اعتماد کی داد تو بنتی ہے باس!


\"\"

9جون 1996ء کی ایک دوپہر قومی اسمبلی میں ایم این اے احسن اقبال نے ایک تحریک پیش کی۔ اس تحریک کو پڑھتے ہوئے احسن اقبال کہنے لگے کہ ان کے نزدیک وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اس ایوان کی توہین کی اور اس کا استحقاق مجروح کیا ہے۔ احسن اقبال نے بینظیر بھٹو کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا، وہ کہتی ہیں کہ سرے، لندن میں پچیس لاکھ پائونڈ (پندرہ کروڑ روپے) میں جو جائیداد خریدی ہے اس کے بارے میں اپوزیشن لیڈر نواز شریف کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب دینا ان کے وقار (dignity) کے منافی ہے۔ سرے محل سکینڈل پر اٹھنے والے سوالات پر جواب نہ دے کر بینظیر بھٹو نے اس ایوان کا استحقاق مجروح کیا ہے، اس لیے اس پر بحث کی اجازت دی جائے۔
اس تحریک کے بعد نواز شریف جو اس وقت اپوزیشن لیڈر تھے وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے تقریر شروع کی: \’\’جناب سپیکر، پچھلا اجلاس ختم ہوا، اس میں آپ موجود تھے، ہم بھی یہاں موجود تھے اور ایک احتسابی کمشن کی بات پر اجلاس ختم ہوا۔ اس کے بعد اس ہائوس میں ہم نے جو ریزولیوشن موو کیا اس پر ووٹنگ ہوئی اور بدقستمی سے حکومتی پارٹی اپنی عددی برتری کی بنا پر جیت گئی۔ انہوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کے بعد ہم نے خط لکھا صدر محترم فاروق لغاری کو کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔
جناب سپیکر! ابھی تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔ لیکن یہ مسئلہ اتنا گمبھیر ہو چکا ہے اور پاکستان کے اندر آج کل کرپشن اس قدر رچ بس گئی ہے کہ باہر کی دنیا کی ایجنسیز بھی پاکستان کو غالباً نمبر تین یا نمبر دو ملک قرار دے رہی ہیں۔ کرپشن کے لحاظ سے بھی، ابھی کل کی بات ہے۔۔۔۔ یہ جمعہ بیس محرم کا اخبار ہے اور اس کی شہ سرخی ہے: \’میری حکومت میں کوئی کرپٹ نہیں، پاکستان کو کرپشن کے دوسرے نمبر پر رکھنا درست نہیں، سابق دور میں بدعنوانیاں ہوئیں: بینظیر بھٹو‘۔ وہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کا سدباب کیا اور ان کی حکومت میں کوئی کرپٹ نہیں۔ جناب سپیکر! اشخاص کرپٹ ہیں یا نہیں یہ تو وقت ثابت کر رہا ہے اور آنے والے حالات ثابت کریں گے۔ کرپشن پر اگر احتسابی کمشن بن جاتا، جو کہ آج نہیں بنے گا تو کل بنے گا، تو جناب سپیکر! دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا اور یہ بینظیر بھٹو صاحبہ جو ہیں وہ یہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کا سدباب کیا ہے۔ سدباب وہ کیا کرے گا جو خود اس میں ملوث ہو؟
جناب سپیکر! بینظیر بھٹو نے کہا، نہ ہم خود کرپٹ ہیں اور نہ ہی ہمارے کوئی دوسرے لوگ کرپٹ ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال جناب سپیکر میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ یہ ہے جو سنڈے ٹائمز، سنڈے ایکسپریس لندن کا ایک بڑا نیوز پیپر ہے اور اس میں آج خبر چھپی ہے جناب سپیکر! میں ابھی پڑھ کے سناتا ہوں اور میں زبانی کلامی کرنے کا نہ عادی ہوں اور نہ ہی کبھی کی ہے اور اس کی ابھی تصویر میں بعد میں بتائوںگا۔ اس کا عنوان جناب سپیکر ہے: Bhutto for retreat۔۔۔ جناب سپیکر! ہمارے ایک ممبر ہیں پرنس اورنگزیب، ان کا تعلق سوات سے ہے اور انہوں نے کچھ دن پہلے یہاں اسلام آباد میں یہ کہا کہ ان کا دوست سرے میں رہتا ہے جس نے ان کو خط لکھا کہ ان کے ہمسائے میں آپ کی وزیر اعظم اور وزیر اعظم کا شوہر جو ہے وہ مل کر ایک بڑی جاگیر لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کچھ مہینے پہلے کی بات ہے جب انہوں نے پہلی دفعہ بتایا تو پھر اس کے بعد اس کا ذکر انہوں نے یہاں اسلام آباد میں بھی کیا۔ تو میں نے انہیں کہا، اپنے دوست سے، ذرا کہیں اس کی تفصیل اگر ہمیں بھجوا سکیں تو وہ بجھوائے، لیکن وہ تفصیل تو نہیں آئی لیکن جو بات ہم کرتے تھے وہ اب اخبار نے آج 9 جون 1996ء کو پیش کر دی ہے۔ اس میں لکھا ہے :
Benazir Bhutto, Pakistan prime minister has found a perfect sideway. The 42 years old Oxford educated leader and her husband Asif Zardari has bought a 2.5 million pound property in Surrey with indoor swimming pools stands in 355 acres on the edge of the village Brook. It will provide an ideal retreat for Mrs Bhutto when she wants to escape her troubled political life in Pakistan. Police sources said that if security alarms are sounded Scotland Yard will be informed and an arms vehicles despatched immediately. A contractor said a plane flew over the property twice and guards reached for their guns.
جناب سپیکر! میں اس محل کی تصویریں آپ کی خدمت میں ابھی پیش کررہا ہوں اور اس مینشن کی اور اس پراپرٹی کی جو355 ایکڑ پہ پھیلی ہوئی ہے۔ یہ اس کی تصویر ہے۔
جناب سپیکر! ہم یہاں پر چند روز پہلے اخبار میں خبر پڑھ چکے ہیں کہ پانچ ٹن سامان جو ہے وہ وہاں پر لندن بھجوایا گیا۔ اس کا ایئر وے بل نمبر بھی اخبارات نے شائع کیا ہے اور پھر اس کے بعد کہا گیا کہ یہ آم کی پیٹیاں ہیں۔ اور اس سے پہلے جب چین میں تھا تو
مجھے وہاں چین میں فون آیا لندن سے کہ جناب یہاں پر اتنے کلوگرام جس کی اس وقت فگر پانچ ٹن کے قریب بنتی تھی، یہ سامان آج سرے پہنچا ہے، یہاں پر پی آئی اے سے، لندن میں، اور اس کا براہ راست بلاول ہائوس سے تعلق ہے۔ جناب سپیکر! یہ خبر جنگ میں پرسوں چھپی ہے کہ بلاول ہائوس سے برطانیہ بھجوائے جانے والے سامان میں نوادرات کی45 پیٹیاں تھیں اور پھر وہاں کے برطانیہ میں ہمارے سفیر واجد شمسن الحسن کہتے ہیں، اس سامان کا وزیر اعظم سے کوئی تعلق نہیں۔ اس میں آموں کے آٹھ کریٹس اور دوستوں کے لیے تحائف شامل ہیں۔ واجد شمسن الحسن فرماتے ہیں ایسا سامان برطانیہ منگوانا انہونی نہیں ہے۔
جناب سپیکر! یہ عملًا آج ہم نے آپ کے سامنے پیش کر دیا، جس کے بارے اکثر ذکر قوم کے ہر طبقے کے افراد کرتے ہیں اور قومی اسمبلی بھی اس کے اوپر بے تحاشہ، اس کے اوپر بحث کر چکی ہے۔ آج احتسابی کمشن ہوتا تو ہم اس کے سامنے یہ کیس لے کر جاتے۔ آج ہم آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ جناب سپیکر ! اور کوئی دروازہ کون سا کھٹکھٹائیں۔ میرا خیال ہے اس سے بہتر اور کوئی ثبوت شاید پاکستان کی تاریخ میں نہ کوئی ہو گا اور نہ ہی پہلے کبھی آیا ہو گا۔ شکریہ!‘‘
یہ تقریر کرکے نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے پچیس لاکھ پائونڈ یا اس وقت کے پندرہ کروڑ روپے میں خریدے گئے 355 ایکڑ پر پھیلے سرے محل کی تصویریں سپیکر یوسف رضا گیلانی کو پیش کرنا شروع کر دیں!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔