جب ہم نے خفیہ ادارے کی راہنمائی کی


\"\"

اکثر اوقات ہمارے بعض پڑھنے والے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ سازشی تھیوریاں پکڑنے اور گھڑنے میں اتنے ماہر ہیں تو وطن عزیز کے خفیہ ادارے آپ کی راہنمائی کیوں نہیں لیتے ہیں جبکہ آپ کے ہم عصر سوشل میڈیائی استادوں کی وہ مسلسل راہنمائی لیتے رہتے ہیں۔ ابھی تک تو عظیم تر ملکی مفاد میں ہم اس معاملے کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھے کہ ملک کا خفیہ ترین ادارہ ہم سے راہنمائی لے چکا ہے مگر اب وقت آ گیا ہے کہ قوم کو حققیت سے آگاہ کر دیا جائے۔

یہ جنوری کی ایک سرد دوپہر تھی۔ اچانک دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ ہم نے دروازہ کھولا تو باہر کوئی نہ تھا۔ ’ہمارے محلے کے بچے نہایت شریر ہیں‘، ہم نے دروازہ بند کرتے ہوئے سوچا۔ اچانک ہماری نگاہ نیچے فرش پر موجود ایک لفافے پر پڑی۔ اس کے اندر ایک کارڈ تھا جس پر رومن حروف میں دو مرتبہ ایکس لکھا ہوا تھا۔ XX؟ نیچے لکھا تھا کہ ’جلد جواب کے منتظر ہیں‘۔ یہ شریر بچے۔ لیکن وہ سیر ہیں تو ہم سوا سیر۔ ہم نے اس پر لکھ دیا وائی وائی YY۔ یعنی ہم تم بچوں سے ایک درجہ بڑھ کر ہی ہیں، تمہیں ایکس تک گنتی آتی ہے تو ہمیں وائی تک۔ کارڈ کو لفافے میں بند کر کے ہم نے دروازے کی نچلی درز سے باہر دھکیل دیا۔

\"\"

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک کی آواز سنائی دی۔ ہم نے دروازہ کھولا تو باہر منہ پر سرجیکل ماسک لگائے پیرا میڈیکل سٹاف کھڑا تھا۔ ان کے لیڈر نے جیب سے ایک تصویر نکال کر ہماری شناخت کی اور بقیہ لوگوں کو حکم دیا کہ ’یہی ہمارا مریض ہے، لے چلو‘۔ وہ ہمیں ایک سٹریچر پر جکڑ کر باہر لے آئے تو سامنے ہی ایمبولینس کھڑی تھی جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا ’پاگل خانہ‘۔ ہمیں ایمبولینس میں ڈال کر کسی نامعلوم منزل کی جانب لے جایا گیا۔ دو گھنٹے تک گاڑی چلتی رہی۔ ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ بلامقصد شہر کی گلیوں میں گھوم رہی ہے کیونکہ گاڑی کی کھڑکی سے ہمیں سب کچھ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بالآخر ایمبولینس ایک پرشکوہ عمارت کے سامنے رکی جس پر لکھا ہوا تھا ’پاگل خانہ‘۔

ہمارا سٹریچر چند راہداریوں سے گزار کر ایک تاریک کمرے میں لے جایا گیا اور ہماری بندشیں کھول کر ایک بڑی سی میز کے سامنے رکھی کرسی پر بٹھا دیا گیا اور تمام پیرا میڈیکل عملہ کمرے سے رخصت ہوا۔ چٹ کی آواز آئی اور کمرہ روشن ہو گیا۔ میز کے دوسری طرف ایک نقاب پوش موجود تھا جس کے سینے پر لکھا ہوا تھا ایکس ایکس، XX۔ وہ مسکرایا اور کہنے لگا ’سائیکو مینشن میں خوش آمدید کاکڑ صاحب‘۔

’ہمیں اس طرح زبردستی کیوں لایا گیا ہے؟‘ ہم نے احتجاج کرنے کی کوشش کی۔
’زبردستی کیسے؟ ہم نے اپنا ایکسٹو والا کارڈ بھیجا تھا اور جواب میں آپ نے وائی وائی لکھ کر یس یس کہا تھا‘۔ ایکسٹو نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

\"\"

اب ہمیں علم ہوا کہ معاملہ کیا ہے اور یہ کارڈ محلے کے بچوں نے نہیں بلکہ محکمہ خارجہ کی سیکرٹ سروس کے سربراہ ایکسٹو نے بھیجا تھا۔ ہم نے بات بنانے کی خاطر کہا ’ہمارا مطلب ہے کہ ہمیں پاگل خانے کی ایمبولینس میں کیوں لایا گیا ہے؟‘
ایکسٹو نے جواب دیا ’مقتدرہ قومی زبان کے حکم پر سائیکو مینشن کا نام اب پاگل خانہ رکھا جا چکا ہے‘۔
’کچھ عجیب سا نام ہے۔ کیا کچھ بہتر نہیں ہو سکتا تھا‘۔ ہم نے تبصرہ کیا۔
’مقتدرہ نے انگریزی نام سائیکو مینشن پر اعتراض کرتے ہوئے اس کا نام ”مطب برائے مغزی و اعصابی و نفسیاتی عوارض برائے علیلانِ ملت از نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر“ تجویز کیا تھا۔ ہم مقتدرہ کو بمشکل پاگل خانہ پر رضامند کر پائے ہیں۔ ورنہ اس کا بورڈ پڑھنے والے تمام افراد کو ابتدائی دماغی امداد دینی پڑ رہی تھی۔ یہ نام بہتر ہے‘۔ ایکسٹو نے مطلع کیا۔
ہم نے تفہیمی انداز میں سر ہلا کر ایکسٹو کی تائید کی اور پوچھا ’ہمیں کس راہنمائی کے لئے یاد کیا گیا ہے؟‘

’کاکڑ صاحب آپ کو یاد ہو گا کہ جب ملک کی نمبر ون ایجنسی کی داغ بیل ڈالی گئی تھی تو ابن صفی مرحوم کو زحمت دی گئی تھی کہ وہ جاسوسوں کی تربیت کریں۔ اب وہ تو رہے نہیں۔ سیکرٹری خارجہ سر سلطان نے نوٹ کیا ہے کہ محکمہ خارجہ کی سیکرٹ سروس کے جاسوسوں کو بھی اب تربیت کی ضرورت پیش آ چکی ہے کیونکہ مکمل طور پر نیا عملہ بھرتی کرنا پڑا ہے۔ اب فی زمانہ آپ سے بڑھ کر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو کہ یہود و ہنود نیز نصاریٰ و ایلومیناٹی کی سازشیں پکڑ سکے۔ خاص طور پر اپنے حالیہ مضامین میں آپ کے ایلومیناٹی کی بھیانک سازشوں سے آگاہ کیے جانے کے بعد صدر مملکت نے بنفس نفیس سر سلطان کو طلب کر کے حکم دیا کہ محکمہ خارجہ کی سیکرٹ سروس کو آپ سے راہنمائی دلوائی جائے‘۔

’پرانی ٹیم کہاں گئی ہے؟ وہ علی عمران اور سوئس قتالۂ عالم جولیانا فٹز واٹر کیا ہوئے؟ تنویر خاور اور نعمانی کا کیا بنا؟ صفدر سعید کہاں گیا؟‘
’یہ ایک طویل داستان ہے۔ تنویر، خاور اور نعمانی ایک دن ٹپ ٹاپ نائٹ کلب میں بیٹھے پی رہے تھے کہ چھاپہ پڑا اور پولیس نے انہیں حدود آرڈیننس کے تحت اندر کر دیا۔ اب وہ بیس بیس سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ پولیس نے ان پر منشیات کا بڑا پکا کیس ڈال دیا تھا۔ کیونکہ وہ بطور سیکرٹ ایجنٹ اپنی شناخت نہیں کرا سکتے ہیں اس لئے سیکرٹ سروس بھی ان کی مدد کرنے سے قاصر رہی ہے‘۔
’صفدر سعید کا کیا ہوا؟‘ ہم نے پوچھا۔
’آپ جانتے ہی ہیں کہ صفدر سعید ہمارا سب سے زیادہ قابل ایجنٹ تھا۔ اس نے ایک مجاہدانہ جذبہ رکھنے والی تنظیم کے خلاف دہشت گردی کا ایک پکا کیس بنا دیا تھا۔ پھر اس کا ایسا حشر کیا گیا کہ اس نے ملک چھوڑ کر اقوام متحدہ میں نوکری کر لی ہے اور اب وہ صومالیہ میں خدمات سرانجام دے رہا ہے‘۔ ایکسٹو نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا۔
’جولیانا فٹز واٹر؟‘ ہم نے دریافت کیا۔
’جولیا کے پیچھے چند محب وطن تنظیمیں پڑ گئی تھیں۔ کچھ اس کی سفید چمڑی دیکھ کر اسے امریکی ایجنٹ قرار دے کر مارنا چاہتی تھیں اور کچھ تنظیموں کے امیر اس کی سفید چمڑی دیکھ کر اسے کلاشنکوف دکھا کر مسلمان کرنے کے خواہشمند تھے تاکہ اسے حبالۂ عقد میں لا سکیں۔ اس کی جان علی عمران نے بمشکل بچائی‘۔ ایکسٹو نے کہا۔
’علی عمران کا کیا ہوا؟ وہ تو اصلی ایکسٹو تھے‘۔ ہم نے بے قرار ہو کر پوچھا۔

\"\"

 ایکسٹو نے ایک دیوار کی طرف اشارہ کیا جس پر ایک باریش پیر صاحب اور نیلے شٹل کاک برقعے میں موجود چند خواتین کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ ’آپ جانتے ہی ہیں کہ علی عمران صاحب کی جاسوسی سرگرمیوں کا مرکز ٹپ ٹاپ نائٹ کلب تھا۔ جب نائٹ کلبوں پر پابندی لگی تو علی عمران صاحب ہوا کا رخ بھانپ گئے۔ انہوں نے ہی صفدر سعید کو اقوام متحدہ میں نوکری دلوائی اور خود ٹنڈو باگو میں خانقاہ کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ سنگ آرٹ کے ذریعے گولیوں سے بچنے کی مہارت کو کام میں لا کر اب وہ ایسا حال کھیلتے ہیں اور ایسی دھمال ڈالتے ہیں کہ اب وہ صرف ٹنڈو باگو شریف ہی نہیں، بلکہ ملک کے ممتاز پیروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے مریدوں کا حلقہ دنیا بھر میں پھِیلا ہوا ہے۔ ان کے ساتھ یہ جو خواتین شٹل کاک برقعے میں ملبوس دکھائی دے رہی ہیں، ان میں سے پہلی جولیا ہے۔ عمران صاحب نے اسے مشرف بہ اسلام کر کے نکاح کر لیا ہے اور یوں اس کی جان بچانے میں کامیاب ہوئے‘۔

’یہ دوسری کون ہے؟‘ ہم نے پوچھا۔

’ٹی تھری بی۔ تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا۔ زیرو لینڈ کی سربراہ۔ جب عمران صاحب کے لئے حالات ناسازگار ہوئے اور وہ خانقاہ کھول کر پیری مریدی کرنے لگے تو یہ ان کے پاس آئی۔ کہنے لگی کہ زیرو لینڈ کی سربراہی قبول کرو۔ عمران صاحب نے پوچھا کیوں؟ وہ کہنے لگی کہ ہم سائنس میں دنیا بھر سے آگے ہیں۔ اس نے اپنا بغیر پروں کا گیند جیسا فے گراز اڑا کر دکھایا اور پھر ہیلوگرام کے ذریعے علی عمران سے ایسے بات کی کہ وہ نور کی پتلی کی صورت ان کے سامنے تھی مگر درحقیقت اوپر فے گراز میں بیٹھی تھی۔ عمران صاحب یہ دیکھ کر ہنسے اور اسے نیچے اتار کر اپنے پاس بلایا اور کہا کہ مادام ٹی تھری بی، تم اپنی سائنس پر اتراتی ہو، یہ ہماری روحانیت دیکھو۔ یہ کہہ کر اپنے سامنے موجود ایک مرید کو سامنے آنے کا اشارہ کیا اور اسے حکم دیا کہ اپنا ماجرا ان بی بی کو سناؤ۔ مرید کہنے لگا کہ بی بی، مجھے کینسر تشخیص ہوا تھا۔ پیر صاحب نے ایک بوتل پانی پر دم کر کے دیا اور پینے کا حکم دیا۔ ایک مہینے بعد کینسر کا نام و نشان تک نہ تھا، پیر صاحب کے ایسے لاکھوں معجزے ہم نے اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں۔

تھریسیا حیران ہو کر بولی کہ کیا صرف دم والا پانی ہی پیا تھا؟ مرید بولا کہ پیر صاحب نے حکم دیا تھا کہ شوکت خانم ہسپتال جاؤ اور وہاں اپنا علاج کرواؤ، ڈاکٹر جو بھی دوا دیں، اسے دم کیے ہوئے پانی سے ہی کھانا۔ اور کچھ وظیفے بھی بتائے کہ ہر دم ان کا ورد ضروری ہے۔ اس پانی کی برکت سے کینسر ختم ہو گیا۔ تھریسیا بولی کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ دم کیے ہوئے پانی کے باوجود کوئی مریض فوت ہو گیا ہو؟ مرید کہنے لگا کہ ہاں ایسا ہوتا ہے، کئی افراد وظیفے میں غفلت برتتے ہیں یا پانی کی بوتل کی توہین کرتے ہیں تو اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ تو ان کا نصیب ہے۔

تھریسیا نے عمران کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔ تھریسیا نے زیرو لینڈ کی سربراہی سے استعفی دے دیا اور عمران سے نکاح کر لیا۔ اب وہ ٹنڈو باگو شریف کی بڑی پیرنی کے نام سے مشہور ہے‘۔ ایکسٹو نے بتایا۔

’اوہ۔ یہ تو دلچسپ بات ہے۔ بہرحال آپ یہ بتائیں کہ یہ عاجز آپ کی کیا مدد کر سکتا ہے؟‘

’سر سلطان اس بات پر نہایت پریشان ہیں کہ اعلی تعلیم یافتہ اور ذہین افراد کیوں جوق در جوق ملک چھوڑ کر مغرب جا رہے ہیں۔ کیا یہ ایلومیناٹی کی سازش ہے؟‘ ایکسٹو نے اپنی پریشانی بیان کی۔

ہم کچھ دیر تک ایکسٹو کے نقاب میں چھپے چہرے کی طرف دیکھتے رہے، پھر اس کے قریب سر لے جا کر سرگوشی کی ’یہ واقعی ایلومیناٹی کی ایک بھیانک سازش ہے جو کہ وہ وطن عزیز کے خلاف کر رہے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے آپ نے صحیح شخص کو بطور کنسلٹنٹ بلایا ہے۔ میں آپ کی خاطر بقیہ تمام زندگی مغربی ممالک میں بسر کر کے ایلومیناٹی کی سازش ناکام بنانے اور ان افراد کو واپس لانے کے لئے تیار ہوں۔ گو کہ اس کام میں جان کا خطرہ ہے، مگر وطن کی خاطر یہ بھی قبول ہے۔ سال کا پانچ ملین ڈالر تو ہمیں سفر اور رہائش کا خرچہ پورا کرنے کے لئے خفیہ فنڈ سے چاہیے ہو گا، باقی جن افراد کو خریدنا پڑا اور ایجنٹ بنانا پڑا، ان کا فنڈ تو ظاہر ہے کہ علیحدہ ہو گا‘۔

ایکسٹو اپنی کرسی سے اٹھا اور ہمارے پاس آ کر بے ساختہ ہمیں گلے سے لگا لیا۔ محکمہ خارجہ کی سیکرٹ سروس ہمارے طفیل ایک بڑی پریشانی سے نکل آئی تھی۔ ہم سائیکو مینشن کی پرشکوہ عمارت سے نکل کر واپس اپنے فلیٹ میں آئے اور سامان باندھنے لگے تاکہ مغرب میں سیٹل ہو کر ایلومیناٹی کی سازش ناکام بنا سکیں۔

پاکستان کے خلاف ایلومیناٹی کی بھیانک عالمی سازش کا انکشاف

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar