عشق توفیق ہے…. گناہ نہیں!


shakoor rafeyعجیب منظر ہے۔

جلال الدین اکبرخواب گاہ میں جودھا بائی سے دل زار کا کرب بیان کررہا ہے۔وہ دوراندیش ہے، سخت کوش ہے مگر آج دلارام کی خبر پر غم زدہ بھی۔ برعظیم پر مغل سلطنت کی وسعت و استحکام کے سارے خواب وہ جس شیخوکے لیے کھوجتا سوچتا رہا، وہ شہزادہ تو اسی کی ایک کنیز کے عشق میں غرق ہے۔ اکبر چلاتا ہے تو حجلہ شاہی لرز جاتا ہے

’ آہ میرے خواب میری رگوں کا لہو، میری ہڈیوں کا مغز آہ ! میرے خواب۔۔ وہ ایک عورت کے عشووں سے بھی ارزاں تھے؟‘

ملکہ یہ سیاسی خواب جانتی ہے۔وہ جلال الدین کے جلال اور حزن کو یوں مخاطب کرتی ہے:

’سلیم کی رگوں میں خون جوانی کے گیت گا رہا ہے اور جوانی کی نظر وں میں ہندوستان ایک عورت سے زیادہ قیمت نہیں رکھتا۔ انارکلی اس کی جنت ہے اور اس کے بغیر آپ کا یہ تخت جہنم ! اسے انارکلی کا ہو لینے دیجئے،پھر وہ ہمارا سلیم بھی بن جائے گا ‘

کسی دیمک زدہ لائبریری سے، یہ شاہکار ڈھونڈ کر ،محض پروفیسرانہ تمہید باندھنے کو اقتباس پیش نہیں کیا بلکہ انٹر میڈیٹ سطح کے نصاب میں ڈرامہ کا یہ رومانوی اقتباس شامل ہے۔ اگرچہ ہمارے نیک طینت اساتذہ اس ڈرامہ کے پس منظر میں اکبر کے سیکولرزم المعروف بہ ’لادینیت‘ میں کفر آمیزی اور امتیاز علی تاج کی مبالغہ آمیزی سے زہر عشق کو ٹھنڈا کرتے ہوئے یہاں تک بتا دیتے ہیں کہ مصنف انہی جھوٹے پرتصنع عقائد کی پاداش میں قتل تک کر دئیے گئے مگر کلاس روم میں اٹھارہ بیس برس کے تمام طلبہ سلیم اور انارکلی کی محبت پر یوں رشکِ سخن کرتے ہیں۔

شہنشاہ من، مہاراج من
نہ ہی تخت ، نہ ہی تاج، نہ شاہی نذر، نہ دھن
بس عشق محبت اپنا پن

واقعی۔ پیار کرنا ایک، بڑا مہذب سا کام ہے. یہ لطیف لمحے ہر ایک کو کہاں نصیب یہ محض جنسیت سے لتھڑی طوفانی گھڑیوں کا ہنگام نہیں بلکہ لذت انگیز ی سے بلند تر حضوری ساعت سعید ہے، عمل تصعید ہے بلکہ تزکیہ کا وہ عمل کشید ہے کہ جس کا حاصل کسک بھری لطافت ہے، ارفعیت ہے، اوربقول فیض زندگی کی معنویت ہے

یاس و حرماں کے، دکھ درد کے معنی سیکھے
سرد آہوں کے، رخ ِزرد کے معنی سیکھے

اور یہ سب نہیں بھی توایک سرشاریت ضرور ہے، طمانیت ضرور ہے..رومانویت ضرور ہے ! سود وزیاں کی مشینی مصروفیت سے ایک جمالیاتی سا فرار ..اک باشعور خمار! انسان کی انسان سے محبت سب سے بڑا کائناتی سچ ہے اور خالص رومانوی محبت اس آفاقی زینے کی ابتدا بھی، انتہا بھی اور اکثریت کا منتہیٰ بھی ہے!

چاہنا ، عقیدت سے چاہنا اور خودچاہے جانے کی طلب اورتڑپ رکھنا آفاقی جذبہ تو ہے ہی، اپنے ہاں اس جبلت میں جذباتیت کی آمیزش کچھ زیادہ ہے۔ مقدس مذہبی روایات سے لے کر لوک کہانیوں تک…. رسم و تہوار میں رقص و دھمال سے وجد وحال تک۔۔(مختلف اوقات و کیفیات میں ہی سہی) کسی ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا، ماضی کے واقعات و شخصیات کا مرکزی دھارا ہے۔ ٹوٹ کر محبت کرنا اور محبت کر کے اکثر ٹوٹ ٹوٹ بننا ہمارے مزاج میں، گھٹی میں شامل ہے۔مخصوص عمر میں مخصوص شدت کی اس وارفتگی سے ہماری اکثریت گزرتی ہے بلکہ تاریخ کے کتنے ہیروز اور اینٹی ہیروزہیں کہ جن کی زندگی کے اس جذباتی عہد کی کجی یا درستی نے ان کی پوری زندگی کا پانسہ پلٹ دیا۔ مذہبی روایات سے سینہ بہ سینہ چلتی اساطیر دیکھ لیجئے،یہ محبت تو جنگ میں بھی ناجائز نہیں دکھائی دیتی کہ میدان جنگ میں محبوب کے پراشتعال نغمے عاشقان جواں ہمت کو داد شجاعت دیتے ہوئے کاٹ کاٹ گراتے ہیں۔نامراد سجاح سے مرثیہ گو خنسا تک اور امراو القیس سے جناب حسان تک کی مثالیں…. آبائی روایت ہی دیکھ لیجئے کہ بیوہ اپنے پتی کے ساتھ ستی ہو رہی ہے۔ نوک سناں سسی سو رہی ہے اورکچے گھڑے پہ تیراکی ہو رہی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ خیرات، دنیا میں سب سے زیادہ بھکاری ، دنیا میں سب سے شاعر اپنے اسی خطے میں ہیں۔ یہ طنزائیہ نہیں ہے، مقفیٰ فکاہیہ بھی نہیں۔ یہ تو محبت کے اسی خام عقیدتی جذبے کا اعتراف اور نمو کی مختلف شکلوں کی جھلکیاں ہیں۔ یونانی سیفو کی ہم جنسیت نے اس خطہ کو متاثر نہ بھی کیا ہو، افلاطونی عشق نے قدرت ، فطرت اور تصوف جیسے شعبوں کو ضرورمالامال کیا۔ ہند ایرانی روایت کے امتزاج سے گندھا نسوانی و رومانوی تصوف ہو یا عرب زلیخائی چیرہ دستیوںکی مقدس داستانیں ، اظہار محبت کے کئی بیانیے بھی سامنے آتے ہیں۔ مذہب میں بھی اس جبلت کی جمالیاتی تطہیر کے کئی مہذب اشارے ملتے ہیں۔

زبان ریختہ کو لیجئے، خسروسے ولی تک اوروجہی سے میر امن تک ، داستانیں ہوں یا گیت، مشترک جذبہ یہی محبت ہے جو گاہے تصوف سے مل کر انسان دوستی کی فضا تشکیل کرتا ہے۔ بادشاہ، شہزادی یا دیو زادہ ہوں یا کوئی راہ عشق کا صوفی باصفا۔ مہذب نظام اخلاق کسی جنونیت کی اجازت نہیںدیتا ، چاہے وہ پیر رومی جیسے نابغہ کی شمس تبریزی سے کی گئیں ’گستاخیاں‘ ہی کیوں نہ ہوں کہ تعلق ’جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ کے بجائے حدیث دگراں بن جائے تورومی کے ہی ایک شاگرد اقبال بلند کے تصورمحبت کی نفی ہوتی ہے۔

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں!

اظہار محبت کی آزادی کا مطلب بوالہوسی کا وہ مشتعل ہیجان بھی نہیں ہے جو جدید ساہوکار اشتہارات میں بروئے کار لاتے ہیں۔ہم سوسائٹی میں جنسی ہوس ناکی اور اس کے بھیانک انجام کا جنگلی قانون نہیں چاہتے، بالکل ایسے، جیسے ہم ریاست کے کسی ستون اور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں جنگل کا قانون نہیں چاہتے۔ ایک روشن خیال باشعور فرد اگر معتدل نہیں ہے تو معتبر بھی نہیں ہے۔ اپنی مائیں ، بہنیں، بیویاں، محبوبائیں، بیٹیاں اور دوست سب قابل احترام ہیں۔ قوموں کی عزت ان سے ہے۔ عشق ومحبت کے آفاقی جذبوں کے اعتراف کے ساتھ اپنی مشرقی، قومی اور مقدس روایات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ ان روایات کی حد بندی میں توسیع کی کوشش اور عہدجدید سے ہم آہنگ اجتہادی رنگ ہائے رنگ کی قبولیت کی شرط کے ساتھ! اور سرمایہ دارانہ سچ تو یہ بھی ہے کہ اگر اس جذباتی رومانوی چلن (یا بد چلنی) کو روک بھی دیا جائے تو کاسمیٹک انڈسٹری، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ ، آرٹ، فیشن ،کلچر سمیت نظام معیشت کی چھت ڈھ جائے گی۔ دنیا مشین بن کے رہ جائے گی۔

سو ہنگامی سی یادداشت سے انسان کی رومانوی جبلت کی اس پس منظری جھلک ، اہمیت اور حدبندی کے بعد، اگر آج کا نوجوان محبت کادعویٰ کرتا ہے، تجربہ کرتا ہے اور عہد جدید میں مصروفیت کے رنگا ہائے رنگ میں محبت کے رنگ کا انتخاب کرتا ہے تو ہمیں اخلاقی ٹھیکیدار یا کیدو کا کردار ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ سیلاب کے آگے بند بنانے کے بجائے ڈیم بنا لیا جائے تو المیہ طربیہ بن سکتا ہے۔یہ المیہ ہی تو ہے کہ سرمایہ دارانہ ، جاگیردارنہ، قبائلی اورکہنہ خاندانی نظام کی روایات نے محبت کے عملی اظہار اور باضابطہ بندھن کو پیچیدہ تربنا دیا ہے۔بند کے بجائے ڈیم کی ایک اور مثال اورایک اور سوال یہ کہ آخرقبولیت کے ’عمومی اظہاریہ‘ جو اپنے ہاں بہ شکل شادی رائج ہے، کی تسہیل ، تشکیل اور تعمیل پر بزرگ ادارے کیو ں توجہ نہیں کرتے۔ عوامی دانش بھی تسلیم کرتی ہے کہ عہد جدید میں نکاح باری مشکل ہے ، زناکاری آسان (اس کثیف جملہ پر معذرت مگر مقبول سماجی بندھن کا متضاد،مروجہ عوامی بیانیہ ایسے ہی سمجھا برتاجاتا ہے)تومستقل بندھن کو آسان، خوشگوار، قابل قبول اورخود انتخابی عمل بنانے کے لیے سماجی اور خاندانی ادارے کیوں کام نہیں کررہے۔مقدس لٹھ سے سرخ پھولوں کو کچلنے یا چمن زاروں میں اچھل کود کردینے سے بہتر یہ نہیں کہ ان نوجوانوں کی جذباتی زندگی کی سب سے بڑی تشنگی کا احترام کیا جائے اور جس قدر ممکن ہو اسے تہذیب دینے کا کام کیا جائے۔پھر یہ بھی کہ ہماری ثقافتی پالیسی کیا ہے۔کیا ہم نے تفریح ، کلچر، موسیقی، ادب، فلم وغیرہ کو روایت و جدت کا قابل قبول امتزاج دیا ہے؟ رواج دیا ہے؟ نوجوانوں کی اس جذباتی زندگی کو لاکھوں لیپ ٹاپ مفت تقسیم کرنے سے بدلا جا سکتا ہے نہ ہی تبدیلی کے خارجی نعروں سے ہمیں عہد شباب کی داخلی کشمکش کا اعتراف کرنے بلکہ اسے مخاطب کرنے کی ضرورت ہے۔بحث تو شروع ہو، چاہے اسی سے کہ اٹھارہ برس کی عمر کے دو نوجوان اپنی متضاد صنف کے ساتھ کسی محرم کے بغیر باہر جا سکتے ہیں؟ اگر جا سکتے ہیں تو کس حد تک جا سکتے ہیں۔ عہد طفولیت میں تصور جنس کی فرائیڈی مباحث کو نظرانداز کر دیجئے مگر اس محرم رازدرون خانہ کی اس تھیوری کو تو سب مانتے ہیں کہ جنسی جذبے کو ترفع، تزکیہ اور تطہیری تشنگی کی آنچ دینے سے آرٹ جنم لیتا ہے۔ فنون لطیفہ اپنے رنگ بکھیرتے ہیں۔ نوجوانی کے بپھرے رخش بے لگام کی ٹانگیں کاٹنے سے بہتر نہیں کہ اس افادی قوت کا ادراک کیا جائے ، اعتراف کیا جائے۔ یہی گھوڑے کل بحر ظلمات میں بھی تو دوڑائے جا سکتے ہیں۔

میں استاد ہوں اوراٹھارہ بیس سال کی عمر والے نوجوانوں کے ساتھ زندگی کی دوسری دہائی گزار رہاہوں۔ سچ یہ ہے کہ نصاب میں شامل’اصلاحی اور محتاط‘ غزلیات میں سے بھی حقیقی اور تصوفی مفاہیم کھینچ کھینچ نکالنے کی نظریاتی کوشش ناکام ہوتی ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ جب اس کے لب کی نازکی پنکھڑی اک گلاب جیسی ہے توکیا اسے دیکھا جا سکتا ہے ؟چھوا جا سکتا ہے؟ اب انہیں کیسے پرے پرے رکھا جائے کہ

گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگ گل سے میر
بلبل پکاری دیکھ کے صاحب پرے پرے

سو ان تمتماتے لالہ زاروں کے آتش دہن پھولوں کو کتابوں میں پھول رکھنے دیجئے کہ یہ پھول ہی رکھتے ہیں ، بم نہیں۔ ان کی نسبت حسین استعاروں سے ہے، پیا کی بولی سے ہے، بہت ہوا تو جھولی سے ہے، گولی سے نہیں! ان کا معاملہ زندہ رود سے ہے ، ہست و بود سے ہے،بم بارود سے نہیں!

ہرانسان منفرد ہے، مختلف ہے اور پیچیدہ بھی۔ ایک ساتھ جیون گزارنے والوں کو اک دوجے کو سمجھنا، سمجھانا ضروری ہے، جاننا،پہچاننا ضروری ہے۔ وسط فروری میں جب پھول کھلتے ہیں ، انہیں بھی کھلنے دیجئے ، ملنے دیجئے۔ اوراگر سماج، ریاست یا خاندان کے ادارے ابھی اس سطح پر نہیں آنا چاہتے تو کم از کم محبت کے جذبے کو محض جسمانی لذت، عیاشی، آلودگی، کے جرم خانوں میں مقید نہ کیجئے۔ انتہائی تیز صنعتی اور مشینی عہد نے نوجوان کو جذباتی کاندھوں سے دور کر دیا ہے۔ عملی زندگی کی دوڑ میںہانپتی نا آسودگیاںمادی میراتھن میں اکیلے بھاگتے ہوئے تھک جاتی ہیں تو کاندھے اور دامن تلاشتی ہیں اور تراشتی ہیں۔

عرض یہ ہے کہ پیار کرنا ایک بڑا مہذب سا کام ہے. یہ لطیف لمحے ہر ایک کو کہاں نصیب یہ محض جنسیت سے لتھڑی ہنگامی گھڑیوں کا طوفان نہیں بلکہ لذت انگیز ی سے بلند تر حضوری ساعت سعید ہے، تزکیہ کا وہ عمل کشید ہے کہ جس کا حاصل کسک بھری لطافت ہے،ارفعیت ہے، زندگی کی معنویت ہے اور یہ سب نہیں بھی توایک سرشاریت ضرور ہے، طمانیت ضرور ہے..رومانویت ضرور ہے ! سود وزیاں کی مشینی مصروفیت سے ایک جمالیاتی سا فرار .اے دل بے قرار!

یہ ظالم سامراجی دوراپنے آئی ٹی کسٹمرز اور کنزیومرز کو اکیلے بٹھا کر ایک رنگین یوٹوپیا میںخودپرست بنانے کا عہد ستم گر ہے۔ جذباتی ویرانہ کے اس طلسم کدہ حشر میں اتنی چکاچوند ہے کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس نفسانفسی کے پھیلتے اندھیرے میں کسی یاد کا جگنو اور کسی سایہ کی لرزش نعمت سے کم نہیں۔ ایسے عہد میں لفظ، خوشبو، سوچ، پرندوں ، پھولوں کے ساتھ ساتھ اپنے جیسے انسانوںسے پیار کا اظہار کر لینا گناہ نہیں، توفیق ہے۔

اسے گناہ بنا دیا گیا تو جبر پرجل جل کرانجم نما بن جانے والی، نسرین انجم بھٹی کے نوحے یوں ہی بھٹکتے رہیں گے:

پھر یوں ہوا کہ سرخ گلاب چومنے کے جرم میں
سیاہ ہونٹ جلا دیے گئے اور زخم زبانیں قلم کر دی گئیں
اس سے یہ تو نہ ہوا کہ گلاب اگنا بند ہو جاتے
اتنا ضرور ہوا کہ لب چومنے کی رسم ختم ہو گئی
دھڑکتی ہوا کا والہانہ پن صرف یادداشتوں میں باقی رہ گیا
آنے والی نسل کے بچے
گلاب کے پھول کو اس کی گرم خوشبو سے نہیں
اس کے تیز کانٹوں سے پہچانیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “عشق توفیق ہے…. گناہ نہیں!

  • 12-02-2016 at 6:11 pm
    Permalink

    سو ان تمتماتے لالہ زاروں کے آتش دہن پھولوں کو کتابوں میں پھول رکھنے دیجئے کہ یہ پھول ہی رکھتے ہیں ، بم نہیں۔ ان کی نسبت حسین استعاروں سے ہے، پیا کی بولی سے ہے، بہت ہوا تو جھولی سے ہے، گولی سے نہیں! ان کا معاملہ زندہ رود سے ہے ، ہست و بود سے ہے،بم بارود سے نہیں!
    واہ

Comments are closed.