ٹرمپ کی مسلمان دشمنی کی مزاحمت


\"\" نیویارک کی ایک عدالت نے قانونی ویزا کے حامل افراد کو امریکہ سے ڈی پورٹ کرنے کے حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ اس طرح ملک کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی صدارت کے آغاز میں ہی عدالتی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فیڈرل جج کا یہ فیصلہ ملک میں شہری آزادیوں کی تنظیم اے سی ایل یو نیشنل کی جانب سے دائر کی گئی ایک درخواست پر سامنے آیا ہے۔ اس درخواست میں سات مسلمان آبادی والے ملکوں کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ فوری طور پرروک دیا گیا تھا۔ اس طرح جو لوگ اس حکم نامہ پر دستخط ہونے کے بعد کسی امریکی ایئرپورٹ پر پہنچے تھے، حکام نے انہیں حراست میں لے کر انہیں واپس روانہ کرنے کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ ان لوگوں میں ایسے امریکی رہائشی بھی شامل تھے جن کے پاس گرین کارڈز ہیں لیکن پابندی شدہ ملکوں سے تعلق کی وجہ سے ان کے ملک میں داخلہ پر 120 دن کی پابندی لگا دی گئی ہے۔

اگرچہ امریکی حکومت کو ناقص صدارتی حکم نامہ کی وجہ سے عدالتی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ نے عدالت کا حکم ماننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے باوجود صدر کے حکم پر عمل کیا جائے گا۔ قانونی ماہرین نشاندہی کررہے ہیں کہ عدالت نے قانونی دستاویزات کے ساتھ امریکہ پہنچنے والے لوگوں کو واپس نہ بھیجنے کا حکم دیا ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ انہیں ملک میں آنے کی اجازت ہے۔ اس طرح امریکی حکام ان لوگوں کی پڑتال کرکے یہ فیصلہ کریں گے کہ کون لوگ امریکی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں ہیں تاکہ انہیں ملک میں آنے کی اجازت دی جائے۔ باقی لوگ مسلسل حراست میں رہیں گے۔ اس مقدمہ کی اگلی سماعت 10 فروری کو ہوگی ۔ تب یہ دیکھا جا سکے گا کہ یہ عدالت کیا سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کے صدارتی حکم کے آئینی پہلو کا جائزہ لے گی یا نہیں۔

اس دوران نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ کے علاوہ دیگر شہروں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہا پسندانہ احکامات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اتوار کے روز ان مظاہروں میں شدت آنے کا امکان ہے۔ یورپ کے بیشتر ملکوں کے علاوہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی صدر کے فیصلہ کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ ’کینیڈا پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہتا ہے ‘۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے جو جمعہ کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد لندن واپس پہنچی ہیں، نے ایک بیان میں امریکی صدر کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امیگریشن کے بارے میں فیصلہ کرنا امریکی حکام کا کام ہے لیکن یہ صدارتی حکم قابل قبول نہیں ہے۔ اگر اس کے نتیجے میں برطانوی شہری متاثر ہوئے تو وہ امریکہ کے صدر سے اپیل کریں گی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے حکم نامہ میں سات مسلمان ملکوں ، ایران عراق، شام، یمن ، صومالیہ ، لیبیا اور سوڈان کے باشندوں پر امریکہ میں داخلہ پر چار ماہ کی پابندی لگاتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ان ملکوں کے باشندے کسی دوسرے ملک کے شہری بھی ہیں اور ان ملکوں کے پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں، تب بھی انہیں امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس طرح یورپ کے بیشتر ملکوں کی شہریت رکھنے والے ایسے شہری متاثر ہو سکتے ہیں، جو کبھی ان سات ملکوں سے ہجرت کرکے آئے تھے۔

تھریسا مے کے مخالفین ان پر امریکہ کے ساتھ غیر ضروری مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ کو وہائٹ ہاؤس میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں خوش گوار باتیں کی تھیں اور مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا تھا کہ وہ پوری طرح نیٹو کے حامی ہیں اور اسے کمزور کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اسی طرح انہوں نے روس پر سے پابندیاں اٹھانے کے معاملہ میں بھی کہا تھا کہ ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا بہت جلدی ہو گا۔ تاہم اسی شام پینٹا گان کا دورہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ داخلہ پر فوری پابندی کا متنازعہ حکم نامہ جاری کیا تھا۔ اس طرح انہوں نے واضح پیغام دیا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک سے معقول رویہ اختیار کرنے کا مشورہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

امریکی صدر کو ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور امیگریشن کے حوالے سے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں عام طور سے ان اختیارات میں مداخلت نہیں کرتیں۔ سات مسلمان ملکوں کے باشندوں پر پابندی کے حوالے سے بھی عدالتوں کے لئے اسے مکمل طور سے مسترد کرنا آسان نہیں ہو گا اگرچہ عام طور سے اس حکم کو امریکی اقدار، روایات اور آزادی کے تصور کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں۔ اگر عدالتوں میں یہ ثابت کیا جا سکا کہ یہ صدارتی حکم سیکورٹی سے قطع نظر ایک خاص عقیدہ کے خلاف امتیازی سلوک کا سبب بنتا ہے تب ہی وہ اس کے اثرات کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ کریں گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali