ویلنٹائن ڈے اور اسلام آباد کا گل چیں تھانیدار


 

adnan Kakar

آئیے ہم تھانہ روز اینڈ جیسمین گارڈن عرف آبپارہ تھانے میں ویلنٹائن ڈے کی ممکنہ کارگزاری دیکھتے ہیں۔

تھانیدار مولا جٹ: حوالدار نوری نت، آج ویلنٹائن ڈے والے جو مجرم پکڑے ہیں، ان کو لے کر آؤ۔

حوالدار نوری نت: یہ بچہ صبح سات بجے چوک پر کئی درجن پھول اٹھائے کھڑا تھا۔

تھانیدار مولا جٹ: اوئے اتنے چھوٹے ہو اور حرکتیں اتنی فحش کرتے ہو۔ تمہیں شرم نہیں آتی ہے؟ تین فٹ کا قد نہیں ہے، اور کئی درجن لڑکیوں کو پھول دینے کھڑے ہوئے تھے۔

ملزم: معاف کر دیں جی۔ آئندہ میری توبہ جو کبھی پھول بیچے۔ اخبار بیچ لوں گا، گاڑی صاف کرنے والا کپڑا بیچ لوں گا، لیکن پھولوں کے قریب بھی نہیں جاؤں گا۔

حوالدار نوری نت: بہانے کر رہا ہے جی۔ اس کی شکل سے ہی لگ رہا ہے کہ عاشق ہے۔

تھانیدار مولا جٹ: چھوٹا ہے۔ اسے تیرہ نمبر کے دس چھتر لگا دو۔ پنڈے پر سرخ پھول بنوا کر گھر جائے گا تو آئندہ ایسی فحش حرکت نہیں کرے گا۔ اگلا مجرم کون ہے؟

حوالدار نوری نت: جناب یہ بندہ تو بڑا ہی شریر ہے۔ قوم کو تباہ کرنے کے لئے مارکیٹ میں ایک پوری دکان پھولوں سے بھر کر بیٹھ گیا ہے۔ نہ جانے کتنے گھر اجاڑے ہوں گے اس نے۔

تھانیدار مولا جٹ: اوئے تمہیں شرم نہیں آتی اس طرح ویلنٹائن ڈے کو پروموٹ کرتے ہوئے؟ قوم کو تم جیسوں نے ہی بگاڑ دیا ہے۔ اسی لئے اتنے زلزلے آ police2رہے ہیں۔

ملزم: سر میری تو پھولوں کی دکان ہے۔ سارا سال پھول بیچتا ہوں۔

تھانیدار مولا جٹ: یہ تو عادی مجرم ہے۔ سارے سال کو ویلنٹائن ڈے بنایا ہوا ہے خبیث نے۔ حوالدار نوری نت! اسے تین دن کے لئے اندر کر دو اور اس پر بھی تیرہ نمبر کے اتنے پھول پرنٹ کرو کہ آئندہ یہ بدکاری سے توبہ کر لے۔ اور کون ہے؟

حوالدار نوری نت: یہ بڑا بے شرم آدمی ہے جی۔ شام کو کسی عورت کے ساتھ جا رہا تھا۔ جس نے پھولوں والی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ زنانہ پولیس ساتھ نہیں تھی اس لئے اس بندی کو تو وہیں چھوڑ آئے ہیں لیکن اسے اٹھا لائے ہیں۔

تھانیدار مولا جٹ: توبہ توبہ۔ ملک پر آفتیں نہیں آئیں گی تو اور کیا ہو گا۔ یعنی اس طرح سرعام فحاشی کا مظاہرہ ہو رہا تھا؟

ملزم: تھانیدار جی وہ تو میری بیوی ہے۔ فیشن کے لئے ایسے کپڑے پہن کر نکلی تھی۔ ہم تو بازار سے اپنے بچوں کی نیکریں شرٹیں لینے نکلے تھے کہ آپ نے پکڑ لیا۔ سر جی میری توبہ۔ آئندہ بچوں کو نیکر شرٹ نہیں پہناؤں گا۔ بلکہ کچھ بھی نہیں پہنایا کروں گا۔ بس اس باری معاف کر دیں۔

تھانیدار مولا جٹ: بہانے مت کرو۔ تم جیسے چالبازوں کی رگ رگ کا پتہ ہے مجھے۔ حوالدار نوری نت! اسے ایک ہفتے کے لئے اندر کر دو اور اتنی لترول کرو کہ یہ آئندہ جب بھی نیکر پہننے کی کوشش کرے تو اسے یاد آ جائے کہ گوروں کی نقالی کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگلا مجرم کون ہے؟

حوالدار نوری نت: پوری بیس بندوں کی پارٹی ہے سر۔ ایک چارپائی پر سفید کپڑا ڈال کر اس کے نیچے گلاب کے پھول چھپا کر لے جا رہے تھے۔ ان نوسر بازوں نے رونی سی شکلیں بنائی ہوئی تھیں۔ لیکن میں نے بھی بیس برس پولیس میں گزارے ہیں۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہوں اور جرم کی بو سو میل دور سے سونگھ لیتا ہوں۔ گلابوں کی بو نے دور سے بتا دیا کہ یہ مجرموں کا ٹولہ ہے۔ یہ بہت چیخے چلائے کہ یہ جنازہ لے کر جا رہے ہیں جس پر پھول ڈالے گئے ہیں، لیکن بھلا نوری نت کوئی بدھو ہے جو ان کی باتوں میں آ جاتا۔ سب کو وہیں سڑک پر مرغا بنا کر ان کی لترول کی گئی اور انہیں پھولوں کی چارپائی سمیت اندر کر دیا ہے۔

ملزم: سر جی میت خراب ہو جائے گی۔ معاف کر دیں۔ آئندہ کسی جنازے پر پھول نہیں ڈالیں گے۔

تھانیدار مولا جٹ: یہ پورا ٹولہ ہے ان جرائم پیشہ افراد کا۔ کہیں سے لاش چرا کر لائے ہیں اور اس کی آڑ میں ویلنٹائن پر پھول دینے جا رہے تھے۔ اتنی مقدار میں پھول لے کر تو یہ کسی گرلز کالج ہی جا رہے ہوں گے۔ حوالدار نوری نت! ایدھی والوں کو فون کر کے لاوارث لاش ان کے حوالے کر دو اور ان سب کو دو ہفتے کے لئے اندر کر دو۔ اگلا مجرم کون ہے؟

حوالدار نوری نت: یہ جی عرق گلاب کی پوری بوتل لے کر جا رہا تھا کہ ناکے پر پکڑا گیا۔

تھانیدار مولا جٹ: اس سیانے نے گلاب کا عرق نکال لیا شریف بہو بیٹیوں کو دینے کے لئے؟ بڑا خبیث ہے۔

ملزم: تھانیدار جی وہ تو حکیم صاحب نے دی تھی آنکھوں کو ٹھیک کرنے کے لئے۔ وہی لے کر جا رہا تھا دواخانے سے۔

تھانیدار مولا جٹ: تمہاری نظریں تو ہم ٹھیک کریں گے بدقماش بدمعاش۔ حوالدار نوری نت! اس کو شام تک مرغا بنا کر اس کی کمر پر ٹھنڈے پانی کی لیک بالٹی رکھ دو۔ اور کون ہے؟

حوالدار نوری نت: سر جی آخری تو بہت بڑی سازش پکڑی ہے آپ کے شاگرد نے۔ یہ بندہ پورا ٹرک بھر کر پھول سمگل کر رہا تھا۔ میں نے ناکے پر پکڑ لیا۔

تھانیدار مولا جٹ: ویلنٹائن ڈے پر پھولوں کا پورا ٹرک ہی بھر کر لا رہا تھا؟ یہ تو بڑا مجرم پکڑا ہے۔ اوئے کیا کرتے ہو تم؟

ملزم: تھانیدار جی میں تو گوبھی کا آڑھتی ہوں۔ حوالدار ساب نے پوچھا تھا کہ ٹرک میں کیا ہے تو غلطی سے کہہ دیا کہ گوبھی کے پھول ہیں۔

تھانیدار مولا جٹ: اوئے پھول تو ہیں چاہے گوبھی کے ہوں یا چمپاوتی کے یا چنبیلی کے۔ تو تو لمبا اندر ہو گا۔ تجھے پتہ نہیں تھا کہ ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگی ہوئی ہے اور تو پھولوں کا پورا ٹرک لے آیا ہے۔ حوالدار نوری نت! یہ بڑا مجرم پکڑا گیا ہے۔ اس سے اس سازش کے باقی بندوں کے نام بھی اس سے اگلواؤ۔ کل اسے ایس ایس پی صاحب کے سامنے پیش کریں گے۔ ہماری قوم کو تباہ کر رہا ہے یہ خبیث۔ اس کے گھر میں ماں بہن نہیں ہے جو اب اس طرح ویلنٹائن ڈے پر پھولوں کا ٹرک لے آیا ہے۔

حوالدار نوری نت: یس سر۔


بریکنگ نیوز

دو چار دن پہلے اچانک خبر پھیلی کہ اسلام آباد میں چوہدری نثار کی زیر سربراہی ہونے والے ایک اجلاس میں اسلام آباد میں ویلنٹائن ڈے کی ترویج و تشہیر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ لیکن آج اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا ہے کہ وہ اجلاس تو اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال کے جائزے کے لئے بلایا گیا تھا اور اس میں انتظامیہ اور پولیس کے افراد شریک ہوئے تھے۔ وزیر داخلہ نے ویلنٹائن ڈے کی تقریبات پر پابندی کی ہرگز بھی کوئی ہدایت نہیں دی ہے۔

ویلنٹائن ڈے پر پاکستان میں عام طور پر مجبور و مظلوم شوہر اپنی بیگمات کو گھما پھرا اور کھلا پلا کر ہی اس دن کا فرض پورا کر لیتے ہیں اور طرفین یہ سمجھ لیتے ہیں کہ محبت کی تکمیل ہو گئی ہے۔ ہم یہ گمان نہیں کرتے ہیں کہ وزارت داخلہ کے افسران کی ‘بیگمات ظالمہ’ کے احکامات پر یہ یوٹرن لیا گیا ہو گا۔ ہم یہی سچ جانتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے پر کسی بھی قسم کی پابندی نہ لگائے جانے کا یہ اعلامیہ جاری ہونے کی وجہ گھریلو امن و امان کی خراب صورت  نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ لبرل پاکستان کا قیام عمل میں لانا ہے۔ وزات داخلہ کے اجلاس میں واقعی ضلعی امن و امان زیر بحث آیا ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ویلنٹائن ڈے اور اسلام آباد کا گل چیں تھانیدار

  • 11-02-2016 at 10:42 am
    Permalink

    نہایت ہی عمدہ مضمون ہے ۔دل خوش ھو گیا ۔ مجھے توزمانے یاد آ گئے جب بعض پابندیوں کے سبب بعض موضوعات پر کچھ لکھنے پر پابندی لگا دی گئی تو بڑے کالم نگاروں نے لکھنے کا ایک نیا رنگ نکالا تھا اور ان کا رنگ بہت مقبول ہوا ۔ کاکڑ صاحب اسی سلسلے کو آگے بڑھانے میں کافی مہارت رکھتے ہیں اور ان کا ہر کالم پہلے سے بڑھ کر ایک نیا اور شگفتہ رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے

Comments are closed.