عامر لیاقت سے ایک تارک وطن کے سوالات


\"\" کسی بھی سماج میں اخلاقیات کے سنگھاسن پر براجمان ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنا کہیں کی دانشمندی نہیں۔ بقول شخصے، کسی بھی معاشرے میں لوگ اخلاقی لحاظ سے انیس بیس ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹرعامر لیاقت حسین صاحب کا کسی اور ہی دنیا میں  بسیرا ہے۔  میں ناچیز ڈاکٹر صاحب کی تضحیک کا حق رکھتا ہوں اور نا ہی حفظِ مراتب کے اصولوں کو پامال کر سکتا ہوں۔ لیکن کچھ گلہ ضرور کرنا چاہوں گا۔

سال 2015ء کی بات ہے، جب پاکستان کی سینٹ میں پی۔ٹی۔آئی کے رُکنِ اسمبلی لال مالہی صاحب نے ایوانِ بالا کے تمام ممبران کو مخاطب ہوکر فرمایا تھا ، \”آپ نے گالی ہندوستان کو دینا ہوتی ہے، اور دے ہندوؤں کو دیتے ہیں\”۔ یہ اس زمانے کہ بات ہے جب پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا، اور مبمرانِ اسمبلی بھارت پر تنقید کر رہے تھے۔

\"\"کچھ ایسا ہی ڈاکٹر صاحب نے اپنے پروگرام میں بھی کیا۔ طارق فتح کا مذاق اراتے اڑاتے وہ جوشِ خطابت میں سانپ، شری رام اور کئی دوسری ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے اشخاص اور شعائر کا بھی تمسخر بناتے چلے گئے۔ کیا جواب دینے کا یہ مناسب طریقہ ہے؟ کیا ڈاکٹر صاحب کے دل میں ایک لمحے کے لیے یہ خیال آیا کہ روہڑی میں صدیوں سے بسنے والے ہندو بھائیوں و بہنوں پر کیا گزرے گی؟ کیا انھوں نے کبھی سوچا کہ اگر معاذاللہ کوئی ہندو جواباً اسلامی شعار پر کوئی اخلاق سے گری ہوئی بات کردے تو اس کا اور اس کی کمیونٹی کا کیا بنے گا؟ ڈاکٹر صاحب کو اصرار تھا کہ وہ قائداعظم کا دفاع کررہے ہیں۔ واقعی؟ ہم نے تو بچپن میں جناب محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر پڑھی تھی، وہ معیارتھا اُخوت اور بھائی چارے کا، کہیں قائداعظم کی عزت کرتے کرتے ہم ان کا اصل پیغام تو نہیں بھول گئے؟

اب جب قائداعظم پر بات شروع ہو گئی ہے، تو جناب یہ کس قسم کا دفاع تھا؟ مجھے کسی پارسائی کا دعویٰ نہیں اور \"\"آپ کے سامنے شاید میں قرآن کا طالبِ علم ہونے کی جسارت بھی نہیں کرسکتا، لیکن اتنا  کہنے کا استحقاق ضرور رکھتا ہوں کہ اللہ کی کتاب ہی کا حکم ہے کہ نادان آدمی پر سلامتی بھیج کر آگے بڑھ جاؤ (الفرقان : 43)۔ لیکن آپ نے تو تمام حدیں ہی پار کردی۔

آپ نے جواب طارق فتح کی بدزبانی کا دینا تھا لیکن آپ اپنے پروگرام میں ان کی اہلیہ کی تصاویر دیکھاتے رہے۔ جواب آپ نے محمد علی جناح پر کی جانے والی دشنام طرازی کا دینا تھا لیکن بیچ میں آپ طارق فتح کی والدہ کو لے آئے۔ خطا آدم نے کی اور عذاب بیٹوں پر! میں نے اپنی مختصر زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمارا ذرائع ابلاغ ابتری کی اس سطح پر گر جائے گا۔ ماں تو آفاقی کردار ہے نا، پھر اس کردار کو بیچ میں لانے کا جواز کیسے پیدا ہوا؟ میرے خیال سے آپ کے بیانیہ سے قائداعظم کا کسی طور دفاع نہیں ہوا، نیز آپ نے ان پر کیے جانے والے دشنام کو گویا مشتہر کر دیا ۔

کچھ گفتگو آپ نے تاریخ پر بھی فرمائی۔ اپنے ایک پروگرام میں آپ نے داراشکوہ پر عورتوں کی عصمت دری کا الزام بھی لگایا۔ میں آپ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہوں، مگرکیا آپ اس بات کا کوئی تاریخی حوالہ دینا پسند فرمائیں گے؟ یا اسے بھی جوشِ خطابت کے سمندر میں بہا دیا جائے؟ ہم نے تو پڑھا تھا کہ اس کو اورنگزیب عالمگیر کے \"\"حکم سے انحراف کے نتیجے میں ہاتھیوں کے درمیان قتل کروا دیا گیا تھا۔ اس میں عورتیں بیچ میں کہاں سے آگئی۔

اور جناب آپ کو ساری قوم کا سفیر کس نے بنایا؟ جس طرح کی زبان آپ نے اپنے پروگرام میں استعمال فرمائی، وہ قطعاً ہماری سماجیات میں عام نہیں۔ کم از کم ہمارے معاشرے کی اکثریت ایسی زبان اپنے بچوں کو کبھی نہیں سکھانا چاہتی۔

کچھ عرصہ قبل، آپ اپنے رمضان کے پروگرام میں نومولود بچے شو میں بانٹ رہے تھے۔ میں یہاں جرمنی میں رہتا ہوں، اور شاید آپ کو اس کا اندازہ نہ ہو کہ آپ کی یہ حرکت مغربی میڈیا میں پاکستانیوں کے لیے ذلت کا باعث بنی تھی۔ میرے ایک غیر ملکی دوست نے جب مجھ سے پوچھا کہ کیا تم لوگ رمضان میں نومولود بچے مفت میں دیتے ہو، تو مجھے اس کی بات پر یقین ہی نہ آیا، لیکن جب خبر دیکھی تو بہت شرم آئی۔ آپ صد بسم اللہ اپنی ذات کے ترجمان بنیں، لیکن برائے مہربانی 20 کڑور لوگوں کی ترجمانی کی ذمہ داری کسی زیادہ مستحق فرد کے لئے چھوڑ دیں ۔

\"\"جب انسان خود شیشے کے گھر میں رہتا ہو، پھراس کو دوسروں پر توہین کا الزام نہیں لگانا چاہیے۔ یہ دور قدیم کی بات نہیں جب آپ پر بنی ایک تضحیک آمیز ویڈیو پورے ملک میں مشہور ہوگئے تھی۔ آپ یہ فرماتے رہے کہ یہ آپ کے خلاف ایک سازش ہے۔ لیکن یہی بات اگر گم شدہ بلاگز کے لواحقین فرمائیں تو آپ کو ان پر یقین نہیں آتا۔ حسنِ ظن کا تقاضا تو یہ تھا کہ پہلے اس بات کی اہتمام حجت ہوتی کہ آیا توہین آمیز فیس بُک صفحات ان ہی اشخاص کے ہیں یا نہیں؟ اس بنیادی سوال کو چھوڑ کر آپ نے ان پر توہینِ مذہب کا الزام مہر بند کردیا۔ پھر جب آپ کا دل اس سے بھی نہیں بھرا تو آپ نے اپنی توپوں کا رخ سماجی کارکن جبران ناصر کی طرف کردیا۔ جنزان ناصر جیسے لوگ ہمارا اثاثہ ہیں، یہ وہ دیوانے لوگ ہیں جو اپنی ذات سے باہر نکل کر عام آدمی کی بات کرتے ہیں، ہم کب حسن ناصر، بھگت سنگھ، اور جالب جیسے لوگوں کی عزت کرنا سیکھیں گے؟ آپ نے جبران ناصر پر بھی تقریباً توہینِ مذہب کا الزام لگا کر ان کو بھی واجب القتل لوگوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے قبل، یہی کوشش آپ نے مرحوم مولانا جنید جمشید کیلئے بھی کی تھی، جس بنا پر کچھ عرصے کیلئے ان کو انگلستان میں پناہ لینا پڑی۔ آخر نفرت بانٹ کر آپ کو کیوں لطف آتا ہے؟\"\"

اور سوال کرنے والوں سے  ہم ڈرتے کیوں ہیں؟ سوالات کرنا زندگی کی علامت ہے، اس ہی طرح معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ ان کو برائے مہربانی نہ روکیے۔ پرسیدن عیب نیست، ندانستن عیب است!

فیض صاحب کا یہ واقعہ مجھے ہمیشہ یاد آتا ہے کہ ان کے دوست پاکستان کے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے مشورے دے رہے تھے، کوئی فرما رہا تھا کہ اشترکیت پاکستان کا مستقبل ہے، کسی نے کہا کہ سرمایہ داری ہی راہ نجات ہے۔ فیض صاحب نے سب کی باتیں سنی اور آخر میں فرمایا کہ مجھے ڈر تو یہ ہے کہ کہیں یہ ملک ایسے ہی نہ چلتے رہے!

تو ڈاکٹر صاحب پاکستان ضرور آگے جائے گا، سوالات بھی ہوتے رہیں گے اور تنقید بھی، لیکن ایسے بالکل نہیں چلے گا جیسے آپ کا پروگرام چلتا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کمیل احمد کی دیگر تحریریں
کمیل احمد کی دیگر تحریریں

One thought on “عامر لیاقت سے ایک تارک وطن کے سوالات

  • 29-01-2017 at 10:08 pm
    Permalink

    ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عامر لیاقت کی حرکتوں سے کون لوگ منافع کما رہے ہیں۔ اگر ان کمینوں کی کمائی نہ ہو تو وہ ایک لمحہ کو عامر کو برداشت نہ کریں گے۔ عامر پیسہ کما رہا ہے مگر اس سے بہت زیادہ پیسہ تو ان لوگوں کی جیبوں میں جا رہا ہے جو وہ چینل چلاتے ہیں اور جو اسکے شو پر اشتہار کا وقت منہ مانگے داموں خریدتےہیں۔ اگر انکے خلاف مہم چلائی جائے یا انکا بائکاٹ انکو متاثر کرے تو یہ سب فوراً بند ہوجائے۔

Comments are closed.