محبت کا خوف


jamshe iqbalکچھ عرصہ پہلے ایسے ممالک میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اقدار کا ایک سروے (1995-2001) ہوا۔ سروے میں 70 ممالک سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ معروف محققین پپا نورس اور رائل ڈنگاہارٹ نے کیا، اس رپورٹ میں یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا کہ مسلمان ’جمہوریت‘(demos) سے نہیں بلکہ ’محبت‘ (eros) سے خوف زدہ ہیں۔

چونکہ مجازی یا ارضی محبت فرائیڈ کا میدان ہے اور فرائیڈ تحلیل نفسی کے باوا مانے جاتے ہیں ؛ اس لئے معاصر ماہرین ِ نفسیات مجازی محبت کے خوف اور دہشت گردی کے مابین رشتوں کا کھوج بھی لگا رہے ہیں۔ان ماہرین میں ڈاکٹر نینسی کوبرن بھی شامل ہیں جو مجازی محبت کے خوف کو عورت کے خلاف تشدد اور عورت کے خلاف تشدد کو انتہا پسندی کی بنیادی وجہ ثابت کرتی ہیں۔

یہ بات بہت سوں کے لئے حیران کن ہوگی کہ اس میدان میں مسلمان ماہرین نفسیات بھی کام کررہے ہیں لیکن اکثر گردن زنی کے خوف سے اپنی تحقیقات سامنے نہیں لارہے۔ اگر اس دبستان کے محققین کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں نہ صرف ویلنٹائن ڈے پر حالیہ پابندی کے پس پردہ محرک کا پتہ چلتا ہے بلکہ انتہا پسندی کے خلاف حکومت کی ’علمی ‘سطح بھی واضح ہوجاتی ہے۔

لیکن حکومت کی کیا بات کریں ۔ حکومتیں بھی اسی معاشرے کے افراد کا مجموعہ اور مقامی اجتماعی نفسیات کی عکاس ہیں جسے موجودہ شکل میں ڈھالنے کے لئے بہت محنت کی گئی ہے۔ مثال کے طور پرہمارے شعور پر مجازی محبت کا خوف سوار کرنے والے ہی اس کا ازالہ کرنے کے لئے اتنی ہی شدت سے محبت ِ ابدی کا شوق پیدا کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے کئی جماعتیں اور ان کے لاکھوں کارکن صرف ایک مقصد کے لئے سرگرمِ عمل ہیں کہ کہیں پیار نہ ہوجائے۔

نفسیات کا اصول ہے کہ جس خواہش کو دبایا جائے گا وہ اتنی ہی قوت سے سراٹھاتی ہے ۔ چھپ چھپ کے سینوں میں ایسی تصویریں بنالیتی ہے کہ ہم پہچان بھی نہیں پاتے۔ اور پھر فطرت سے سر ٹکرا کر انسان فطرت کا نہیں اپنا سر ضرور پھاڑ لیتا ہے۔

جسے دبایا جائے دباتے وقت پوری توجہ اس پر مرکوز کرنی پڑتی ہے۔ توجہ کا اصول یہ ہے کہ ہم نفرت و حقارت سے سہی جس چیز پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں ہمارے اندر وہی کچھ پیدا ہونے لگتاہے۔ہم مجازی محبت سے لڑتے ہیں تو پھر بھی ہماری توجہ اسی پر مرکوز رہتی ہے۔ توجہ کا اصول یہ بھی کہتا ہے کہ جہاں توجہ ہو آپ وہیں ہوتے ہیں۔جس پر توجہ ہو آپ ویسے ہوجاتے ہیں۔

اس لئے بھیڑیوں سے لڑنے والے بھیڑیے بن جاتے ہیں۔

ہم پر جس چیز کا خوف سوار ہوجائے ہر طرف وہی کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔بھوک کے عالم میں بازار سے گزریں تو نظر کھانے والوں پر پڑتی ہے۔ پیاس کے عالم میں گذریں تو نظر مشروبات پینے والوں پر پڑتی ہے۔ کیا سب کھا پی رہے ہیں؟ نہیں ! صرف کھانے پینے والے اس لئے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ہم نہیں ہماری خواہش دیکھتی ہے۔ بھوک دیکھتی ہے۔ پیاس دیکھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خودکشی کے محرکات پر کتابیں لکھنے والا ماہر عمرانیات خود کشی کرلیتا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں مجازی محبت کے خوف کا کابوس جس زور سے ہم پر سوار ہے جنسی جرائم میں اضافہ بھی اسی شدت سے ہورہا ہے۔ دفتر وں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے۔

کارل یونگ کا تشخص (persona) اور عکس (reflection) کا نظریہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ’ہم اپنے آپ کو پھیلا کر دیکھتے ہیں ‘۔ اسے کبیر ’اپنو آپ ہی بسرو‘ جیسے شہرہ آفاق مصرعے میں بیان کرتے ہیں۔ اس نظریے اور کبیر کی دانش کی روشنی میں ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ کچھ لوگوں کو ہر طرف بے حیائی کا راج کیوں دکھائی دیتا ہے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کستوری ہرن کو خوشبو اپنے نافے سے آتی ہے لیکن وہ اسے تلاش باہر کرتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments