لاپتا ہونے والے بلاگر سلمان حیدر کے بارے میں متضاد اطلاعات


\"\"پولیس ذرائع کے مطابق لاپتا ہونے والے بلاگر سلمان حیدر گزشتہ رات واپس پہنچ گئے ہیں اور ان کی حالت بہتر ہے۔

فاطمہ جناح یونیورسٹی کے پروفیسر،شاعر اور انسانی حقوق کےکارکن سلمان حیدر 6 جنوری کو بنی گالہ سے لاپتا ہوئے تھے۔ اغوا کے بعد ان کی گاڑی کورال چوک سے ملی تھی اور ان کے نمبر سے اہلیہ کو ایس ایم ایس موصول ہوا تھا کہ کورال چوک سے گاڑی لے لی جائے۔ سلمان حیدر کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ لوئی بھیر میں درج کرائی تھی۔

دوسری طرف پروفیسر سلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر نے تصدیق کی ہے کہ ان کے بھائی \’محفوظ اور خیریت\’ سے ہیں۔

تاہم ذیشان حیدر نے اپنے بھائی سلمان حیدر کے حوالے سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ سلمان حیدر ان 5 بلاگرز میں شامل تھے، جو رواں ماہ ملک کے مختلف شہروں سے لاپتہ ہوئے، دیگر لاپتہ بلاگرز میں وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس شامل ہیں۔

گمشدگی کے بعد سلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر نے بتایا تھا کہ وہ 6 جنوری کی شام بنی گالا کے علاقے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ موجود تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ کو اطلاع دی تھی کہ وہ رات 8 بجے تک گھر پہنچ جائیں گے، 10 بجے کے قریب اہلیہ نے انھیں فون کیا مگر انھوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔

بعدازاں پولیس کو سلمان حیدر کی گاڑی کورنگ ٹاؤن کے قریب سے ملی تھی جبکہ تھانہ لوئی بھیر میں ان کے اغواء کی رپورٹ درج کرلی گئی تھی۔

سلمان حیدر پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں اور 5 سال سے زائد عرصے سے فاطمہ جناح یونیورسٹی سے منسلک ہیں، وہ ادب، تھیٹر میں اداکاری، ڈرامہ نگاری اور صحافت بھی کر چکے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔