ڈیجیٹل تعزیت 2016ئ…. جدید فرضِ کفایہ


razi uddin razi

زمانہ قیامت کی چال تو بہت پہلے چل گیا تھا لیکن اب شاید معاملات اس سے بھی آگے جا رہے ہیں ۔ میڈیا سے سوشل میڈیا تک افراتفری کے بے شمار ساما ن ہمارے گرد و پیش میں موجود ہیں ۔ چند برس قبل محبتیں ڈیجیٹل ہوئیں تو ہم نے دبے لفظوں میں احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ یارو کیا یہ ضروری ہے کہ ہم محبت جیسے حقیقی جذبے کو بھی جذبات سے عاری کر دیں ؟ لیکن ہمیں اس سوال کا جواب نہ مل سکا ۔ سوال کا جواب تو کیا ملتا کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ استاد اور والدین کا احترام بھی تصنع کی نذر ہو گیا ہے ۔ ایک دن ماﺅ ں کے لئے اور دوسرا اساتذہ کے احترام کے لئے مختص کر دیا گیا ۔ لو جی محبت کے بعد احترام بھی ڈیجیٹل ہو گیا ۔ ہم نے صبر کا گھونٹ پیا اور خاموش ہو گئے ۔پھر امن، محبت ، رواداری، مذہب، سیاست ، تصوف غرض یہ کہ سب کچھ ہی مصنوعی اور بناوٹی ہو گیا ۔

دہشت گردوں نے امن کانفرنسوں کا اہتمام کیا اور قاتلوں نے دہلیز پر انصاف کی فراہمی کا بیڑہ اٹھا لیا۔ کہیں سے حکم ملا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے صوفی ازم کو فروغ دینا چاہئے ۔بس پھر کیا تھا ممی ڈیڈی لڑکوں نے چولے پہن کر سر وں پر پھندنے والی ٹوپیاں دھریں اور دھمال ڈالنے لگے ۔ کچھ جعلی صوفی پبلشر حضرات نے آرڈر پر تیار کر دئے ۔ کبھی کسی نے کہا تھا کہ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے…. جس زمانے میں یہ کہا گیا ہو گا ممکن ہے اس دور میں ایسا ہوتا بھی ہو لیکن اب تو بناوٹ کے اصول ہی سکہ رائج الوقت قرار پائے ہیں اور کاغذ کے پھولوں سے خوشبو بھی آنے لگی ہے ۔ سب کچھ ڈیجیٹل ہو گیا لیکن ہمارا خیال تھا کہ موت اور دکھ ابھی ڈیجیٹل نہیں ہوئے ۔

تاہم گزشتہ چند روز کے دوران شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ خوشی کے ساتھ ساتھ اب دکھ بھی ڈیجیٹل ہو گئے ہیں ۔ تعزیت پہلے گھروں میں جا کر یا جنازوں میں شریک ہو کر کی جاتی تھی ٹیلی فون یا خط کے ذریعے مرنے والے کے رشتہ داروں اور دوستوں کو پرسہ دیا جاتا تھا لیکن اب زمانہ ترقی کر گیا ہے ۔ فیس بک پر کسی کی موت کی خبر سامنے آتے ہی ڈیجیٹل تعزیت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ پہلے مرحلے میں احباب کی جانب سے موت کی خبر کو likeکر کے موت پرپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے پھر جذبات سے عاری جملے ’ آنسوﺅں کی طرح ‘برسنے لگتے ہیں…. اوہ…. اوہو …. اللہ صبر دے…. افسوس …. o my god یہ اور ایسے بہت سے سپاٹ جملے لواحقین کے لئے اذیت کا سامان فراہم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ RIPکی تکرار بھی جاری رہتی ہے ۔ پھر تصویروں کی بھرمار ہوتی ہے ۔ مرنے والے کے ساتھ مختلف مواقع پر بنوائی گئی تصاویر فیس بک کی’ دیوارِ گریہ‘ کو پکچر گیلری میں تبدیل کر دیتی ہیں ۔ اور ان تصاویر پر بھی…. یادگار…. واہ…. اور ما شااللہ …. جیسے لفظوں سے حملہ کر دیا جاتا ہے۔ تعزیت کرنے والے اگر جنازگاہ تک پہنچ جائیں تو پھر میت کے ساتھ سیلفی کا عمل شروع ہو تا ہے ۔ اور جو جناز گاہ تک نہیں پہنچتے وہ مرحوم کی تصاویر شیئر کرنا ہی فرض کفایہ سمجھتے ہیں ۔ آپ کی کیفیت جانے کیا ہو لیکن دکھ کے اظہار کا یہ ڈیجیٹل تماشہ ہمیں تو بہت دکھی کر رہا ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments