جمہوریت کی کٹی اور حسن نثار کا کٹا!


\"\"

سرِ شام ٹی وی چینلز کی زینت بننے والے بیشتر تجزیہ نگار اور اخبارات میں بذریعہ قلم عوام کے شعور میں اضافہ کرنے والے دانشور حضرات پوری تن دہی اور بے خوفی کے ساتھ سیاست دانوں اور جمہوری نظام کا کچا چٹھا بیان کرتے ہیں اور عوام کو یہ باور کرانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے کہ اس ملک کی موجودہ صورتحال اور تمام خرابیوں کی جڑ ملک پر مسلط یہ چند افراد ہیں جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

اس بیانیے پر رائے عامہ ہموار کرنے میں ہمارے بہت ہی محترم اور سینئر صحافی، کالم نگار اور دانشور جناب حسن نثار بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف ایسے بے باک اور تلخ لہجے میں سیاستدانوں کو لتاڑتے ہیں کہ ان کو سننے اور پڑھنے والے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ محترم حسن نثار کچھ اس طرح کے جملوں سے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں:

\”یہ سیاستدان چور، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا جتھا ہیں۔ یہ ایک مافیا ہے جو اس ملک کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ یہ جعلی اور دو نمبر جمہوریت آمریت کے مقابلے میں کہیں زیادہ بدتر ہے۔ اس ملک کا مسئلہ معاشیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے۔ یہ سیاستدان ہیں ہی نہیں۔ سیاسی قیادت ہر قسم کی اخلاقیات سے محروم ہے، نااہل ہے اور بددیانت ہے۔ ملک کی بدحالی کے ذمہ دار یہی دو نمبر سیاستدانوں کا ٹولہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔\”

ملک کے موجودہ تمام مسائل کا حل وہ (عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے) کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

\”ان سب کو چوکوں اور چوراہوں پر لٹکا دینا چاہیے، ان کا کڑا احتساب ہونا چاہیے،ان کو جیلوں میں ڈال دینا چاہیےاور ان سے ملک کا لوٹا ہوا مال واپس لینا چاہیے۔ اب بہت ہو چکا، جو کٹا کٹی نکالنا ہے اب نکالنا ہو گا\”

تو آئیے حضرات یہ کٹا کٹی نکالنے کی آج ہم اپنی سی ایک کوشش کرتے ہیں۔

سیاستدانوں کے متعلق یہ میڈیائی دانشور جس قسم کے تجزئیے فرماتے ہیں اور جس لب و لہجے میں انہیں کرپٹ اور نااہل قرار دیتے ہیں اور پھر ان سے نجات کے لیے جس طرح کے حل تجویز کرتے ہیں، یہ اندازِ گفتگو تھڑوں پر بیٹھنے والے (اس سے یہ مراد نہ لیا جائے کہ تھڑوں پر بیٹھنے والے تمام افراد ہی معمولی سمجھ بوجھ کے مالک ہوتے ہیں) معمولی سمجھ بوجھ کے حامل عام لوگ تو اختیار کر سکتے ہیں جو یقینا بہت سے حقائق سے بالکل لاعلم ہوتے ہیں اور مختلف معاملات پر ان کی رائے میڈیا پر ہونے والے تبصروں اور تجزئیوں کی ہی محتاج ہوتی ہے لیکن اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھنے والے یہ میڈیائی دانشور جو حقائق سے بہت حد تک باخبر ہیں اور گذشتہ ستر برس کے دوران پاکستان کی تاریخ میں رونما ہونے والے اہم واقعات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ اس طرح کی یکطرفہ منظر کشی کر کے کہیں دانشوارانہ بددیانتی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے۔

\"\"

اس ملک کو انتہاپسندی، جہالت اور غربت کی جانب دھکیلنے میں کچھ  اور عناصر نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے لیکن نہ جانے کیوں ہمارے یہ نہ جھکنے والے نہ بکنے والے سچے اور کھرے صحافی اس ضمن میں چپ کیوں سادھے رکھتے ہیں۔ گذشتہ ستر برسوں کے دوران ہونے والے اہم فیصلوں اور ان کے باعث ملک کو بہنچنے والے ناقابل تلافی نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے ہم نے چند سوالات مرتب کئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سوالنامے کے جوابات ضرور واضح کریں گے کہ اس ملک کی تباہ حالی میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کا کتنا حصہ رہا ہے۔

س: پاکستان کی خارجہ پالیسی وضع کا کرنے کا اختیار کب کب مکمل طور پر جمہوری قیادت کے ہاتھ میں رہا ہے اور خارجہ پالیسی کے پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

س:انیس سو چون میں امریکا نے پاکستان کو سیٹو میں شمولیت پر قائل کرنے کے لیے منیلا کانفرنس میں مدعو کیا تو وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے واضح کیا کہ اس کانفرنس میں شرکت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو گا کہ پاکستان سیٹو کا حصہ بھی بنے گا۔ وہ کون سا دباؤ تھا جس کے تحت وزیر خارجہ ظفراللہ خان نے وزیراعظم اور کابینہ سے پوچھے بغیر ہی سیٹو معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ روز بروز تیزی سے طاقتور کیوں ہوتی گئی، سیٹو کا حصہ بننے سے پاکستان کو کیا فوائد اور کیا نقصانات پہنچے؟

س: امریکا کے جاسوسی طیارے یو ٹو نے پاکستانی سرزمین سے روس میں داخلے کے لیے اڑان کون سے سیاسی حکمران کے حکم سے بھری اور اس کا پاکستان کو پینسٹھ اور اکتہر کی جنگ میں کیا خمیازہ بھگتنا پڑا؟

س: ایبڈو کے ذریعے مشرقی پاکستان کے ستر سے زائد سیاسی رہنماؤں کو سیاسی عمل سے باہر کس نے نکالا، اس سے ملک کو کیا فائدہ پہنچا، نیز ایبڈو کی چھلنی سے چھن کر نکلنے والی پاک صاف اور دیانت دار سیاسی قیادت آج کل کون سی ریاست میں خدمات سر انجام دے رہی ہے؟

س: آپریشن جبرالٹر کون سی جمہوری قوتوں کا منصوبہ تھا اور اس کے نتیجے میں مسلط ہونے والی جنگ سے ملک کو کیا فوائد حاصل ہوئے؟

س:ایوب خان کے دور میں برپا ہونے والے معاشی اور صنعتی انقلاب کے قیصیدے آج بھی گائے جاتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ اس دور میں طبقات کے درمیان معاشی تفریق اس نہج پر پہنچ گئی کہ صعنتی اور بینکوں کا زیادہ تر سرمایہ ملک کے بیس خاندانوں کی ملکیت بن گیا جس پر حبیب جالب نے کچھ یوں صدائے احتجاج بلند کی “بیس گھرانے ہیں آباد، اور کروڑوں ہیں ناشاد، صدر ایوب زندہ باد\”

س: پاکستان کے وزیراعظم  رہنے والے حسین شہید سہروردی کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر کس نے گرفتار کیا؟

س: عدالتوں کو نظریہ ضرورت ایجاد کرنے کے لیے کس نے مجبور کیا اور دباؤ کے ذریعے من مرضی کے ماورائے آئین فیصلے کروانے کی روایت اس ملک میں کس نے ڈالی؟

س: مشرقی پاکستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال سے حل کرنے کا فیصلہ کون سی جمہوری قیادت نے کیا تھا؟

س: آپریشن فئیر پلے اصل میں کس کا منصوبہ تھا جسے جنرل ضیاء الحق کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا؟

س: افغانستان سے پاکستان میں منشیات کب آنے لگیں اور ان سے حاصل شدہ کمائی کہاں استعمال کی گئی؟

س: افغانستان میں امریکا کی پراکسی وار کو جہاد کا نام دے کر لاکھوں پاکستانی نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کون سے سیاسی رہنماؤں نے کیا؟

س: ملک میں فرقہ واریت اور (کراچی میں) لسانیت کی بنیاد پر متشدد اور مسلح جتھے کس نے تشکیل دیئے اور اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے؟

س: مقبوضہ کشمیر میں لڑنے کے لیے جہادی تنظیمیں کس نے بنائی اور ان تنظیموں کی کارروائیوں سے کشمیر کاز اور پاکستان کو کیا فائدہ پہنچا؟

س: نااہل اور تاجر پیشہ افراد کو اپنی حمایت کے بل بوتے پر سیاست میں کون لے کر آیا اور ان عناصر کو جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشوں کے لیے کس نے استعمال کیا؟

س:انتخابات میں پیسے کے بے دریغ استعمال اور بلیک میلنگ کے ذریعے سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی روایت کس نے ڈالی؟

جمہوری عمل کے نتیجے میں منتخب ہونے والے عوامی رہنماؤں کو سیکیورٹی رسک کس نے قرار دیا؟

س: کیا ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا شمار نااہل سیاست دانوں میں کیا جا سکتا ہے، ان کو راستے سے کس نے ہٹایا اور کیوں ہٹایا؟

س: جب نواز شریف اور واجپائی لاہور ڈیکلریشن پر دستخط کر رہے تھے اس وقت کارگل کی مہم کا آغاز کس کے حکم سے ہوا اور اس سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوئے؟

س:نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا کا اتحادی بن کر دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متعلق دوغلی پالیسی کون سی جمہوری قیادت نے ترتیب دی تھی؟

س: پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں بجلی کے کتنے پاور پلانٹس لگائے؟

س: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اسلام آباد کی سڑکوں پر کس کے حکم سے گھسیٹا گیا؟

س: عدالتوں اور حکومت پر دباؤ ڈال کر پرویز مشرف کو بیرون ملک کس نے بھجوایا؟

س: بلوچستان میں لوگوں کے لاپتہ ہونے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا ذمہ دار کون ہے،اس کے باوجود وہاں را کا نیٹ ورک کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں کیسے کر گذرتا ہے؟

ان سوالات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ملک کی تمام خرابیوں کی مکمل ذمہ داری کسی ایک گروہ، ایک طبقے یا کسی ایک ادارے پر ڈال کر باقی سب کو بری الذمہ قرار دینا چاہتے ہیں۔ تاہم ان سوالات کے جوابات سے یہ بات ضرور واضح ہو جائے گی کہ ملک کی موجودہ حالت میں کون سی قوتوں کا کتنا کردار رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ان سوالات کی روشنی میں کسی نہ کسی حد تک کٹا اور کٹی نکالنے میں کامیاب ضرور ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مدثر محمود نارو کی دیگر تحریریں
مدثر محمود نارو کی دیگر تحریریں

One thought on “جمہوریت کی کٹی اور حسن نثار کا کٹا!

  • 31-01-2017 at 9:11 am
    Permalink

    Good Analysis!

Comments are closed.