خدا ہی اوریا صاحب کو سمجھائے


\"\"

دل شکستہ ہے۔ طبعیت میں بے چینی ہے۔ پریشانی سی پریشانی ہے۔ اداسی بال کھولے بین کر رہی ہے۔ ضمیر ہے کہ ملامت کر رہا ہے۔ دل اہل علم کو صدائیں دے رہا ہے۔ جی چاہتا ہے چیخوں اور اہل علم کو زور زور سے پکاروں۔ پھر خیال آتا ہے کہ دامن سے الجھ جاؤں یا پاؤں پکڑ کے کہوں اٹھتے کیوں نہیں ہو؟ بولتے کیوں نہیں ہو؟ لکھتے کیوں نہیں ہو؟ صدائے احتجاج کیوں بلند نہیں کرتے؟ آخر کب تک میرے نبیؐ کے دین کے ساتھ مذاق ہوتا رہے گا؟ آپ کیسے وارثان انبیاء ہیں؟ میرے نبیؐ کے دین کی ایسی ایسی تشریحات ہو رہی ہیں کہ دل کانپ اٹھتا ہے۔ آپ خواب غفلت سے بیدار کیوں نہیں ہوتے؟ پھر کسی جنگ کا انتظار ہے؟ پھر پانی کا سروں سے گذرنا دیکھنا چاہتے ہو؟ پھر خون کا ایک دریا چاہتے ہو؟ آگے کیوں نہیں بڑھتے؟ لب کھولیے میری نبیؐ کے دین کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

یہ دیکھیں اوریا مقبول جان ٹی وی پہ بیٹھ کے کیسی کیسی تشریحات کیے جا رہے ہیں؟ بات ایک دن کی ہوتی ہم خاموش ہو جاتے کبھی یہ غزوہ ہند کی من پسند تشریح کرتے ہیں۔ کبھی ہجرت نہ کرنے والوں کو جہنمی ہونے کی خبریں سناتے ہیں۔ اور کبھی روس کے ساتھ تعلقات کو جواز بخشنے کے لیے قرآن پاک کی آیات کی غلط تشریح کر رہے ہوتے ہیں۔

کسے نہیں یاد کہ اس سے پہلے دو ہاتھیوں کی لڑائی کے لیے مذہب کا استعمال کیا گیا؟ طالبان جب وجود میں آئے تو پھر مذہب سامنے لایا گیا قوم کے اذہان میں خراسان اور کالے جھنڈوں والی احادیث بٹھائی گئیں۔ پھر جب تحریک طالبان پاکستان والے ملک کے اندر کارروائیاں شروع کرنے لگے تو پھر لمبے بالوں اور خوفناک چہروں والی حدیثیں سامنے لا کے قوم کو بتایا گیا کہ یہ خارجی اور جہنم کے کتے ہیں۔ اوباما جب صدر بنے اس وقت بھی کالے رنگ اور کالی ٹانگوں والی احادیث سامنے لائی گئیں۔ اور ابھی کچھ روز قبل ایک کتاب دیکھی جس سے ایک بندے نے ثابت کیا کہ پاکستان کا نام قرآن پاک و احادیث سے ثابت ہے۔ ایک صاحب نے تو راحیل شریف کو بھی قرآن سے ڈھونڈ نکالا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  قاتلوں اور دہشت گردوں کے لیے دعا

بات رکی نہیں چل رہی ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی اوریا مقبول جان بھی ہیں اوریا صاحب نئی تاویلات اور نئے انکشافات کیساتھ سامنے آ ہے ہیں ابھی دو روز قبل روس کے ساتھ تعلقات کو جائز ثابت کرنے کے لیے قرآن کو بیچ میں لے آئے ہیں روس کو مذہبی ریاست ثابت کر رہے ہیں من گھڑت واقعات پیش کر رہے ہیں۔

\"\"

یہ سب کیا ہے؟ کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ قوم کو صاف اور دوٹوک الفاظ میں یہ کیوں نہیں بتا دیا جاتا کہ ملکوں کے معاملات سیاسی ہوتے ہیں۔ ملک اس وقت مذہب کی بنیاد پہ نہیں چل رہے۔ ملک مفادات کی بنیاد پہ چل رہے ہیں۔ ملکوں کی دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں بلکہ مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ کل تک تو امریکہ کو اہل کتاب ثابت کر کے اسے اچھا ثابت کیا اب وہی کام روس کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اب روس کیمونسٹ ملک نہیں رہا بلکہ عیسائی ریاست بنا دی گئی۔ واہ اوریا صاحب واہ۔

مجھے قطعا کوئی گلہ نہیں روس کے ساتھ تعلقات رکھنے میں۔ پاکستان میرا ملک ہے، میرے ملک کے لیے فائدہ مند روس ہے تو سر آنکھوں پہ۔ چائنہ سود مند ہے تو جی بسم اللہ۔ مخالف امریکہ و افغانستان ہے تو بھاڑ میں جائے۔ بس چھوٹی اور معصوم سی گزارش ہے کہ ان تعلقات کے لیے مذہب کو استعمال نہ کیا جائے۔

اوریا صاحب ایسا کیوں کر رہے ہیں مجھے علم نہیں میری علماء کرام سے درخواست ہے کہ وہ آگے بڑھیں مذہب کے غلط استعمال کو روکیں۔

اسی بارے میں: ۔  جب ہم نے ہدایت پائی اور صوفیا گمراہ ٹھہرے

اگر آپ آگے نہیں بڑھتے تو پھر میں جھولی رب کے حضور ہی پھیلاؤں گا اور کہوں گا مالک خود ہی کوئی راہ نکال کہ اوریا صاحب سمجھ جائیں۔ مذہب کی بنیاد پہ بہت خون دیکھ چکا ہوں اب مزید دیکھنے کی سکت نہیں۔ لوگ قبلہ بدلتے دیر نہیں لگاتے لیکن جن نوجوانوں کے ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے کہ فلاں ملک کے خلاف لڑ کے جنت ملے گی ان ممالک سے جب دوبارہ تعلقات قائم کیے جاتے ہیں تو پھر بندوق اور گولی ہم پہ ہی چلتی ہے۔

افغانستان اور کشمیر کی مثال سامنے ہے کل تک جن لوگوں کو افغانستان اور کشمیر کے لیے تیار کیا تھا انہوں نے ہمارا پلٹنا دیکھا تو انہوں نے امریکہ و بھارت کو چھوڑ کے ہمیں ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ وہ جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی خون ابھی تک بہہ رہا ہے عسکریت اب بھی ٹوٹی کمر کے ساتھ سینکڑوں بچے یتیم کر جاتی ہے خدا کے لیے اب یہ کھیل بند ہونا چاہیے

مجھے اوریا صاحب کی ذات سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ میرے سادے اور دین سے محبت رکھنے والوں کے جذبات سے نہ کھیلا جائے اور طلباء سے بھی کہوں گا کہ ایک بیوروکریٹ پہ اعتماد کرنے کی بجائے اپنے شیوخ اورعلماء پہ اعتماد کریں۔ جو لوگ ہمیں آج بھی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں ان سے بچیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔