نفرت پھیلانے کے لئے آزادی اظہار کا جواز


\"\"نفرت انگیز تقاریر سے پھیلتی شر پسندی اور شدت پسندی کسی بھی ترقی پذیر یا ترقی یافتہ معاشرے کی تباہی، بربادی اور پسپائی کا سبب بن سکتی ہے۔ قدرت نے انسان کو باضابطہ ارتقائی مراحل سے گزار کر ان گنت صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان سب صلاحیتوں میں سے سب بنیادی اور اہم صلاحیت اس کی شعوری ترقی سے منسوب ہے جو اس کو باقی مخلوقات میں ممتاز کرتی ہے۔ اسی شعوری ترقی کی وجہ سے انسان نے اردگرد کے ماحولیاتی عناصر پر قابو پا کر اپنے ممکنات میں اضافہ کیا ہے۔ شعوری ترقی کے مختلف پہلو ہو سکتے ہیں۔ شعوری ترقی بنیادی طور پر سیکھنے کے عمل پر انحصار کرتی ہے۔ سیکھنا یا سیکھتے رہنا ایک ایسا مستقل عمل ہے جو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی انسان کو زندگی میں اپنائے رکھنا پڑتا ہے۔ سیکھنے یا سیکھتے رہنے کے مختلف ذرائع ہو سکتے ہیں۔ انسان اپنے اپنے اردگرد کے ماحول سے، زمانے میں موجود علوم بشمول کتب، مکتب، تحقیق، و تنقید سے، اور زندگی کے تجربات سے مستقل سیکھنے کے عمل کو جاری رکھتا ہے۔ شعوری ترقی کو پروان چڑھاتے ہوئے انسان، زندگی اور اپنے اردگرد کے ماحول کے بارے اپنا ایک نقطہ نظر تشکیل دیتا ہے۔ مختلف انواع کی چیزوں، واقعات، نظریات، رویوں، افکار اور دیگر سماجی، سیاسی، معاشی عناصر کے بارے اپنے جذبات اور اپنی سوچ کو اپنی \”رائے\” کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ رائے قائم کرنے کی یہ صلاحیت قدرت نے بنی نوع انسان کو فطری طور بخشی ہوئی ہے۔ رائے انسان کی زندگی کے تجربات، اس کی تعلیم و تربیت کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اچھائی اور برائی کی تمیز کے پیمانوں کا انسان اپنی رائے کے مطابق تعین کرتا ہے۔

سیاسی، سماجی اور شعوری ارتقاء کی ترقی نے انسانی زندگی کو مزید سہل اور جبلت کو مثبت طور پر پروان چڑھانے کی غرض سے اخلاقیات سے جڑے نئے پہلووں کو آشکار کر کے ان کے پنپنے اور ترویج کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔ انسان کے بنیادی حقوق کی فہرست کو مزید طول دیا گیا ہے اور آزادی رائے کو انسان کا بنیادی حق تصور کیا جانے لگا ہے۔ ہر قسم کی قانون و آئین سازی میں آزادی رائے کو ایک اعلیٰ اور ناقابل تردید مقام حاصل سے۔

آزادی رائے سے مراد انسان کسی بھی فکر، نظریہ، سوچ، عمل، اور نظام کے بارے، اپنی تعلیم و تربیت و زندگی کے تجربات سے حاصل شدہ سوجھ بوجھ کے مطابق، اپنا ایک خاص نقطہ نظر قائم کر سکتا ہے۔ اپنی رائے کو مدلل طور میں پیش کر سکنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی فکر، سوچ، نظریہ یا عمل کی حمایت کر کے اس کی ترویج کر سکتا ہے یا پھر تنقید کرنے سے اس کی اصلاح یا اس سے یکسر منحرف ہو جانے کا بھی حق رکھتا ہے۔ آزادی رائے ایک بہت خوشنما بنیادی اخلاقی حق ہے جس سے معاشرے کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ حق اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت اقداروں کی بود و باش کا موجب بنتا ہے۔ یہ منطق اور شعور کو پروان چڑھا کر بہت ساری گتھیوں کو سلجھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق کے نئے ابواب سے روشناس کرواتا ہے۔ تنقید سے اصلاح کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور بنی نوع انسان کے بے شمار مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اجتماعی شعور سے اخذ کی گئی متنوع قسم کی آراء جب باہم ملتی ہیں تو وہ اجتماعی مفاد پر متنج ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  جنرل (ر) راحیل شریف کے لئے نادر موقع!

بے شمار فکری مغالطوں میں گھرا ہمارا معاشرہ آزادی رائے کے حق کے بارے بھی شدید کنفیوژن کا شکار ہے۔ ہم آزادی رائے اور نفرت انگیز تقاریر کو باہم متصل سمجھتے ہیں اور ان دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ ہم بھرپور اعتماد کے ساتھ نفرت و شر انگیز بیانات و تقاریر کو بھی آزادی رائے کا حصہ گراننتے ہوئے دونوں کو یکجا کر دیتے ہیں جو سراسر آزادی رائے جیسے نفیس اخلاقی حق کی حوصلہ شکنی ہے۔ نفرت وشر انگیز تقاریر آزادی رائے گرداننا آزادی رائے کی تذلیل ہے۔ نفرت و شر انگیز تقاریر سے سادہ لوح عوام کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے اور انہیں جارحیت، اور شدت پسندی کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ انہیں قتل گری اور دیگر انسانیت سوز مذموم مقاصد کے لئے اکسایا جاتا ہے۔ اخلاقیات کو بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔ اختلاف رائے سہنے کی قابلیت کو پسپا کیا جاتا ہے۔ منفی تنقید سے تحقیر اور تذلیل کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے، شعوری بےضابطگیوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ شر اور فساد کو مزید ہوا دی جاتی ہے۔ معاشرتی توازن کو بگاڑ کر، انتشار کو فروغ دیا جاتا ہے۔ مایوسی اور دیگر منفی روئیوں کی ترویج کی جاتی ہے۔ سماجی و سیاسی اقداروں کی بے حرمتی کی جاتی ہے، تحقیق کی بھرپور حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر انہیں اشتعال دلایا جاتا ہے الغرض معاشرے اور اس میں بسنے والے تمام انسانوں کی زندگی کو طرح طرح کی مشکلات، اور مصیبتوں سے دوچار کر کے اجتماعی نقصان کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔ اور جب ان سے ایسی نفرت و شر انگیز تقاریر کے بارے دلیل مانگی جاتی ہے تو وہ جواباً آزادی رائے کا مختصر سا لفظ بول کر اور اس نظریے کا لبادہ اوڑھے جہالت سے بھرے اپنے سارے کرتوت چھپاتے نظر آتے ہیں۔ نفرت و شر انگیزی کا آزادی رائے سے دور دور تک کچھ لینا دینا نہیں۔ آزادی رائے کے حق کا یوں نفرت و شر انگیز بیانات و تقاریر کے نام پر استعمال نہ صرف آزادی رائے کے حق کی تضحیک ہے بلکہ ایک سنگین معاشرتی اور اخلاقی جرم بھی۔ اختلاف رائے رکھنا ایک مثبت چیز ہے، اور آزادی رائے میں اختلاف رائے شعور، منطق و دلیل کی ترقی پر متنج ہوتی ہے جب کہ دوسری جانب مزے کی بات یہ کہ کچھ لوگ اختلاف رائے رکھنے کے لئے اور مدلل جواب نہ ہونے کے باعث بھی نفرت و شر انگیز بیانات کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں۔ جو کہ سراسر ان کی شعوری پستی اور پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ ٹوٹے پھوٹے انداز اور نہایت سادہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آزادی رائے اور نفرت وشر پر مبنی تقاریر میں فرق کو پہچانیئے۔ آزادی رائے ہر انسان کو اس کا شخصی اعتماد اور اس کی جان و مال کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کی ضامن ہے۔ جب کہ دوسری جانب نفرت و شر کی تقاریر انسانی زندگی کو طرح طرح کے خطرات اور مشکلات سے دوچار کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ آزادی رائے مثبت اصلاحی تنقید وتحقیق جب کہ نفرت کی تقاریر منفی اور تحقیری تنقید و تحقیق کا واضح موجب بنتی ہیں۔ اکثر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آزادی رائے سے اجتماعی مفاد کا حصول جڑا ہوتا ہے، جب کہ نفرت کی تقاریر میں عام طور پر ذاتی و انفرادی مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ جن کی حقیقیت بہت گھناونی اور تلخ ہوتی ہے۔ آزادی رائے کی روح کو سمجھیے، اختلاف رائے کی اہمیت کو جانچیے، تنقید و تحقیق کی افادیت کو دیکھیے۔ آزادی رائے اور نفرت انگیز تقاریر دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان کو باہم متصل مت کیجئے۔ روشناس رہئے۔

اسی بارے میں: ۔  جمعیت علما کا اجتماع اور پشتون افغان ملت کا اتنڑ

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “نفرت پھیلانے کے لئے آزادی اظہار کا جواز

  • 29-01-2017 at 4:30 pm
    Permalink

    It’s great column about the life ,experiences and human development in terms of social ,cultural and political beyond the limitations of the society.
    It’s really appreciable to read such article which has an approach intellectual.

  • 30-01-2017 at 1:14 am
    Permalink

    اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے جو مضمون آپ نے لکھا ہے بہت عمدہ ہے- دراصل آزادی رائے کو غلط رنگ دے کر پیش کیا جاتا رہا ہے جس وجہ سے حقیقی آزادی رائے کو بھی نقصان پہنچتا ہے جیسا کہ آپ نے اپنے مضمون میں آزادی رائے کے حوالے سے لکھا ہے- آزادی رائے سے مراد یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ملک و قوم کے خلاف بھی بولا جائے تو درست ہوگا جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے- درحقیقت آزادی رائے کے مفہوم میں یہ امر داخل ہے کہ جو رائے بھی کسی امر کے متعلق رکھی جائے اس کے منفی و مثبت دونوں پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے رکھنی چاہئیے اور رائے قائم کرنے کے لئے مثبت نتائج پر ہی ہمیشہ نظر رکھنی چاہئے- جہاں منفی امر سامنے آئے وہ رائے ہی چھوڑ دینی چاہئے-

  • 30-01-2017 at 10:52 pm
    Permalink

    Best i i read so far…..great work

Comments are closed.