انجمانان کھلاڑیان کبڈی و پہلوانان گجرانوالہ اور جگت باز فورم


\"\"ادارے کی طرف سے پیغام ملا کہ آج شام پانچ بجے، انجمانان کھلاڑیان کبڈی وپہلوانان گجرانوالہ اور جگت باز فورم والے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ آپ بھی، اپنی تشریف پانچ بجے سے قبل پریس کلب لے جائیے گا اور احوال پریس کانفرنس سے ادارے کوبروقت مطلع فرما دیے گا۔ ہم اس وقت لال مسجد کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ پریس کانفرنس شروع ہونے میں قریبا ایک گھنٹا باقی تھا۔ پریس کانفرنس کا خاکہ ذہن میں بناتے ہوئے، پریس کلب متعین وقت سے قبل پہنچ گئے۔ مدعوئین اپنی کرسیاں سنبھال چکے تھے اور پریس کانفرنس کے لیے بے تاب تھے۔ پریس کانفرنس کا آغاز بتائے گئے، وقت پر ہی ہوا۔

صدور انجمانان کھلاڑیان کبڈی اور پہلوانان گجراانوالہ نے پھولی ہوئی، سانسوں کے ساتھ بیک وقت، جگت باز فورم کے صدر سے درخواست کی۔ آپ ہم دونوں کی طرف سے پریس کانفرنس کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ تمہیدی کلمات اور تعارف کے بعد، جناب صدر نے بتایا کہ میں ایوان اقتدار کی راہداریوں میں اس غرض سے گھوم رہا تھا کہ ارباب اختیار اور خصوصی طور پر فن و ثقافت کے وزیر کی توجہ، اپنے ساتھیوں کی حالت زار کی طرف سے دلاؤں۔ ان کو \"\" بتاؤں، نامساعد حالات میں ہم کس طرح اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں۔ ملاقات تو ہوئی لیکن وہ بھی گول مول الفاظ میں تسلی، یعنی ہمارے ساتھ فنکاری کر کے، یہ جا اوروہ جا ہوئے۔ میری لٹکی شکل دیکھ کر، ایوان کی راہداریوں میں گھومتے ہوئے، میرے بغل میں بیٹھے صدور میری جانب تشریف لے آئے اور کہا کہ آپ کا کا م تو لٹکے ہوئے منہ پر بشاشت لانے کا ہے۔ لیکن، یہاں تو آپ خود منہ لٹکائے بیٹھے ہیں۔ ماجرا کیا ہے؟

میں نے کہا، ہم جیسے فنکار آج کل حکو مت کی سرپرستی سے محروم ہے۔ اسی کا رونا، رونے یہاں آیا ہوں۔ بات بنتی نظر نہیں آرہی، اس لیے منہ لٹک گیا۔ محترم صدور نے بھی، اپنی آمد کی وجہ یہی وجہ بتائی، ہم بھی مقتدر افراد کی توجہ اسی جانب دلانے کے لیے یہاں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔ بات چل نکلی تو ہم سب گئے وقت کو یاد کرتے رہے کہ کیسے بادشاہ وقت، کھیلوں اور فنکاروں کی سرپرستی کرتے تھے اور شاہی خزانے کے منہ پہلوانوں ا ور فنکاروں کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ ملاقات کے اختتام پر ہم سب نے ایک دوسرے کو، اپنے رابطے کے نمبر دیے اور اپنی عارضی رہائشوں کی طرف روانہ ہوگئے۔

رات گئے، محترم صدور کے فون آئے کیا ملاقات ہوسکتی ہے۔ ہم نے کہا، جی کیوں نہیں! مقامی چائے کے ہوٹل پر ہم سب جمع ہوئے تو انجمن کھلاڑیان کبڈی کے صدر نے کہا۔ آپ نے ٹی وی  دیکھا؟ ہم نے کہا، ہاں کیوں نہیں، وہی سب کچھ دیکھا جو روز میڈیا پر ہوتا ہے۔ ہمارے تفریحی پروگرام سے زیادہ، عوام کا رجحان ٹاک شوز دیکھنے کا ہے۔ کیونکہ وہ ٹاک شوز دیکھ کر ہی جگت بازی سے لطف اندوزہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ٹاک شوز کی ریٹنگ ہمارے پروگراموں سے زیادہ ہے۔ جناب صدر بولے، بھائی قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی نے ایک دسرے کے ساتھ جس طرح دھینگا مشتی کی۔ وہ دیکھی کہ نہیں؟ ہم نے کہا، ہاں وہ بھی دیکھی۔ صدر صاحب نے کہا، پھر تو یہ بھی دیکھا ہوگا۔ جب ایک معزز رکن اسمبلی دوسرے رکن اسمبلی کے منہ کو ہاتھ لگا کر، انتہائی سرعت کے ساتھ کبڈی کے کھلاڑی کی طرح ادھر ادھر ہوگئے۔ واللہ، کبڈی کے کھلاڑی کی سی تیزی تھی۔ پہلوان صاحب بولے، کیا دھینگا مشتی تھی۔ مجھ کو تو اپنا اکھاڑہ یاد آگیا۔ ہم نے کہا وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن کیاآپ نے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر جگت بازی نہیں دیکھی کیا؟ دونوں بولے، سب دیکھا۔ ہم نے کہا مقصد کیا ہے اس میٹنگ کا؟ دونوں صدور نے اپنی رائے سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی کی آج کی کارروائی دیکھ کر ہم نے فیصلہ کیا ہے۔ ہماری کھیل و فن کی بقا میدان سیاست میں ہے۔ اس لیے، ہم نے مشترکہ طور پر میدان سیاست میں عملی قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ بھی اس فیصلے میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں تو ایک اچھی اور تگڑی سیاسی جماعت کی تشکیل ہوسکتی \"\"ہے۔ بات میرے دل کو لگی۔ اس لیے میں نے آمادگی ظاہر کردی۔

اب آپ صحافیوں کے سامنے، میں محترم صدور انجمانان کھلاڑیان کبڈی و پہلوانان گجرانوالہ اور اپنے فورم کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ ہم نے ایک مشترکہ سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ عوام اور آپ صحافی حضرات سے رہنمائی کی درخواست کے ساتھ، سیاسی جماعت کے لیے مناسب نام رکھنے کا مشورہ بھی درکار ہے۔ اس دعا کے ساتھ، پریس کانفرنس کو ختم کرتا ہوں کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔ آپ تمام حضرات کی تشریف آوری کا شکریہ، اللہ حافظ۔

ہم نے بطور صحافی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے، مکمل رپورٹ اپنے اخبار کو بھیج دی۔ اب نئی سیاسی جماعت کی آمد کے بعد کی صورتحال کا سوچ رہے ہیں کہ اب میدان سیاست میں کیا، نیا دیکھنے کو ملے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔