تارکین وطن کا المیہ !


\"\"تارکین وطن میں تین قسم کے لوگ شامل ہیں۔

پہلے وہ جن کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں تھا، وہ پسے ہوئے طبقے میں پیدا ہوئے، ملک میں محنت مزدوری یا چھوٹی موٹی نوکری کرکے دیکھی پر حالات نہ بدلے، اُن کی کوئی سفارش تھی نہ باپ کا ترکہ، قابلیت بھی کچھ خاص نہ تھی کہ ٹیلنٹ کی بنا پر ہی کامیاب ہو جاتے، سخت جان البتہ تھے مگر اِس کی بھی ایک حد ہوتی، سو ہر طرف سے دھکے کھانے کے بعد بالآخر جب انہیں موقع ملا وہ دبئی، برطانیہ، یورپ یا امریکہ سدھار گئے کیونکہ اپنی زندگی بہتر بنانے کا اِن کے پاس یہی ایک راستہ تھا۔ باہر جاکر انہوں نے اپنے خاندان کو پیسے بھیجنے شروع کئے، اِن میں سے کچھ کے حالات نے تو ایسا پلٹا کھایا کہ انہوں نے پاکستان میں اپنے محل نما گھر تعمیر کر لئے تاکہ اہل محلہ اُن سے حسد کرکے اپنے گناہوں اور اُن کی نیکیوں میں مفت کے اضافے کا سبب بن سکیں۔ جبکہ کچھ بیچارے باہر جا کر بھی بس گزارا ہی کرتے رہے، اُن کے بیوی بچے کسی قدر خوشحال تو ہو گئے مگر ان بدنصیبوں نے اِس خوشحالی کی بہت بڑی قیمت ادا کی، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا خون جلا کر محنت کرتے ہیں، ایک ایک پیسہ جوڑ کر رکھتے ہیں اور مشکل سے سال بھر میں ایک یا دو مرتبہ گھر ملنے آتے ہیں۔ پی ٹی وی کے ڈرامے ’’سونا چاندی‘‘ میں ’’بشیرفورمین‘‘ ایسا ہی ایک کردار تھا۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو پاکستان کے متوسط طبقے میں پیدا ہوئے ( یہاں متوسط طبقے کی تعریف بھی ضروری ہے کہ فی زمانہ ارب پتی تاجر بھی خود کو مڈل کلاس کا ہی بتاتا ہے)، اُ ن کے لئے زندگی اتنی کٹھن تو نہیں تھی البتہ وہ اِس نظام سے نالاں تھے، سرکاری محکموں میں جائز کاموں کے لئے انہیں ذلیل و خوار ہونا پڑتا تھا، راہ چلتے کوئی کانسٹیبل اُن کی بیوی کے سامنے اُن کی بے عزتی کر سکتا تھا۔ وہ ٹی وی پر امریکہ یورپ کا سسٹم دیکھ کر رشک کرتے تھے اور سوچتے تھے کہ انہیں یہ حق حاصل کیوں نہیں کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کسی ایسے ملک کی سکونت اختیار کرلیں جہاں انہیں یہ ڈر نہ ہو کہ اُن کا بچہ اگر گلی میں کھیل رہا ہے تو اسے کوئی اغوا کرکے نہیں لے جائے گا، عورت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا، کوئی پولیس والا ناکے پر چیکنگ کے نام پر اُن سے پانچ سو نہیں ہتھیائے گا، بجلی کا بل جمع کروانے کے لئے انہیں چلچلاتی دھوپ میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا، پنشن وصول کرنے کے لئے انہیں سرکاری اہلکاروں کی منتیں نہیں کرنی پڑیں گی اور بیمار پڑنے کی صورت میں انہیں یہ ڈر نہیں ہوگا کہ انہیں جعلی دوا نہ کھلا دی جائے۔ سو انہوں نےکمر باندھی اور یورپ جاکر دم لیا، محنت کی، پیسہ بنایا اور اُس نظام کے ثمرات سمیٹے جہاں پر ہر کسی کو برابر سمجھا جاتا ہے اور عزت نفس مجروح نہیں کی جاتی۔ یہ لوگ دل سے اب بھی پاکستانی ہیں، یہاں کے حالات دیکھ کر کُڑھتے ہیں، اِن کا بس نہیں چلتا کہ یورپ کا ویلفیئر سسٹم اٹھا کر لے آئیں اور پاکستان میں نافذ کردیں، ملک کی محبت اب بھی اِن کے دل میں موجزن ہے، یہ زبانی باتیں ہی نہیں کرتے بلکہ کام بھی کرتے ہیں اور پاکستان کے فلاحی اداروں کو دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔

تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو پاکستان کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ نسبتاً خوشحال طبقے میں پیدا ہوئے، پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے انہوں نے subsidizedفیسوں پر میڈیکل، انجینئرنگ، ایم بی اے اور آئی ٹی کی ڈگریاں لیں، اِن میں سے کچھ کو تو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وظیفہ دیا تاکہ باہر سے پڑھنے کے بعد یہ پاکستان میں واپس آ کر کام کریں مگر اُن میں سے بھی بیشتر وہیں کے ہو کر رہ گئے، یہ لوگ بھی پاکستان کے سسٹم سے بیزار تھے مگر اِس کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے تیار نہ تھے، روز اوّل سے اِن کا مقصد باہر سیٹل ہونا تھا اور وہ انہوں نے پورا کیا۔ پہلی دو اقسام کے تارکین وطن کے برعکس اِس تیسری قسم نے پاکستان کو چانس دینے کی کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی، یقیناً بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے پڑھ لکھ کر یہاں کامیاب زندگی بسر کرنے کی کوشش کی ہوگی اور ناکامی کا سامنا کیا ہوگا مگر زیادہ تر ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان کا استعمال صرف اپنے مقصد کے حصول کے لئے کیا اور اِس نظام کو فقط اس لئے گالیاں دیں تاکہ اپنے ضمیر کو باہر جانے کا جواز فراہم کیا جا سکے۔ اب بھی پاکستان میں ہونے والا بم دھماکہ، خود کُش حملہ، اغوا برائے تاوان کی کوئی واردات، ٹارگٹ کلنگ کا کوئی واقعہ انہیں اندرونی خوشی دیتا ہے کہ اِس سے انہیں اپنے فیصلے کا جواز مل جاتا ہے، جس دھرتی کو لوگ ماں کہتے ہیں اسے استعمال کرکے یہ لوگ کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں عیاشی کی زندگی تو گزار رہے ہیں مگر اِن کے اندر کا انسان جانتا ہے کہ وہ اِس ملک کے قرضدار ہیں۔ دراصل یہ اِن کے اندر کی خلش ہے جو انہیں ساری ساری رات فیس بک پر جگائے رکھتی ہے اور وہ جام سامنے رکھ کر ہر اُس شخص کو گالیاں دیتے ہیں جو اُن کی مرضی کے مطابق ’’اِس کرپٹ نظام کو تبدیل‘‘ کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اپنے تئیں ایسا کرکے وہ یہ قرض چکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اِس بات کا بھی احسان جتاتے ہیں کہ پاکستان اِن کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ سے چل رہا ہے حالانکہ یہ پیسے اپنے رشتہ داروں کو بھیجتے ہیں، آج اگر ان کے والدین بھارت جا بسیں تو زر مبادلہ کی اگلی قسط ممبئی بھیجی جائے گی ناکہ کراچی!

ملک چھوڑنا کوئی گناہ نہیں، ہر شخص کو خوشحال زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی ملک کی سکونت اختیار کر سکتا ہے، دنیا بھر میں لوگ ایسا کرتے ہیں اور پھر دل و جان سے وہ اُس ملک کے کلچر اور اس کی بود وباش کو اپنا لیتے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کا المیہ یہ ہے کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ ہمیں خوشحال اور پرسکون زندگی تو چاہئے مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کینیڈا میں پڑھنے والے ہمارے بچے بچیوں کی چودہ برس کی عمر میں دوستیاں ہوجائیں۔ تاہم یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہوگی۔

کالم کی دُم:اس کالم میں لوگوں کی وہ قسم شامل نہیں کی گئی جو جلاوطنی، سیاسی پناہ یا جان کے خطرے کی وجہ سے باہر جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ کیس ہی علیحدہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 139 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “تارکین وطن کا المیہ !

  • 29-01-2017 at 8:25 pm
    Permalink

    پاکستان میں لوگوں کو درپیش مسائل اور پھر ترک وطن کے بعد پرائی سرزمین پر انہیں لاحق ترجیحات کے حوالے سے آپ نے بہت سنجیدہ مفصل مدلل اور مربوط لکھا ہے ۔ سنجیدگی و شگفتگی کے عمدہ امتزاج کے ساتھ قلمبند کی جانے والی اس تحریر میں حالات و معاملات کا جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ ہر تارک وطن کے دل کو چھو لینے والا ہے ساتھ ہی بہت سوں کی دکھتی رگ کو چھیڑ دینے والا بھی ۔
    پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی مقیم ہیں وفاداری کے حلف اٹھا کر شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں اپنا جینا مرنا نویافت سرزمینوں کے نام کر چکے ہیں مگر خود کو آخری سانس تک پردیسی ہی سمجھتے ہیں ۔ ایسے ایسے عاشق صادق بھی ہیں جن کی عمریں تو کیا نسلیں گذر گئیں مگر انہوں خود کو پاکستانی سمجھنا نہیں چھوڑا ۔ اچھی بات ہے کیونکہ جو قومیں اپنی شناخت بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں مگر یہ واقعی بہت زیادتی کی بات ہے کہ پاکستان سے باہر کسی اور دیس میں اپنی تمام عمر گذار کے اور حقوق کے نام پر تمام سہولتیں رعایتیں بٹور کے بھی ہم اسے پردیس ہی سمجھتے رہیں ۔ ہمیں اسے اپنا دوسرا وطن سمجھنا چاہیئے مگر نہیں سمجھتے اور واقعی یہ پاکستانی تارکین وطن کا المیہ ہے ۔ اور ویسے بھی کسی بھی کسی غیر مسلم ملک میں کافروں اور مشرکوں کے معمولات و مشغولیات پر اعتراض اور ان کی اصلاح کی آرزو قطعی بےجواز ہے ۔ اپنی جڑوں سے جڑے رہنا اور بات ہے اور اپنی محسن سرزمینوں پر وہاں کی جڑیں کھودنا بالکل اور بات ۔ یہی لوگ ہیں جو باقی کے مسلمانوں کے لئے مشکلات کھڑی کر چکے ہیں انہوں نے منافقت اور محسن کشی کی جو فصل بوئی تھی اسے کاٹنے کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔

Comments are closed.