اب فیصلے کی گھڑی ہے!


mujahid aliوزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط عائد نہ کی جائیں اور طالبان کے کسی گروہ کو فی الوقت ناپسندیدہ قرار دے کر بات چیت سے علیحدہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اسلام آباد میں پاکستان، افغانستان ، چین اور امریکہ کے وفود پر مشتمل مصالحتی عمل کے لئے قائم کی گئی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی طرف سے احتیاط اور صبر سے کام لینے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس عمل کا آغاز گزشتہ سال کے آخر میں جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کے دوران کیا گیا تھا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ افغان حکومت کے خلاف لڑنے والے جو مسلح گروہ جنگ بندی پر راضی نہیں ہوں گے اور مصالحتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان نے افغان حکمرانوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس حکمت عملی میں ان کے شانہ بشانہ ہو گا۔ آج منعقد ہونے والا اجلاس ایک مشکل اور طویل مصالحتی عمل کا نقطہ آغاز ہے۔ لیکن اس عمل کی کامیابی پاکستان کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جس قدر افغانستان یا امریکہ و چین کے لئے لازمی ہے۔
رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے قبل افغان ذرائع نے بتایا تھا کہ اس موقع پر پاکستان کی طرف سے ان طالبان گروہوں کی فہرست پیش کی جائے گی جو مذاکرات کے لئے راضی ہیں۔ اور ان گروہوں کا تعین کیا جائے گا جن سے نمٹنے کے لئے اقتصادی بائیکاٹ اور فوجی کارروائی ضروری ہو گی۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے اپنی افتتاحی تقریب میں اس جانب تو اشارہ نہیں کیا لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ سرکش گروہوں کے خلاف کسی کارروائی کا فیصلہ کرنے سے قبل انہیں راضی کرنے اور مذاکرات کا حصہ بننے پر آمادہ کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہو گی۔ سرتاج عزیز کا یہ بیان غیر واضح ہے اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسلام آباد ابھی تک یہ طے نہیں کر سکا ہے کہ اسے افغانستان میں ایک قانونی حکومت کے خلاف برسر پیکار گروہوں کے ساتھ کس طرح کا تعلق اور رابطہ رکھنا ہے۔ افغانستان اور امریکہ کی طرف سے پاکستان پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ افغان طالبان کی سرپرستی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے قائدین بھی پاکستان میں حکومت کی حفاظت میں رہتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے ان الزامات کی تردید تو کی جاتی ہے لیکن کبھی دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی نہیں کیا گیا کہ پاکستان کا افغان طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بارے میں ایک موقع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ افغان طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ کے بارے میں غلط اندازے قائم کئے جاتے ہیں۔ وہ ہماری ہر بات نہیں مانتے اور کافی حد تک خود مختار ہیں۔
تاہم آج سرتاج عزیز نے جس احتیاط اور میانہ روی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، اس سے کم از کم اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان، افغانستان میں کابل حکومت اور اتحادی افواج کے ساتھ برسر پیکار گروہوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے اور افغان حکومت کے علاوہ اس عمل میں شریک دوسرے دو ملکوں کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتا ہے کہ ترغیب و تحریص کے ذریعے جنگجو گروہوں کو قائل کرنے اور ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے۔ البتہ حکومت پاکستان کے اس موقف کو اسی وقت اہمیت دی جا سکے گی اگر وہ پہلے ہی مرحلے میں یہ واضح کر سکے کہ وہ کن طالبان کو ہتھیار پھینکنے پر آمادہ کر سکتی ہے اور عملی طور پر یہ واضح بھی ہو سکے کہ ان گروہوں کی جنگ بندی کے بعد مسلح جدوجہد میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر پاکستان اس صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتا ہے یا ابتدائی مراحل میں اپنے زیر اثر طالبان کو مذاکرات میں شامل کرنے سے گریز کرتا ہے تو اس کی حکمت عملی اور نیت کے بارے میں شبہات تقویت پکڑیں گے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات کی آخری کوشش افغان حکومت کی باہمی چپقلش کی وجہ سے ہی ناکام ہوئی تھی۔ مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے سے پہلے ہی افغانستان کے چیف ایگزیکٹو اور صدر اشرف غنی کے مدمقابل عبداللہ عبداللہ کے زیر نگرانی کام کرنے والی افغان انٹیلی جنس خاد کے ذریعے ملا عمر کے انتقال کی خبر عام کر دی گئی تھی۔ اس خبر کے سامنے آنے سے جولائی میں متوقع مذاکرات کا دوسرا دور بھی منسوخ کر دیا گیا اور طالبان کے گروہوں میں قیادت کے سوال پر اختلافات بھی شروع ہو گئے تھے۔ یہ گروہی لڑائی اب تک جاری ہے۔ اس لئے کوئی بھی اہم طالبان لیڈر مصالحتی عمل کی واضح حمایت اور ہتھیار پھینکنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اس دوران مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی تنظیم داعش نے بھی افغانستان میں پاﺅں جمانے شروع کر دئیے ہیں۔ اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا حلقہ اثر ابھی محدود ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اہم جنگجو لیڈر داعش کے پرچم تلے جمع ہو کر طالبان کی بالا دستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بھی طالبان کی قیادت کے لئے مکمل جنگی بندی کرتے ہوئے مصالحتی عمل کا حصہ بننا آسان نہیں گا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ سرتاج عزیز نے آج رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں جو الجھی ہوئی مشکل باتیں کی ہیں، وہ ان مشکلات کی طرف اشارہ ہے یا اس کی کوئی دوسری وجوہات ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ افغان حکومت یا امریکہ و چین جلد از جلد امن کی بحالی اور بامعنی مذاکرات کا آغاز چاہتے ہیں جبکہ طالبان کے لئے وقت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ وہ چاہیں گے کہ مصالحتی عمل کے آغاز میں ہی تفصیلات طے کرتے اور مقاصد کا تعین کرتے ہوئے کافی وقت صرف ہو جائے۔ تا کہ وہ عملی میدان میں باہمی جدوجہد اور داعش کے خطرے سے نمٹ سکیں اور اس دوران کابل سے زیادہ سے زیادہ مراعات بھی حاصل کرلیں۔ اگر پاکستان اس حکمت عملی میں طالبان کا ساتھ دیتا ہے تو یہ اس کے اپنے مفادات کے لئے نقصان دہ ہو گا۔
افغان حکومت اب اتحادی امداد کے بغیر اپنے طور پر ملک میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ وہ تسلسل سے دہشت گرد حملوں یا مختلف شہروں میں طالبان کی پیش قدمی جیسے مسائل کو ختم کرنے کی خواہش مند ہے۔ اس لئے کابل کی خواہش ہو گی کہ مصالحتی عمل تیزی سے آگے بڑھے اور پاکستان طالبان کے حوالے سے واضح اور دوٹوک پالیسی کا اعلان کرے۔ امریکہ بھی افغانستان سے جلد از جلد اپنی فوجوں کا مکمل انخلا چاہتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران طالبان سے براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی متعدد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس لئے امریکہ کو بھی افغانستان کی طویل، مشکل اور مہنگی مہم کو ختم کرنے کا اعلان کرنے کی جلدی ہوگی۔ اسی طرح چین پاکستان کے علاوہ افغانستان میں کثیر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں امن و امان بحال ہو تاکہ جن مقاصد کے لئے یہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، وہ حاصل کئے جا سکیں۔
پاکستان کا مفاد بھی اسی بات میں ہے کہ طالبان کے ساتھ دوٹوک معاملہ کیا جائے اور جو گروہ کسی طرح مذاکرات میں شامل ہو کر افغانستان میں امن بحال کرنے کا حصہ نہیں بننا چاہتے، ان سے مکمل دستبرداری کا اعلان کیا جائے۔ پاکستان ان عناصر کے لیڈروں کو افغان حکومت کے حوالے کر کے، ان کی اقتصادی امداد بند کر کے یا ان کے لئے پاکستان کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا راستہ مسدود کر کے فیصلہ کن رول ادا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ معاملہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کے لئے ہونے والی پیش رفت کو پٹھان کوٹ پر دہشت گرد حملہ کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ نئی دہلی اور اسلام آباد اس بحران سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان ، بھارت کو دباﺅ میں رکھنے کے لئے کابل میں اپنا اثر و رسوخ گہرا کرنا چاہتا ہے۔ تاہم بھارت نے بھی سرمایہ کاری اور طویل سفارتی کوششوں کے ذریعے افغان قیادت میں اپنے حامی پیدا کئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ طاقتور ہیں اور حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ستمبر 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد صدر اشرف غنی نے پاکستان نواز پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جلد ہی سیاسی حالات اور بھارت نواز عناصر کی قوت کے سامنے وہ بے بس ہو گئے تھے۔
اس لحاظ سے افغان مذاکرات کی کامیابی پاک بھارت تعلقات کی نوعیت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ دونوں معاملات میں پاکستان کو جراتمندانہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنے ملک کی معاشی ترقی اور انرجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کے راستے وسطی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ ترکمانستان سے پاکستان کے راستے بھارت آنے والی گیس پائپ لائن کو بھی ملکی معیشت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ بھارت کی عالمی شہرت کے لئے بھی اسے ایٹمی طاقت کے حامل ہمسایہ ملک کے ساتھ مراسم کو بہتر کرنا ہو گا۔ البتہ پاکستان ابھی تک ان عناصر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے جو پاکستان سے بھارت کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اسے کشمیر کی جدوجہد کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح کابل کے ساتھ پاکستان کے مراسم میں اونچ نیچ کی وجہ بھی افغان طالبان سے اسلام آباد کے تعلقات کی نوعیت ہے۔ یہ صورتحال واضح ہونے سے پہلے اس علاقے میں امن کی فضا بحال ہونا محال ہے۔
افغانستان میں طالبان کے ساتھ جنگ بندی کے نتیجہ میں پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی حوصلہ شکنی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ مصالحتی عمل پاکستان کی سکیورٹی اور داخلی امن و امان کے لئے بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ سارے معاملات پاکستان کے علاوہ خطے کے دیگر ملکوں اور بڑی طاقتوں کے علم میں ہیں۔ اسلام آباد نے طویل عرصہ تک صورتحال کو غیر واضح رکھ کر امن کو مشکل اور اپنی پوزیشن کو مشکوک بنایا ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت بھی ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے مداخلت کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ اس لئے افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کر کے ساری صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے اس لئے بھارت کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لئے جنگجو عناصر کی اعانت، مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اب فیصلہ کی گھڑی ہے۔ کیا پاکستان تمام دہشت گرد عناصر سے نجات حاصل کر کے ہمسایہ ملکوں سے امن قائم کرنا چاہتا ہے تا کہ ملک میں معاشی خوشحالی کا دور دورہ ہو سکے یا دہائیوں پرانے چوہے بلی کے کھیل والی حکمت عملی کے ذریعے بدستور اپنے لئے اور دوسرے ملکوں کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا خواہشمند ہے۔
افغان حکومت طالبان کو سیاسی مراعات دینے کے لئے تیار ہے۔ لیکن طالبان کو اسلام کی ٹھیکیداری سے دستبردار ہو کر شریعت نافذ کرنے کی بات کرنے کی بجائے سیاسی اختیار میں حصہ کی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ فریقین اس بات کو تسلیم کر لیں تو نہ مذاکرات پیچیدہ رہیں گے اور نہ امن کا حصول مشکل ہو گا۔ اس آسان مرحلے کو گنجلک باتوں سے حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے دیانتداری کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali