مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ


usman Qaziہر سال پانچ فرروی کو “یوم کشمیر” کے سلسلے میں تمام سرکاری اور نجی ادارے چھٹی مناتے ہیں۔ اس بات کی منطق آج تک خادم کی سمجھ میں نہ آ سکی کہ اس سے پاکستان کے کشمیر پر موقف کو کیسے تقویت ملتی ہے۔ چھٹی کے علاوہ اس روز اخبارات اور دوسرے ذرایع ابلاغ پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے دھواں دھار پیغامات اور مضامین جاری ہوتے ہیں جن میں “کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے” اور “تکمیل پاکستان کے لئے کشمیر کا الحاق ضروری ہے” کی قبیل کے جذباتی نعرے تو ہوتے ہی ہیں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری پر بھی جلی یا خفی تنقید ہوتی ہے کہ وہ عراق، مشرقی تیمور وغیرہ کے معاملے میں تو اس قدر بیداری کا مظاہرہ کرتی ہے، مگر پاکستان کی شہ رگ کے سلسلے میں اپنی ہی قرارداد پر کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ خادم نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ آیا کسی نے اقوام متحدہ کی قرارداد کا متن دیکھا ہے، یا اس کے سیاق و سباق اور قانونی حیثیت پر نظر ڈالی ہے، تو جوابا نصاب میں مندرج کھوکھلے بیانیے کی گردان ہی سنی، اس سوال کا اثبات میں جواب کم کم ہی سننے میں آیا۔ آئیے ذرا کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردا د کا ایک اجمالی جائزہ لیتے ہیں۔

تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے دوست واقف ہوں گے کہ بر صغیر کی تقسیم برطانوی پارلیمان کے ایک ایکٹ کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی، جسے بعد میں تمام فریقین، بہ شمول برطانوی انتظامیہ، کانگریس، مسلم لیگ، اور سکھ برادری کے نمائندوں نے قبول کیا۔ عرف عام میں اسے “تین جون کا منصوبہ” کہا جاتا ہے چونکہ اس کی قبولیت کا اعلان ریڈیو پر تین جون سن سینتالیس کو قائد اعظم، نہرو اور سردار بلدیو سنگھ نے کیا تھا۔ دوستوں کو یہ بھی علم ہوگا کہ بر صغیر کے مختلف حصوں کی قانونی اور آئینی حیثیت مختلف تھی۔ اکثر صوبہ جات براہ راست برطانوی وایسراے کی عمل داری میں تھے، جن میں ایک محدود راے دہی پر مبنی انتخابی نظام قائم تھا۔ بر صغیر کے طول و عرض میں سینکڑوں ریاستیں اور رجواڑے تھے، جن کے حکمرانوں کے ساتھ، وایسراے کے معاہدات تھے جن کی رو سے وہ اندرونی معاملات میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ تین ریاستوں، نیپال قلات اور سکم کے معاہدات البتہ براہ راست تاج برطانیہ کے مقتدر ادارے “وائٹ ہال ” کے ساتھ تھے۔ ان دو کے علاوہ برٹش بلوچستان، فاٹا وغیرہ کی طرز کے سرحدی علاقے تھے جن کی آئینی حیثیت منفرد تھی۔ بہر کیف، تین جون کے فارمولے کے تحت، بہ استثنا ے شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا) اور آسام کے ضلع سلہٹ، ہر صوبے کی صوبائی اسمبلی کو اختیار دیا گیا کہ وہ کس ملک کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ پنجاب اور بنگال میں اس فارمولے میں ترمیم کر کے مسلم اور ہندو اکثریت کے اضلاع کی بنیاد پر تقسیم کی گئی۔ اس میں بھی گوناگوں ترمیمات ہوئیں مگر وہ ایک الگ بحث کا متقاضی موضوع ہے۔

تین جون کے فارمولے میں دیسی ریاستوں کے بارے میں ایک مبہم عبارت ہے جس کی رو سے کسی ایک ملک میں شامل ہونے کا اختیار اس ریاست کے والی کو دیا گیا تھا اور توقع کی گئی تھی کہ وہ اس فیصلے کے وقت اپنے عوام کی امنگوں کو زیر نظر رکھیں گے۔ “عوام کی امنگوں” کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار متعین نہ کیا گیا۔ قلات غالبا واحد ریاست تھی جہاں “عوام کی امنگوں” کو جانچنے کے لئے کوئی طریقہ کار اختیار کیا گیا مگر ریاست کے منتخب ایوان زیریں اور ایوان بالا کی متفقہ آرا کو الحاق کا فیصلہ کرتے وقت یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ بھی الگ بحث کا موضوع ہے چنانچہ ہم واپس کشمیر کی جانب لوٹتے ہیں۔ کشمیر کے ڈوگرہ ہندو راجہ نے پاکستان کے ساتھ ایک “سٹینڈ سٹل” (حالات کو جوں کا توں رکھنے) کا معاہدہ کیا۔ پاکستانی ریاستی بیانیے کے مطابق مہاراجہ کی بدنیتی کو بھانپتے اور اس کی پیش بندی کے طور پر سادہ کپڑوں میں باقاعدہ فوجی اور قبائلی رضاکاروں کے لشکروں کو کشمیر میں داخل کر دیا گیا تاکہ “کشمیری عوام کی (مفروضہ) امنگوں” کو پاکستان کے ساتھ الحاق کروا کر عملی جامہ پہنایا جاے۔ مہاراجہ نے اس قدم کو “سٹینڈ سٹل” معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوۓ فورا بھارت سے مدد کی درخواست کی جس پر بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی۔ بھارت ہی اس مسلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور یہیں سے ہمارے مضمون کا با قاعدہ آغاز ہوتا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق قراردادوں کے مختلف زمرے بناے گئے ہیں۔ مثلا ایک زمرہ، شیڈول نمبر سات کہلاتا ہے، جس کے تحت طے کی گئی قراردادوں پر لازمی عمل درامد کروانا اقوام متحدہ کے تمام ارکان، خصوصا سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی ذمہ داری ٹھہرتا ہے۔ عراق اور مشرقی تیمور سے متعلق قراردادیں اسی شیڈول کے تحت منظور کی گئیں۔ اس کے بر عکس، شیڈول چھے کے تحت منظور کردہ قراردادوں کی حیثیت محض سفارشی ہوتی ہے۔ شیڈول چھے کے زمرے میں، اکیس اپریل سن اڑتالیس کو منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سینتالیس (اور بعد میں قرارداد نمبر انچاس) کے تحت، کشمیر کا مسئلہ پر امن طور پر حل کروانے کے لئے ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے ریاست کے “عوام کی امنگیں” معلوم کرنے کے لئے راے شماری کی سفارش کی، جسے تمام ارکان نے، بشمول متحارب فریقین (پاکستان اور بھارت) بلا چون و چرا قبول کر لیا۔ اس قرارداد کا متن عجیب و غریب اور اس اور اس کے مضمرات نہایت گمبھیر ہیں۔ اس کے مطابق درانداز فوج (مراد پاکستانی دستے اور قبائلی لشکر) متنازعہ علاقہ خالی کرے اور ریاست کا قانونی معاہد (بھارت) اتنی فوج علاقے میں رکھے جو پر امن ماحول میں راے شماری کو یقینی بنا سکے۔ خادم کے خیال میں اس کی مزید وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس کے مضمرات پاکستانی نقطۂ نظر سے کیسے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ معاہدہ اور قرارداد ایسے وقت میں منظور ہوئی جب ہمارے سرکاری بیانیے کی رو سے وہ لوگ حکمران تھے جن کی قانونی قابلیت کے ساتھ ساتھ مملکت سے ان کی وفاداری کو بھی مسلم مانا جاتا ہے۔ خادم کو کوشش کے باوجود ان عوامل کا پتا نہ چل سکا جن کے زیر اثر ہماری جانب سے اس قرارداد کو شیڈول سات میں شامل کروانے یا “درانداز قوت” کے الفاظ میں تبدیلی لانے، یا “قانونی معاہد” کو چیلنج کرنے کی کوئی کوشش ریکارڈ پر نہیں ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں، ہمارے ہاں کچھ حلقوں میں شد و مد سے دہراۓ جانے والے بھٹو، ایوب، مشرف وغیرہ پر “کشمیر کو بیچ دینے” کے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی، نہ ہی “اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی بے حسی اور لا تعلقی” پر ماتم کرنے کا کوئی جواز؟ حافظ نے کہا تھا “من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم۔۔ بہ من کہ ہر چہ کرد، آں آشنا کرد۔۔۔ ”  (مجھے غیروں سے کوئی گلہ نہیں کہ میں اپنوں ہی کا ڈسا ہوا ہوں)


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ

  • 11-02-2016 at 2:40 pm
    Permalink

    کچھ تو زمجھے خدا کرے کوئی…بھائی عثمان سلام ہے آپکو…

  • 11-02-2016 at 2:42 pm
    Permalink

    کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی…بھائی عثمان سلام ہے آپکو…

  • 11-02-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    بہت اچھا اورمعلوماتی مضمون ہے۔ اللہ کرے اور زورقلم زیادہ۔

Comments are closed.