میں جماعت اسلامی کا ادنیٰ کارکن ڈونلڈ ٹرمپ ہوں


\"\"جماعت اسلامی پاکستان اندر ہی اندر خوشی کے شادیانے بجا رہی ہو گی۔ آج امریکہ میں ان کی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک کٹر مذہبی اور قدامت پسند شخص ہوں اور امریکہ کا صدر بن گیا ہوں۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نے ایران، سعودی عرب اور جماعت اسلامی پاکستان کے نظریات اور ان کی کامیابیوں سے بہت سیکھا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی مجھے ان کی رہنمائی میسر رہے گی اور میں امریکہ کو ایران، سعودی عرب اور پاکستان جیسا ملک بنا سکوں گا۔

جیسا کہ بتایا ہے، میں ایک مذہبی آدمی ہوں۔ ایک مذہبی آدمی کے طور پر میں سابق ایرانی صدر احمدی نجاد، موجودہ انڈین وزیراعظم مودی، ترکی کے صدر جناب طیب اردوان اور سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب مولانا منورحسن صاحب سے متاثر ہوں۔ آپ کی حیرانگی کو دور کرنے کی خاطر میں آپ کو اپنے ان نظریات اور ارادوں سے آگاہ کرتا ہوں جو میں نے جماعت اسلامی پاکستان سے متاثر ہو کر اپنائے ہیں۔ آپ کو یہ بھی صاف نظر آئے گا کہ جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں ایران اور سعودی عرب شاندار کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

میں سیکولر یا لبرل لوگوں اور ان کے نظریات کا سخت مخالف ہوں اور انہیں دنیا اور امریکہ کے لئے خطرہ سمجھتا ہوں۔ میرا بس چلے تو میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا نام و نشان تک مٹا کر اس دنیا کو جنت بنا ڈالوں۔

میں اتنا نیک ہوں کہ میں نے شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا اور عورت کو کبھی بھی برابر کا انسان نہیں سمجھا۔ میں ان دونوں چیزوں کو فتنہ سمجھتا ہوں اور ان پر سخت کنٹرول کا قائل ہوں۔ ان نیک کاموں میں بہترین رہنمائی آپ کو ایران، سعودی عرب اور جماعت اسلامی کے علاوہ بھلا کہاں مل سکتی ہے۔ آپ کی مزید معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ مودی، ہٹلر اور ملا عمر بھی شراب سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اس قسم کے باقی مشہور اور نیک لوگوں کے متعلق جاننا چاہتے ہیں تو ایاز امیر صاحب کا کالم Dry Democracy پڑھیں۔

میں جرم کے ساتھ ساتھ مجرموں سے بھی نفرت کرتا ہوں۔ مجھے بہت اچھی طرح علم ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ مختلف الزامات میں پکڑے جانے والے لوگوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو جائز اور بہت مفید سمجھتا ہوں۔ یہاں بھی جماعت اسلامی پاکستان میری رہنمائی کرتی ہے۔ جماعت اسلامی نے طالبان کی طرف سے عورتوں، بچوں، اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ طالبان نے جسمانی تشدد کی زبردست مثالیں قائم کیں اور جماعت اسلامی نہ صرف ان کی بھرپور حمایت کرتی ہے بلکہ ساری دنیا میں ان کا ہی غلبہ چاہتی ہے۔ میں ان کی اس سپرٹ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

بالغوں کی بات تو چلو الگ رہی، جماعت اسلامی پاکستان تو بچوں کے خلاف بھی تشدد کی حمایت میں کمال رکھتی ہے۔ وہ پاکستان میں بننے والے کسی بھی ایسے قانون کی مخالفت کرتی ہے جو بچوں کے خلاف تشدد کو روکتا ہو۔ میں خواہش کے باوجود امریکہ میں یہ معراج حاصل نہیں کر سکوں گا۔

میں اقوام متحدہ والوں کو یہودیوں کے ایک سازشی ٹولے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ مجھے فخر ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان اس سلسلے میں مجھ سے کئی قدم آگے ہے۔

سارے انسان برابر تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ عورت کیسے مرد کے برابر ہو سکتی ہے وہ تو ماتحت پیدا کی گئی ہے۔ آپ خود سوچیں یہ بات مجھے کس کے نزدیک لے کر جاتی ہے۔

جو سچے مذہب پر عمل کرتے ہیں انہیں دوسروں پر فوقیت حاصل ہے۔ جھوٹے مذاہب پر عمل کرنے والے سچے مذہب والوں کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں۔ یہ فرق تو قدرت کی طرف سے ہے۔ اپنے ان نظریات پر عمل پیرا ہونے کے لئے بہترین مثالیں تو مجھے ایران، سعودی عرب اور جماعت اسلامی پاکستان سے ہی ملتی ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ امریکہ میں مسلمانوں کی الگ رجسٹریشن کی جائے تاکہ ان کو کسی بھی وقت شناخت کیا جا سکے۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو ہر جگہ شناخت کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کا مذہب ان کے پاسپورٹ پر لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے اقلیتی مذاہب کے لوگوں کو جماعت اسلامی کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر رجسٹریشن کے قانون میں تبدیلی کی سخت اور کامیاب مخالفت کرتے ہیں۔

میں فیملی پلاننگ اور اسقاط حمل کا سخت مخالف ہوں۔ اگلا فقرہ پڑھنے سے پہلے آپ کو پتا لگ گیا ہو گا کہ اس شعبے میں کامیابی کے لئے مجھے رہنمائی کہاں سے مل سکتی ہے۔

میں ان سائنس دانوں کے نظریات پر بھی یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے مذہب کے خلاف نظریہ ارتقا وغیرہ کا شوشہ چھوڑا ہوا ہے۔ میرا بس چلے تو میں سکولوں کے سلیبس سے سائنس کو خارج کر دوں۔ اس سلسلے میں بھی میں جنرل ضیاالحق کے زیر سایہ جماعت اسلامی کی کامیابیاں بے مثال ہیں۔ پاکستانی سکولوں کا سائنس کا سلیبس بچوں کے ذہن کو بالکل خراب نہیں کرتا۔

میں اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دشمنی کا قائل ہوں۔ میکسیکو کے ساتھ دو ہزار میل لمبے بارڈر پر تیس فٹ اونچی مضبوط دیوار بنانا چاہتا ہوں۔ کینیڈا کے ساتھ بھی امریکہ کی دوستی مجھے کچھ زیادہ اچھی نہیں لگتی۔ ہمسایہ ملکوں سے دشمنی کے متعلق جماعت اسلامی کی پالیسی قابل تقلید ہے۔ انڈیا کے ساتھ امن کی معمولی سی کوشش کو جیسے وہ غداری قرار دیتے ہیں وہی طاقت اور زور بیان میں بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

میں جماعت اسلامی کی اعلیٰ ظرفی پر خوش ہوں کہ انہوں نے میرے نظریات اور پالیسیوں کا کریڈٹ لینے کی بالکل کوشش نہیں کی۔ میں بھی اسی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں ایران اور سعودی عرب کی کامیابیوں سے متاثر ہوں اور اپنے آپ کو جماعت اسلامی پاکستان کا ادنیٰ کارکن ہی تصور کرتا ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 126 posts and counting.See all posts by salim-malik

2 thoughts on “میں جماعت اسلامی کا ادنیٰ کارکن ڈونلڈ ٹرمپ ہوں

  • 01-02-2017 at 2:46 am
    Permalink

    Boht umda, raqim nay Islam say apnay bughaz ko jamate Islamic ko istimal kartey huey shakhsi aazadi ka raaj qaim kia he

  • 01-02-2017 at 9:11 am
    Permalink

    جماعت اسلامی کچھ لوگوں کے دماغ پر ایسے سوار رہتی ہے کہ وہ کسی بھی موضوع میں اسے گھسیٹ کر کچھ بھی لکھ ڈالیں گے۔ کسی بات کو کوئی سر نہ پیر ہو گا۔ لیکن اچھا ہے، وجاہت مسعود صاحب جیسوں کی وجہ سے لوگ یہاں آتے ہیں تو ان کا اثر زائل کرنے والے بھی کچھ ہونے چاہیئں۔ 🙂

Comments are closed.