وزیر اعظم ہاؤس کا قیدی


\"\"ایک دوست نے وزیراعظم آزادکشمیر سے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کرنا تھی ، وہ اکیلے تھے تو ہم بھی ان کی گاڑی میں سوار ہو لئے کہ چلو ملاقات میں شامل نہ بھی ہوئے، سیر سپاٹا تو ہو ہی جائے گا۔ اسلام آباد کی خوبصورت شاہراہوں سے ہوتے کشمیر ہاؤس پہنچے، گیٹ پر کھڑے سنتری نے پوچھا کس سے ملنا ہے؟ صحافی دوست نے بتا دیا کہ وزیراعظم صاحب سے ملاقات ہے اور گیٹ کھول دیا گیا، بلاک بی کے سامنے گاڑی کھڑی کی اور وزیراعظم ہاؤس کے مین گیٹ کی طرف چل دیئے، گیٹ سے اندر جانے لگے تو ایک سنتری گیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور ساتھ موجود اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل (سول آدمی) نے جیب سے ملاقاتیوں کی فہرست نکالی، نام پوچھے، ہم نے نام بتائے تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر صرف ایک ملاقاتی کا نام ہے لہذا ایک ہی اندر جائے گا۔ صحافتی جوش پیدا ہونے ہی والا تھا کہ ہم نے اس پر پانی ڈالتے ہوئے دوست کو ملاقات کیلئے اندر جانے کا کہا اور خود باہر انتظار کرنے کا کہہ کر گاڑی کی طرف چل دیئے، تھوڑی ہی دیر بعد اندر سے پیغام لایا گیا کہ آپ بھی اندر آجائیں اور یوں ہماری ملاقات وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان صاحب سے ممکن ہو پائی۔

راجہ محمد فاروق حیدر خان آزادکشمیر کی عوام کے مقبول ترین سیاست دان اور سادہ طبیعت کے مالک انسان ہیں۔ انہیں جو لوگ قریب سے جانتے ہیں وہ تصدیق کرتے ہیں کہ راجہ فارو ق حیدر خان میں نہ تو کبھی تکبر پایا گیا اور نہ ہی وہ پروٹوکول کے عادی ہیں بلکہ سڑک کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھی لوگوں کے مسائل سن لیتے ہیں اور پھر ان مسائل کے حل کیلئے ایسے متحرک ہو جاتے ہیں جیسے یہ مسائل انکے اپنے ہوں اور جب تک مسائل کا حل نہیں نکال لیتے انہیں سکون نہیں ملتا۔ صاف گوئی، اصول پسندی، رشوت، کرپشن اور بدانتظامی سے نفرت انکی دیگر خصوصیات میں شامل ہے، وہ اپنے سیاسی کارکنان کی بھی سفارش کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے بلکہ براہ راست \"\"بات سننے اور موقع پر مسئلہ حل کرنے کے عادی ہیں۔ راقم آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی قیادت میں سب سے زیادہ راجہ فاروق حیدر کو پسند کرتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان کی آزادکشمیر کے مسائل میں دلچسپی ، اصول پسندی اور ریاستی حقوق کیلئے سخت گیر موقف ہے۔ سیاسی کارکنان اور راجہ فاروق حیدر کے ذاتی دوست ان کے بارے میں جو باتیں بتاتے رہے اور ان کی شخصیت کی جس انداز سے عکاسی کرتے رہے اس میں اور کشمیر ہاؤس ایوان وزیراعظم میں براجمان راجہ فاروق حیدر خان میں فرق محسوس ہوا تو قلم کو قلم کشائی سے روکنا ممکن نہ رہا۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان کو ان کے ارد گرد موجود بیوروکریسی اور مشیروں نے ایک مخصوص حصار میں قید کر کے رکھ دیا ہے اور ان تک عام آدمی تو درکنار لیگی کارکنان کی دسترس کو ناممکن بنا دیا ہے جس کی وجہ سے آزادکشمیر بھر میں لیگی حکومت کیلئے کارکنان کا وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آرہا جو لیگی حکومت کے قیام کے وقت دیکھنے میں آرہا تھا۔ آزادکشمیر دس اضلاع پر مشتمل ایک چھوٹا سا خطہ ہے جہاں پر وزیراعظم محض دس دنوں میں دس اضلاع کے عوام سے براہ راست رابطہ میں رہ سکتے ہیں، آزادکشمیر بھر میں راجہ فاروق حیدر کی حکومت کے خلاف سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران بھی سازشوں میں لگے ہوئے ہیں مگر وزیراعظم کو اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں دی جا رہیں کیونکہ وزیراعظم تک وہی بات پہنچ سکتی ہے جو محاصرہ کرنے والے انہیں بتائیں گے۔ صرف میرپور کی بات کی جائے تو حکومت کے قیام کے ساتھ ہی نیوسٹی ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس کی جانب سے افواہیں پھیلائی گئیں کہ ہسپتال ختم ہو رہا ہے، چیئرمین تعلیمی بورڈ کی جانب سے پراپیگنڈہ شروع کروایا گیا کہ تعلیمی بورڈ منتقل ہو رہا ہے، کچھ پیپلز پارٹی کے کارکنان یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ نیوسٹی گرلز ڈگری کالج ختم کیا جارہا ہے جبکہ کچھ افراد نے میڈیکل کالج کے خاتمہ کی بھی نویدیں سنانا شروع کر رکھی ہیں، کوٹلی میں پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ کوٹلی ہسپتال کو کوٹلی سے باہر منتقل کیا جارہا ہے، دیگر اضلاع میں بھی اداروں کے خاتمہ، منتقلی جیسی افواہیں عام گردش میں ہیں جبکہ لیگی کارکنان ان پراپیگنڈوں کا جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھ رہے کیونکہ کارکنان کی اکثریت مایوسی کا شکار ہے ، وزیراعظم آزادکشمیر اور لیگی رہنماؤں میں رابطہ کا واحد ذریعہ وزیراعظم ہاؤس کے کچھ افراد ہیں جن کے بارے میں عام شکایت یہ ہے کہ وہ فون کال بھی اٹینڈ نہیں کرتے اور اگر کبھی اٹینڈ کر بھی لیں تو صرف اتنا کہہ کر فون بند کر دیا جاتا ہے کہ اگلے چار دن تک وزیراعظم کی مصروفیات ہیں لہذا رابطہ ممکن نہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ وزیراعظم آزادکشمیر اپنی چھوٹی سی ریاست میں عوام کے ساتھ مکمل رابطہ میں رہیں۔ ماہانہ شیڈول بنایا جائے جس کے تحت میرپور ڈویژن میں وزیراعظم تین دن موجود رہیں، تین دن پونچھ ڈویژن اور تین دن مظفرآباد ڈویژن اور ان دنوں میں ہر عام و خاص کو وزیراعظم کے سامنے اپنی شکایت بیان کرنے کی اجازت ہو اور عوام کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔باقی 21 دن وزیراعظم پوری تندہی اور توجہ کے ساتھ حکومتی معاملات کو دیکھیں ، وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم مانیٹرنگ سیل قائم کیا جائے جہاں پر ہر خاص و عام کو اپنی شکایت درج کروانے کی سہولت ہو تاکہ عوام کا حکومت پر اعتماد بحال رہ سکے اور انکی شکایات کے ازالہ کیلئے مانیٹرنگ سیل سے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی جاتی ہوں تاکہ فوری اور سستا انصاف فراہم ہو سکے۔ قابل لیگی کارکنان کی بلدیاتی و دیگر اداروں میں ایڈجسٹمنٹ کا عمل فوری شروع ہونا چاہئے تاکہ عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں اور عوامی شکایات اور کاموں کی مقامی سطح پر تقسیم کار سے عوام کے بنیادی اور زیادہ تر مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو جائیں گے جبکہ بہت کم مسائل وزیراعظم ہاؤس تک پہنچیں سکیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم کو چاہئے کہ وزیراعظم ہاؤس کے عملہ میں تینوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز سے افسران اور عملہ تعینات کریں تاکہ وہاں پر جانے والے افراد کو بہتر اور باعزت طریقہ سے نمٹایا جا سکے۔ علاوہ ازیں آزادکشمیر میں کسی بھی بڑے حادثہ یا واقعہ کی صورت میں وزیراعظم کو جائے حادثہ پر جانا چاہئے تاکہ سوگواران کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بھی یہ احساس ہو کہ وزیراعظم ان میں سے ہیں ۔ میری منطق سے کچھ احباب کی دل آزاری ضرور ہو گی مگر تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح مقصود ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عتیق احمد سدوزئی کی دیگر تحریریں
عتیق احمد سدوزئی کی دیگر تحریریں