپ دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کی پارٹی کی حکومت کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ یہ ساٹھ ملین ڈالر سوئس بینکوں سے واپس لائے۔ ان کی سچائی سے یعنی ان کی حکومت کی بے بسی سے حاضرین جلسہ اس قدر قائل ہوئے کہ کسی نے اٹھ کر یہ نہیں کہا کہ حضور! ریاستی ادارے تو تمام آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ وفاق میں آپ کے بھائی کی حکومت ہے جنہیں آپ شیشے کی طرح جانتے ہیں۔ وہ اِس وقت جلسہ میں آپ کے پاس تشریف فرما ہیں۔ آپ انہیں کیوں نہیں کہتے کہ بھائی جان! ایف آئی اے‘ پولیس‘ نیب‘ آپ کے تصرف میں ہیں، ازراہ کرم اس خطیر رقم کو واپس لا کر خزانے میں جمع کریں‘‘۔ حاضرین جلسہ جان چکے تھے کہ دونوں بھائی اس معاملے میں بے بس ہیں!
جب سیاسی رہنما آپس میں ملاقاتیں کرتے ہیں تو کچھ ایسے امور بھی زیر بحث آتے ہیں جن سے عوام کو آگاہ کرنا قرینِ مصلحت نہیں ہوتا۔ کچھ عرصہ پیشتر جب عمران خان اسلام آباد میں دھرنا دے رہے تھے تو جناب آصف علی زرداری جاتی امرا تشریف لے گئے۔ وقت کے وزیر اعظم نے ان کی گاڑی کی کوچوانی کا اعزاز حاصل کیا۔ مبینہ طور پر ستر سے زیادہ ڈشیں چھوٹے بھائی کی نگرانی میں تیار کروائی گئی تھیں۔ عین ممکن ہے کہ اس ملاقات میں وزیر اعظم نے سابق حکمران سے مطالبہ کیا ہو کہ سوئس بینکوں میں پڑی رقم جو پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پاکستانیو میں تمہاری محنت کی کمائی ہوں‘ قوم کو واپس کیجیے۔ اگر ایسا ہوا تو کیا خبر جناب آصف زرداری نے مستقبل قریب میں یہ رقم لوٹانے کا وعدہ کر لیا ہو۔ آخر جب ملاقات ستّر ڈشوں کے خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہو تو بات چیت کامیاب بھی ثابت ہو سکتی ہے!
بہر طور اب جب حکومت نے یہ کام عوام کے سپرد کر دیا ہے تو سوچنا چاہیے کہ عوام کے پاس آپشن کون کون سے ہیں! سوئٹزر لینڈ کا رُخ کریں اور بینکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ عوام ایک وفد تشکیل دیں جو سوئس حکومت کے پاس جائے اور اسے بتائے کہ حکومت پاکستان چونکہ بے بس ہو چکی ہے اور اس نے یہ بار گراں عوام کی گردن پر ڈال دیا ہے اس لیے سوئس حکومت اور سوئس عدالتیں رحم کریں اور رقم واپس کریں۔
ایک اور آپشن بھی ہے جو شاید حکمرانوں کو پسند نہ آئے۔ کیوں نہ عوام ایک متوازی حکومت صرف اس مقصد کے لیے تشکیل دیں؟ باقی کام مسلم لیگ نون کی حکومت کرتی رہے!
بہت سے لوگ میٹرو بس منصوبوں کی لاگت کی بات کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اسی قبیل کے منصوبے دوسرے ملکوں میں کم لاگت پر مکمل ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی بھاری لاگت سے قطعِ نظر‘ عوام کو اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ حکمران جب افتتاحی تقاریب میں جاتے ہیں تو ان کے تزک و احتشام اور تام جھام پر سرکاری خزانے کا کتنا حصّہ برباد ہوتا ہے۔ دیگ کے ایک چاول کے طور پر ملتان کی سرگرمیاں دیکھیے‘ میٹرو بس ملتان منصوبے کے افتتاح سے قبل وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے منصوبے کا فضائی معائنہ کیا۔ ہیلی کاپٹروں نے بی زیڈ یو سٹیشن سے چوک کمہاراں والا سٹیشن تک پرواز کی جس کے بعد دونوں ہیلی کاپٹر ایمرسن کالج کے کرکٹ گرائونڈ میں اترے۔ تقریب کے بعد دونوں حکمران بھائی \’\’اپنے اپنے‘‘ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ملتان ایئر پورٹ پہنچے۔ اس سے پہلے‘ صوبائی وزیر اعلیٰ اور گورنر \’\’سرکاری‘‘ جہاز کے ذریعے ملتان ایئر پورٹ اترے۔ اس کے دس منٹ بعد وزیر اعظم \’\’کا‘‘ جہاز پہنچا۔ وزیر اعلیٰ کا زمینی قافلہ ستّر سے زیادہ گاڑیوں پر مشتمل تھا! ملتان میں اُس روز راستے بند تھے۔ مریضوں کو لانے لے جانے والی ایمبولینسیں پھنسی رہیں۔ پورے شہر میں ٹریفک بلاک رہی۔ صبح ہی سے بوسن روڈ کو سیل کر دیا گیا۔ کالجوں سکولوں کے طلبہ کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالتوں میں مقدمات نہ سنے جا سکے کہ وکلا آ سکے نہ سائل نہ ہی ملزمان کو لایا جا سکا۔ ملزمان کو عدالتوں میں کون لاتا؟ پولیس تو پروٹوکول کے تقاضے نبھا رہی تھی! منصوبے کی افتتاحی تختی کی تعمیر رات بھر جاری رہی۔ معلمات‘ اساتذہ اور طلبہ و طالبات کو بسوں میں بھر کر تقریب میں لایا گیا۔
مہذب‘ ترقی یافتہ ملکوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ شاہراہیں، پُل‘ میٹرو بسیں اور ٹرینیں‘ معمول کی کارروائی کے طور پر تعمیر ہوتی ہیں۔ مقامی حکومتوں کے نمائندے یا مقامی حکام افتتاح کرتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ سفیروں اور صحافیوں کو جہازوں میں بھر کر لائیے‘ شہر کو سربمہر کر دیجیے‘ فضا ہیلی کاپٹروں اور \’\’سرکاری‘‘ جہازوں سے بھر جائے اور طلبہ و طالبات سے حاضریاں بھرپور لی جائیں!
ان افتتاحی تقاریب میں قوم پر احسان بھی جتائے جاتے ہیں۔ کامرانی کے سُرخ پَر ٹوپیوں پر اڑس کر مخالفین پر تبرّا کیا جاتا ہے۔ اگر آپ قوم کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات مہیا کر رہے ہیں تو یہ آپ کا فرض منصبی ہے۔ عوام آپ پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ صرف اُن تنخواہوں کا حساب لگا لیجیے جو ان حکمرانوں کی حفاظت کرنے والی پولیس کو دی جا رہی ہے! کل آپ نے وعدے کر کے ووٹ لیے تھے ۔ آج آپ پتّہ بھی توڑتے ہیں تو کارناموں کی طویل فہرست اچھالتے ہیں۔ یہ تو بھلے مانسوں والی بات نہ ہوئی!
افتادِ طبع اور ذوق سات پردوں میں بھی نہیں چھپتے۔ ہمارے وزیر اعظم‘ خدا انہیں عمرِ خضر عطا فرمائے تاکہ وہ شاہراہیں بنواتے رہیں اور میٹرو منصوبوں کے افتتاح کرتے رہیں‘ اِن افتتاحی تقاریب میں شریک ہو کر مسرت و اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ سرگرمیاں ان کے ذوق سے مطابقت رکھتی ہیں۔ حسرت ہی رہی کہ ظلِ الٰہی کسی یونیورسٹی کا افتتاح کرتے۔ کبھی پروفیسروں اور وائس چانسلروں کو بلا کر ان سے دل کی گفتگو کرتے۔ پوچھتے تعلیم کا کیا حال ہے؟ کس سمت جا رہی ہے؟ شہروں اور قصبوں میں لائبریریاں کتنی ہیں۔ حسرت ہی رہی کہ کسی ایسے ہسپتال کا افتتاح کرتے جہاں علاج معالجے کی جدید ترین سہولیات عوام کو دھکے کھائے بغیر‘ آسانی سے مہیا ہوتیں۔ کبھی کسی سرکاری سکول میں قدم رنجہ فرماتے اور دیکھتے کہ ایک ایک کلاس میں کتنے کتنے بچے ہیں؟ کتنے اساتذہ ڈیوٹی پر موجود ہیں؟ اور بچوں کو کیسا پانی‘ کیسی ہوا، کیسا ماحول دیا جا رہا ہے؟ جو ملک آج ترقی یافتہ کہلاتے ہیں‘ وہ شاہراہوں، بس منصوبوں اور اورنج ٹرینوں کے ذریعے اس مقام پرنہیں پہنچے ورنہ کویت، بحرین اور ازبکستان بھی امریکہ اور برطانیہ کے ہم پلہ ہوتے۔ امریکہ ہاورڈ‘ جان ہاپکن اور اپنے دیگر تعلیمی اداروں کی بدولت آج امریکہ ہے۔ سائنسی ایجادات میں یونیورسٹیوں کے پروفیسروں کا حصّہ ہے۔ برطانیہ آکسفورڈ کیمبرج اور لندن سکول آف اکنامکس کی بدولت دنیا کا محور ہے۔ ہمارے رہنما ہمارے حکمران تعلیم اور صحت کے شعبوں سے بے نیاز ہیں! افتادِ طبع اور ذوق!!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔