میں لبرل ہوں، غدار نہیں


\"\"میں لبرل ہوں۔ پاکستان کو ایک لبرل معاشرے اور لبرل ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں لبرل ازم کا پرچار کرتا ہوں۔ میرا پرچار کرنے کا طریقہ بھی لبرل ازم کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ میں اپنی رائے مسلط نہیں کرتا۔ میں پر امن مکالمے کا قائل ہوں۔ میں کسی چیز کو بھی مکالمے سے بالاتر نہیں سمجھتا۔ مکالمہ ترقی اور بہتری کی ضمانت ہے۔ مکالمے میں قلم کا راج ہوتا ہے۔ کمزور دلیل خود ہی خاموش ہو جاتی ہے اور مکالمہ آگے بڑہ جاتا ہے۔ اس میں کسی کی فتح یا شکست نہیں ہوتی اور نہ کسی کی بے عزتی ہوتی ہے۔ کسی کو بدلہ نہیں لینا پڑتا۔

پاکستان میرا ملک ہے۔ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں۔ میں پاکستان کی ترقی چاہتا ہوں اور اسے ایک خوشحال ملک کے طور پر اقوام عالم میں ایک باعزت مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ مقام صرف جمہوری اور لبرل اقوام کو ہی حاصل ہے۔ ہمیں بھی وہ مقام تبھی ملے گا جب ہم جمہوریت اور لبرل ازم کو اپنائیں گے۔ میں خوش ہوں کہ اس سلسلے ہمارے موجودہ وزیراعظم نواز شریف صاحب نے اپنے بیانیے میں حوصلہ افزا تبدیلی دکھائی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ریاست اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کچھ بنیادی مسائل کا شکار رہی ہے اور اب بھی ہے۔ ان مسائل کے بارے میں میری رائے کچھ یوں ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کو تسلسل سے نہیں چلنے دیا گیا۔ بار بار آئین توڑنے کا جرم کیا گیا۔ مارشل لاء کا کسی وقت بھی کوئی جواز نہیں ہوتا۔ ہمارے بعض طالع آزما فوجی جرنیلوں نے چار بار اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ ہماری اعلی عدلیہ، ہمارے مذہبی رہنما، ہمارے اعلی سول افسران اور ابن الوقت سیاست دانوں نے اس جرم میں فوجی جرنیلوں کا ساتھ دیا اور یوں اشرافیہ کی ملی بھگت سے عوام کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے دور رکھا گیا۔

آئین پر شب خون مارنے کی ان وارداتوں کی وجہ سے فوج اور باقی اداروں میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب ماشل لاء نہیں ہوتا تو مارشل لاء کا خوف ہوتا ہے۔ یہ خوف جمہوری قوتوں کو پنپنے نہیں دیتا۔ فوج اپنی طاقت کے بل بوتے پر وہ کام کرتی ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ منتخب حکومت کے فرائض میں آتے ہیں۔ ہماری داخلہ، خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر فوج کی اجارہ داری اس کی بد ترین مثالیں ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  لبرل ہمارے معاشرے کو کیسے تباہ کرنا چاہتے ہیں؟

ہمارے الیکشن دوہرے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ اکثر تو وہ مقررہ وقت پر کرائے نہیں گئے اور جب کرائے گئے تو ہماری ایجنسیوں نے ان میں مداخلت کی۔ کمزور سیاست دانوں کو اکٹھا کر کے اتحاد بنائے گئے۔ آئی جے آئی کی حقیقت سے تو انکار کی کوئی گنجائش نہیں لیکن پھر بھی کسی سازشی نے نہ شرمندگی کا اظہار کیا اور نہ ہی قوم سے معافی مانگی۔ طاقت کے نشے میں چور ہماری اشرافیہ کی یہ اخلاقی کمزوری ہے، عوام کو خاطر میں نہیں لاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کمزور جمہوری حکومتیں وجود میں آئیں جو کہ ظاہر ہے پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ دفاعی ادارے تو اپنی من مانی کرتے رہے مگر یہ کمزور حکومتیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر نہ ڈال سکیں۔

پاکستانی ریاست پچھلے پندرہ سالوں سے پاکستانی شہریوں کو اغواء کر کے غائب کرنے کے جرم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ یہ پاکستانی شہریوں کے انسانی حقوق کے خلاف ایک قبیح جرم ہے۔ اس سے لوگوں میں خوف پھیل رہا ہے اور ریاست مزید کمزور ہوئی ہے۔ یہ ہماری خوشحالی، ترقی اور امن عامہ کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔

جنرل ضیاالحق نے پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں جھونک کر ایک گھناؤنا جرم کیا تھا۔ اس جرم کے نتیجے میں افغانستان برباد ہو گیا اور پاکستان بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اب ہمیں افغانستان میں مداخلت کی پالیسی کو فورا ترک کرنا چاہیے ورنہ مسائل بڑہتے جائیں گے۔ جو لوگ افغانستان کی حکومت کے خلاف مسلح جنگ لڑ رہے ہیں ان کی مدد قطعا نہیں کرنی چاہیے۔

مجھے پاکستان کی کشمیر پالیسی سے اختلاف ہے۔ جہادیوں کی مداخلت نے کشمیریوں کی جدوجہد کا اخلاقی جواز چھین لیا۔ ہمارے حکومتی بیان جہادی تربیتی کیمپوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ اس پالیسی کا دوسرا نقصان ملک کے اندر جہادی ازم اور پر تشدد رویوں کی آبیاری ہے۔

میں انڈیا کو دشمن ملک نہیں سمجھتا۔ انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہماری ترقی کے لئے بہت اہم ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ویزا اور بارڈر پالیسی بالکل ایسی ہو جیسی EU ممالک کی آپس میں ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ مذہبی انتہا پسند مودی کی موجودگی دوہری بدقسمتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  سوال اٹھانے والے دشمن اور غدار نہیں بلکہ محسن ہوتے ہیں

جمہوریت، مضبوط معیشت، اعلی تعلیمی معیار اور اعلی پائے کی یونیورسٹیاں، امن اور انصاف، بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کے لئے مستعد سرکاری ادارے اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری تمام ممالک کی ضرورت ہے۔ یہی چیزیں کسی ملک کی سالمیت کی ضمانت ہو سکتی ہیں۔ ان تمام اداروں کا کمزور ہونا اور ان کی حالت بہتر بنانے کے لئے وسائل مہیا کرنے کی بجائے صرف دفاعی اداروں کو مضبوط بنانے پر زور رکھنا مفید ثابت نہیں ہو گا۔ ایسی صورت میں ملکی سالمیت کی ضمانت ممکن نہیں ہو گی۔ پاکستانی کی مختصر سی تاریخ میں ہم یہ سب ناکام ہوتا دیکھ چکے ہیں۔

میں پاکستان کو ایک سیکیورٹی سٹیٹ کی بجائے ایک فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے اختلاف ہے ان پالیسیوں سے جو پاکستان کو ایک سیکیورٹی سٹیٹ بناتی ہیں

یہ سارے اختلافات مجھے ہیں اور میں ان کا کھلم کھلا اظہار بھی کرتا ہوں۔ یہ یاد رہے کہ میں دنیا کے کسی ملک کی کسی خفیہ ایجنسی سے منسلک نہیں ہوں۔ میں کسی خفیہ ایجنسی سے کوئی پیسے نہیں لیتا۔ میں دنیا کے کسی ادارے کو کوئی خفیہ معلومات مہیا نہیں کرتا۔ میں ریاستی اور حکومتی اداروں اور ان کی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف اپنے ملک پاکستان اور اس کے لوگوں سے محبت کی بنیاد پر کرتا ہوں۔

مجھے یقین ہے آپ بھی پاکستان اور اس کے لوگوں سے پیار کرتے ہو اور ملک کے حق میں بہترین فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ پالیسیوں پر اختلاف کی بحث کو آگے بڑہنے دیں۔ میرے ساتھ مکالمہ کریں۔ مجھے خاموش کریں نہ غائب۔ میں ایک لبرل محب وطن پاکستانی ہوں۔ میں ملک دشمن یا غدار نہیں ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 135 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “میں لبرل ہوں، غدار نہیں

  • 29-01-2017 at 12:11 am
    Permalink

    Saleem, well done this the best column I read from you. Thanks for getting rid of your taunting tone which sounded as if you are trying to make fun of those who do not see the world the way you see, who somehow are traditional types, who opposed military rules but praised army for putting up a fight against Taliban. Engagement is key and please keep saying what you say becasue there is nothing perfect on politically right or left voices, the reality is always in between and can only be found when competing voices come out and approach truth from thier own standpoints.

Comments are closed.