ڈاکٹر عبدالسلام کا 91واں یوم پیدایش – خصوصی تحریر


\"\" وزیراعظم نواز شریف نے 5دسمبر2016ءکو قائداعظم یونیورسٹی میں قومی مرکز برائے طبیعات کا نام تبدیل کر کے پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنٹسٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پرمرکز برائے طبیعات رکھنے کی منظوری دی ۔ یہ فیصلے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے 21 نومبر 1996 ء کو آکسفورڈ میں انتقال کرنےوالے ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان کےلئے شاندارسائنسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو دنیا کی 36 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی تھیں جبکہ 22 ممالک نے انہیں اپنے اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا تھا۔

29 جنوری 2017ء کو جھنگ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالسلام۔ جن کا آج 91واں یوم پیدائش ہے۔ اکے نام پر وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے پاکستانی طلباء کو اچھی شہرت کی حامل بین الاقوامی جامعات میں طبیعات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے کیلئے سالانہ پانچ فیلو شپ فراہم کرنے کی منظوری بھی دی۔ 1998ء میں وزیراعظم نواز شریف کی وزارت عظمی کا ہی یہ دوسرا دورتھا کہ جب حکومت پاکستان نے ۔ ملکی تاریخ کے پہلے ایٹمی تجربات کے سلسلے میں ”پاکستانی سائنسدان“ کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجراء کیا تھا تو اس میں بھی ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات کو سراہا گیا تھا!۔

معروف پاکستانی ماہر طبیعات ڈاکٹر عبدالسلام ۔ جو نظریہ علم طبیعات کے حوالے سے بیسویں صدی کی اہم شخصیت\"\" ہیں۔ پاکستان کے وہ واحد سائنسدان ہیں۔ 1979ء میں جنہیں طبیعات کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ انہیں یہ انعام دو امریکی سائنسدانوں شیلڈن لی اور سٹیون وینبرگ کےساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ نظریہ طبیعات علم طبیعیات کی ایک ایسی شاخ ہے۔ علم ریاضی کے اصولوں اور منطق کی مدد سے جس میں مظاہر فطرت کی وضاحت کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے 14 سال کی عمر میں اپنا پہلا مقالہ” رامانوجن “کے ایک مسئلے کے حل پر لکھا تھا۔ جبکہ 1944ء میں انہوں نے ریاضی میں گریجوایشن اور 1946ء میں اسی شعبہ میں ہی ماسٹر کیا تھا۔ جھنگ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے ایم ایس سی کیا۔ ایم ایس سی میں فرسٹ پوزیشن لینے پر ڈاکٹر عبدالسلام کو کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے لئے اسکالر شپ ملا اور وہ 1946ء میں کیمبرج چلے گئے۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں سے انہوں نے نظری طبعیات میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ علم طبیعیات دو بڑی شاخوں میں منقسم ہے، ایک نظری طبیعیات اور دوسرا تجربی طبیعات۔ سائنسدان ان کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ” نظری طبیعیات کے برعکس تجربی طبیعیات میں مظاہر فطرت کو سمجھنے کے لیے تجربات کی مدد لی جاتی ہے۔ سائنس کی ترقی نظری اور تجربی تحقیق کے امتزاج پر منحصر ہوتی ہے۔ کبھی نظری پیشین گوئیوں کو سالوں تجرباتی توثیق کا انتظار کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ہگز بوزون کے موجود ہونے کی تجرباتی شہادت ملنے میں تقریبا نصف صدی کا عرصہ لگا۔ اوراسی طرح بعض اوقات تجرباتی طورپردریافت شدہ مظاہر کی نظری توضیح میں برسوں بھی لگ جاتے ہیں“۔

اسی بارے میں: ۔  پرویز مشرف حکومت کے ساتھ مک مکا کرکے دبئی گئے: مولا بخش چانڈیو

1946ء میں کیمبرج سے نظریہ طبعیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام 1951ء میں وطن واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔ تین سال بعد دوبارہ برطانیہ چلے گئے اوروہاں بھی تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ اس دوران ان کے من میں آگے سے آگے بڑھنے کی جستجو کچھ یوں عملی طور پر سامنے آتی رہی کہ 1964ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں بین الاقوامی سینٹر برائے نظریہ طبعیات کی بنیاد بھی ڈال لی۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنے وطن کے لئے ناقابل فراموش کارنامے سرانجام دیئے۔ اِن کے وطن پاکستان نے بھی ان کی خدمات کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے خوش قسمت انسان تھے کہ اپنی زندگی میں ہی جنہوں نے خوب داد وصول اس طرح کی کہ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔ 22 ممالک نے اپنے اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا تھا، جن میں اردن کا نشان استقلال، وینزویلا کا نشان اندرے بیلو، اٹلی کا نشان میرٹ، ہاپکنز پرائز، ایڈمز پرائز، میکسویل میڈل، ایٹم پرائز برائے امن، گتھیری میڈل، آئن اسٹائن میڈل اور لومن سوف میڈل سرفہرست ہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام 1960ء سے 1974ء تک حکومت پاکستان کی جانب سے مشیر سائنس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس عہدے پر ایک اہم کردارانہوں نے پاکستان میں سائنس کی ترقی کیلئے ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں سائنسی تحقیقات کے آغاز کے لئے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ وہ زراعتی طبیعیات اور نظریاتی طبیعیات میں بھی ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ یہ ڈاکٹرعبداسلام ہی تھے جنہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی تھی۔

طبیعیات کا نوبل انعام”رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز“ کی جانب سے ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے طبیعیات کے شعبے میں اہم ترین دریافت یا ایجاد کی ہو۔ 19ویں صدی میں الفریڈ نوبل نام کے ایک کیمیا دان ہوا کرتے تھے ۔ جو انجینئر، موجد، اسلحہ صنعت کار کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے تھے ۔ مگر وہ اپنی ایک ایجاد ”ڈائنا مائٹ “ کی بدولت جانے پہچانے جاتے تھے۔ 21 اکتوبر 1833 کو سویڈن میں پیدا ہونے والے الفریڈ برنہارڈ نوبل جو 10 دسمبر 1896 کو اطالیہ میں اِس دنیا سے چلے گئے۔ الفریڈ برنہارڈ نوبل انعام کے بانی تھے۔ اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ کی ایجاد کی بدولت انہوں نے بہت دولت کمائی۔ یہی وجہ ہے کہ 1896ءمیں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم موجود تھی۔ 10 دسمبر کو اپنی وفات سے قبل مگر27 نومبر 1895 کو الفریڈ نوبل اِس دولت کے استعمال کا بھی اپنی زندگی میں طریقہ کار طے کر گئے تھے۔ موت سے قبل انہوں نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ ان کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے ۔ جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کام کیا ہو۔ بعد ازاں ان کی اس وصیت کے تحت ہی کچھ سالوں بعد ایک فنڈ قائم کر دیا گیا۔ جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ نوبل انعام 1901ء سے اب تک فزکس، کیمسٹری، طب، ادب اور امن کے شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے مردوں اور عورتوں کو دیا جاتا ہے۔ نوبل فنڈ کے بورڈ کے 6 ڈائریکٹر ہیں جو دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق سویڈن یا ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔ اسی ضمن میں ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی طبیعات کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے نظریہ طبیعات اور تیسری دنیا کی تعلیمی اور سائنسی مسائل کے حوالے سے 300 سے زیادہ مقالات تحریر کئے جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  آئن سٹائن کی ایک اور سازش کامیاب

کس کو خبر تھی کہ 20ویں صدی میں آج کے دن چوہدری محمد حسین کے گھر پیدا ہونے والے ڈاکٹرعبدالسلام سائنس کی دنیا میں اپنے ملک پاکستان کا نام اِس طرح روشن کریں گے کہ 21ویں صدی میں بھی حکومت پاکستان کو ان پر ناز ہوگا!۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔