موم بتی مافیا بنام مانو باجی


\"\"میں نے اپنے قلم کو ہمیشہ معاشی، معاشرتی،سماجی،اخلاقی اور صنفی امتیازات جیسے اجتماعی مسائل کے لئے اٹھایا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ براہ راست کسی کو مخاطب کرنا پڑرہا ہے۔ مانو باجی، یقین کیجیئے کہ میں نے چپ رہنے کی بہت کوشش کی مگر دل پر بوجھ ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ \”وٹ ایور\” کہ کر کندھے جھٹکنے کی کوشش بھی کی کہ جہاں اتنے سارے دوسرے ظلم سماج میں ہو رہے ہیں وہاں ایک یہ بھی سہی لیکن انتہائی دکھ کی حالت میں لکھنا پڑ رہا ہے۔ وہ کرب جو ایک \”عورت\” کے ہاتھوں اپنی ہی صنف کی ایک معصوم سی بچی پر روا رکھا گیا۔ کئی دن اس تلخ حقیقت کا سامنا کرتے ہوئےشدید اذیت میں گزرے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کے بہتر اور مرد کے مساوی مقام کی جد وجہد، صنفی مساوات کے مخالفین کو آپ کی اس حرکت کا کیا جواز پیش کیا جا سکتا ہے، ان کی زبانیں کیسے خاموش کروائی جا سکتیں ہیں؟

مجھے تسلیم ہے کہ یہ ایک انفرادی کیس ہے اور اس کا اطلاق تمام عورتوں پر نہیں ہو سکتا مگر کیا کیا جائے کہ عورت ہونے کے ناتے جتنا دکھ عورت کے اس رویے ہر ایک عورت کو ہو سکتا ہے مجھے بھی اسی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ میں نے پاکستان کو جن اخلاقی اقدار کے ساتھ چھوڑا تھا ان میں ہمارے گھر پر کام کرنے والی بچی کو میرے برابر پڑھایا لکھایا گیا ہے۔ مجھے یاد ہے، رمضان میں افطاری کے وقت گوالے کا جو بچہ دودھ دینے ہمارے گھر آتا تھا اس کا ہمارے ساتھ دسترخوان پربیٹھ کر روزہ کھولنا لازم تھا۔ یہ قدریں آخر کب کیوں بدل گئیں کہ اب معصوم ننھی سی پری کے ہاتھ چولہے پر جلانے جیسے انسانیت سوز واقعات جنم لینے لگے؟ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ وہ بھی خود ایک عورت کے ہاتھوں جبکہ پدرسری نظام تو برسوں سے یہی کرتا آیا ہے۔ ہم سب کو تو مل کر اس کے خلاف متحد ہونا تھا۔ پھر یہ آپ نے کیا کر دیا؟

یا پھر یوں ہے کہ یہاں مسئلہ عورت، مرد، روایت، ثقافت، پدرسری معاشرے، فیمینزم کا نہیں بلکہ طاقت، اختیار کے ساتھ استحصال، اور حاکمیت کا ہے۔ طاقت کے ساتھ ساتھ حاکمیت کا جنم لینا کوئی نئی بات نہیں۔ ایک منصف کا گھرانہ اور بیگار میں لی ہوئی بچی کے ساتھ یہ سلوک؟ یہ کونسا معاشرہ ہے؟ کیا یہ سب دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ غلامانہ سماج ختم ہو چکا ہے یا مذاہب، نظریات و ثقافت اپنے ارتقا سے معاشروں کو انسانی اقدار کے ضامن معاشروں میں بدل چکے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  ہم سب پر اعتراضات مسترد۔۔۔

یوں تو کس معاشرے میں جبر،بربریت، ظلم اور جرائم نہیں ہوتے مگر یہ کیا کہ ایک منصف، قانون دان کے گھر میں ایسی بے رحم قانون شکنی ہو اور وہ اپنی بیوی سے یہ تک نہ پوچھے کہ اس بچی کو کیا ہوا ہے ؟

اس سے ثابت ہوتا ہے یہاں غلامانہ سماج اب بھی پوری طرح پھیلا ہوا ہے۔ طاقت کے قانون، جنگل کے قانون کی جھلک موجود ہے یہاں عورت پر ظلم میں عورت مرد کے برابر بلکہ امام ہے اور اس مقام پرخود عورتوں کے حقوق کی جدوجہد بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

آخر کیا مسئلہ ہے کہ آج کے دور، اکیسویں صدی کے اہم معاشروں میں سے ایک (پاکستان) میں ظلم و ستم کے واقعات سامنے آنا روز کا معمول بن چکا ہے اور شاید کچھ عورتیں اس میں کچھ ایسی ذہنیت والے مردوں سے پیچھے نہ رہنے پر یا اسی کو برابری کی سطح مانتے ہوئے یوں عمل کرنے پر بھی اتر آئی ہیں ( تخصصں کے ساتھ اس سے مراد تمام عورتیں یا تمام مرد نہیں فقط ایسی ظالمانہ، جابرانہ، سفاکانہ، بہیمانہ، بیمار ذہنیت رکھنے والے مرد وخواتین)۔

ان تمام سوالات کے جوابات مجھے اپنے تئیں یہ سمجھ آتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا نظریہ خواہ وہ مرد اور عورت کی مساوات کا اصول ہی ہی کیوں نہ ہو صرف انسانیت کہ فلاح وبہبود کے لئے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے اس سماج کو انسانی سماج بنانا ضروری ہے ورنہ یہ سب کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جب ایک ایپروچ یا نظریہ اس سماج میں بھی پنپ رہا ہے یعنی فیمینزم تو ماہین بی بی عرف مانو باجی جیسی ظالم یا بہو، نند کو جلانے والی تمام سفاک عورتوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگتا ہے۔ کیا اس رویے کو انسان بھی کہا جا سکتا ہے چہ جائکہ ایک امرہ،عورت جسکا خمیر ہی پیار، محبت،خلوص، ہمدردی سے گندھا ہوتا ہے ؟

اسی بارے میں: ۔  غیرت زندہ ہے

دوسرے نمبر پر، اختیار و بے اختیار، طاقت وراور کمزور کے درمیان خلیج کو کم ہونا چاہیے تاکہ دونوں کے درمیان حاکم و محکوم جیسی سوچ ختم ہو سکے جو معاشرے اپنے تمام افراد کو مساوات اور انسانی برابری کی بنیاد پر اس کے حقوق اور ممکنہ آزادی اور تحفظ نہ دے سکیں وہ کبھی قائم نہیں رہ سکتے اور انسانی معاشرے کہلانے میں انہیں شاید صدیاں درکار ہوں اور اسی طرح ایسی عورتوں کو انسان بنانے میں بھی شاید صدیاں درکار ہوں گی جو خود اپنی ہی صنف کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔۔

آخری امید،خواہش یا خوش فہمی کہ لیجیئے۔ مانو باجی پلیز آپ بھی کچھ تو بولیئے۔ اپنی صفائی پیش کیجیئے۔ خدارا کچھ تو کہیئے۔ سب کوجھٹلا دیجیئے ورنہ یہ نقاب اتار دیں اپنے چہرے سے کہ ہم سب دیکھ سکیں ایک درندہ صفت عورت کا چہرہ کیسا ہوتا ہے۔ دل نہیں مانتا کہ ایک عورت اتنی سفاک ہو گی۔ بہت ممکن ہے یہ میڈیا کا پروپیگنڈہ ہو۔ جسے کسی دشمن نے آپ کے خلاف استعمال کیا ہو یا ان کوخرید لیا ہو۔ آپ بھی تو سامنے آئیں اور ان سب کی نفی کر دیں تاکہ ہم اور آپ مل کر اس پدرسری ںظام میں عورت کو اس کا جائز مقام دلانے کے لئے جدوجہد کرسکیں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو غضب ہو جائے گا۔ جب بھی کوئی عورت اس مقصد کے لئے سامنے آنا چاہے گی تو آپ جیسی بے رحم عورتوں کا خیال، وجود ان کے سامنے بھیانک عفریت بن کر راستہ روک لے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نور العین ساحرہ کی دیگر تحریریں
نور العین ساحرہ کی دیگر تحریریں