امریکا میں داخلے پر پابندی اور پاگل پن کی حدود


\"\"ایران نے فوری طور پر اپنے ملک میں امریکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تہران میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے کے غیر قانونی، بلا جواز اور عالمی قوانین سے متصادم فیصلہ کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ ایران کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران سمیت سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کو ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی فی الوقت 90 روز کےلئے ہوگی۔ البتہ 120 روز کے لئے کسی بھی قسم کے پناہ گزین کا ملک میں داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں سے ان سات ملکوں کے شہریوں کو امریکہ پرواز کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کے پاس امریکہ کے کارآمد ویزے موجود ہیں۔ امریکہ پہنچنے والے ایسے ہی متعدد عراقی باشندوں کو نیویارک کے کینیڈی ایئر پورٹ پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ صدر کے حکم کے بعد اب امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ان میں سے ایک عراقی باشندہ دس برس تک امریکی افواج کے معاون کے طور پر خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔ اس وجہ سے دو مرتبہ اس پر حملہ بھی کیا گیا تھا۔ اس دوران فرانس کے صدر ہولاندے نے واضح کیا ہے کہ یورپ کو امتیازی سلوک پر مبنی ان رویوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جس کا اظہار نئی امریکی حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران کے علاوہ کسی مسلمان ملک نے ٹرمپ کے متعصبانہ ، مسلمان دشمن اور انتہا پسندانہ احکامات پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل پینٹاگان کا دورہ کیا اور اس موقع پر امریکی افواج کو مستحکم کرنے کے حکم نامہ پر دستخط کرنے کے علاوہ امیگریشن کنٹرول کے ایک متنازعہ غیر انسانی اور امریکی اقدار سے متصادم حکم پر بھی دستخط کئے ہیں۔ اس حکم کے تحت ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے باشندوں کو ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان ملکوں کے ایسے شہری جن کے پاس پہلے سے امریکی ویزا ہے، ان کا امریکہ میں داخلہ بھی 120 روز کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے حکم نامہ میں شام سے پناہ گزین وصول کرنے کے پروگرام کو بند کرتے ہوئے شام کے شہریوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ کو محفوظ بنانے اور انتہا پسند مسلمانوں کا ملک میں داخلہ روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فہرست میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان سمیت متعدد ملکوں سے امریکہ جانے والے یا ویزا حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے افراد کو شدید ترین کنٹرول کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ جس طرح زور دے کر انتہائی سخت کنٹرول کی بات کرتے ہیں، اس سے یہ باور کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنے عہد صدارت میں مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ یہ رویہ اور اس کے تحت جاری ہونے والا صدارتی حکم امریکی آئین، عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن ٹرمپ ان اقدار اور روایات کو مسترد کرتے ہیں اور کسی اصول کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا، مبصر، ماہرین اور یورپی لیڈر یکساں طور سے امریکی صدر کے اس طرز عمل سے پریشان ہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ مسلمان تارکین وطن کے خلاف حکم نامہ کے علاوہ وہ جس لب و لہجہ میں مسلمانوں کو دہشت گرد اور امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں، اس سے مٹھی بھر نسل پرست اور انتہا پسند عناصر تو مطمئن اور خوش ہوں گے لیکن آزادی، انصاف اور سب کے لئے مساوی مواقع کے سلوگن کے حامل ملک امریکہ کے یہ فیصلے امریکی معاشرے اور دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو تبدیل کر دیں گے۔ ایک امریکی مبصر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے حکم نامہ کے بعد آزادی کے مجسمہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مسلمان مہاجرین کا امریکہ میں داخلہ قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ شام اور دیگر ملکوں سے مہاجرین کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے عیسائی اور دیگر غیر مسلم درخواست دہندگان کو ترجیح دی جائے۔ اگرچہ پناہ گزینوں کے داخلہ پر چار ماہ کے لئے پابندی یہ کہتے ہوئے لگائی گئی ہے تاکہ اس دوران پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے انتخابی نعروں کے عین مطابق ہے۔ لیکن امریکی امیگریشن نظام کے زیرو بم کو جاننے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پناہ کی درخواست دینے والے لوگوں کو پہلے ہی سخت اور صبر آزما کنٹرول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ کے کئی محکمے ان لوگوں کے پس منظر کی پڑتال کرتے ہیں اور انہیں متعدد بار مشکل اور کٹھن انٹرویو کے لئے بلایا جاتا ہے۔ اس کارروائی میں دو سال کی مدت صرف ہوتی ہے اور اکثر درخواستوں کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اب ٹرمپ سخت کنٹرول کی بات کرتے ہیں تو یا تو یہ بے معنی ہے یا اس سے یہ مراد لینی چاہئے کہ وہ ہر قسم کے مسلمان مہاجرین کا ملک میں داخلہ مستقل بنیادوں پر بند کرنا چاہتے ہیں۔

ایک خاص مذہب اور خاص خطے کے لوگوں کے خلاف یہ فیصلہ ہر قسم کی روایت اور آئینی اور قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔ متعدد امریکی اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس حکم نامہ پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس صدارتی حکم کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ تاہم طویل قانونی عمل میں فوری طور سے مشکلات کا شکار ہونے والے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ نیویارک کے کینیڈی ایئر پورٹ پر جن عراقی باشندوں کو روکا گیا ہے، ان کے وکیلوں نے ایک مقامی عدالت میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں کسی قانونی اختیار کے بغیر روکا گیا ہے۔ ان میں سے ایک شخص کے وکیل مارک ڈوس نے اخبار کو بتایا کہ انہوں نے جب اپنے کلائنٹ سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ وہ کس مجاز افسر سے بات کریں تو ایئر پورٹ پر موجود افسران نے ان سے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ سے بات کریں جن کے حکم پر یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔ اس وکیل کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے معاملات کے برس ہا برس کے تجربہ کے دوران انہیں کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں ہوا۔ یہ نہایت وحشت ناک طریقہ ہے۔ میڈیا نے جب واشنگٹن میں رابطہ کرکے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو صدر کا کوئی نمائندہ جواب دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ کینیڈی ایئر پورٹ پر پھنسے ہوئے عراقی باشندوں کے علاوہ ملک کے دیگر ایئر پورٹس پر بھی ایسے عراقی یا دیگر مسلمان ملکوں کے شہریوں کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جن کے پاس امریکی ویزا ہے اور اسی لئے وہ امریکہ پہنچے تھے لیکن اب صدر ٹرمپ کے عاقبت نااندیشانہ حکم کی وجہ سے وہ ملک میں داخل نہیں ہو سکتے اور ایئر پورٹ حکام انہیں ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر ایران کے سوا کسی مسلمان ملک نے امریکہ کے اس ظالمانہ اور غیر انسانی اقدام پر ردعمل ظاہر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ٹرمپ کے حکم نامہ میں ایران کو ان 7 ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں دہشت گردی کی صورتحال خراب ہے حالانکہ ایران ایک محفوظ معاشرہ ہے اور وہاں سے دہشت گردی کی اطلاعات موصول نہیں ہوتیں۔ البتہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاندانہ سیاسی رویہ کی وجہ سے اس فہرست میں ایران کا نام شامل کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں جو صدر اوباما نے دیگر پانچ ملکوں کے ساتھ مل کر طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد طے کیا گیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت ایران اپنی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اس معاہدہ کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا تھا۔ اگر آنے والے دنوں میں امریکہ یہ معاہدہ منسوخ کرتا ہے تو ایران بھی اپنا جوہری پروگروام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے انسداد کے حوالے سے یہ ایک خطرناک فیصلہ ثابت ہوگا۔

مسلمان ملکوں کے باشندوں پر امریکہ داخلے کی پابندیوں کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دیگر انتہا پسندانہ اقدامات پر فرانس کے صدر فرانسوا ہولاندے نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آج صبح لزبن میں یورپین لیڈروں سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے صدر ہولاندے نے کہا کہ یورپی یونین کے ملکوں کو اپنے اصولوں پر کاربند رہنے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے دوران سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ جن پاپولسٹ رجحانات کو ہوا دے رہے ہیں، یورپ کو ان کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک بھیانک سچائی کا سامنا ہے۔ یہ پاپولزم کا معاملہ ہے اور امریکی صدر نہ صرف پاپولسٹ رجحانات کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ انتہا پسندی کا پرچار کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جب ٹرمپ کہتے ہیں کہ یورپ کو تارکین وطن کو قبول نہیں کرنا چاہئے تو ہمیں مل کر اسے مسترد کرنا ہوگا۔ اسی طرح جب وہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور یورپی اتحاد کے خلاف باتیں کرتے ہیں تو ہمیں اپنا واضح موقف سامنے لانا ہوگا۔ ٹرمپ جب امریکہ کے مفاد کے نام پر دوسرے ملکوں کی معیشت کو انتشار کا شکار کرنا چاہتے ہیں تو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اس امریکی صدر کی منفی سیاست کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔

ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر ٹرمپ کو متنازعہ صدارتی احکامات اور اعلانات کی وجہ سے امریکی کانگریس میں کس حد تک مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب سے مشکل بات یہ ہے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے اور جھوٹ بولنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ امریکی میڈیا صدر ٹرمپ کو ناقابل اعتبار قرار دے رہا ہے جو کسی بھی امریکی صدر کے لئے شرمناک صورتحال ہے۔ لیکن اچانک حاصل ہونے والی انتخابی کامیابی کے نشے میں چور ڈونلڈ ٹرمپ فی الوقت پوری دنیا سے مقابلہ کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ لیکن کب وہ خاموشی سے موقف تبدیل کرکے بالکل متضاد بات کہنے لگیں، اس بارے میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے نیٹو کو فرسودہ اور ناکارہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا لیکن کل برطانوی وزیراعظم تھریسامے سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سو فیصد نیٹو کے حامی ہیں۔ دو روز قبل میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کے اخراجات وصول کرنے کے معاملہ پر انہوں نے میکسیکو کے صدر سے ملاقات کو غیر اہم قرار دیا تھا لیکن کل اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی صدر پینانیٹو سے فون پر بات ہوئی ہے اور ہم نے نہایت دوستانہ ماحول میں اچھی اچھی باتیں کی ہیں۔

اس مزاج اور ذہنیت کے شخص کا امریکہ کی صدارت پر فائز ہونا بجائے خود ایک المیہ ہے۔ اسی لئے امریکہ میں صدر کے نفسیاتی معائنہ کے لئے قانون بنانے کی باتیں شروع ہو چکی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali