احتجاج کی سیاست


shanila

پاکستانی قوم کی یہ اب عادت بنتی جا رہی ہے کہ وہ کسی بھی منصوبے پر تنقید پہلے کرتی ہے اور اس کے ثمرات سے بعد میں آگاہ ہوتی ہے۔ نوے کی دہائی میں جب موٹر وے کا آغاز ہوا تو ایک تنقید کا نہ تھمنے والا طوفان تھا جو شروع ہوگیا لیکن آج اسی موٹر وے پر روزانہ ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں۔ وہ سفر جو پہلے ایک بڑ ا اکتا دینے والا جاں گسل مرحلہ محسوس ہوتا تھا موٹر وے کی بدولت سہل ہوگیا ہے۔ وہی پشاور ہے کہ جب وہاں سے سفر کا آغاز ہوتا تھا تو راستے میں جگہ جگہ چیکنگ کے مرحلے سے گزرنے اور بارہ گھنٹے کے ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد لاہور میں داخل ہوتے تھے تو بے زاری روں روں سے عیاں ہوتی تھی۔ آج موٹروے کی بدولت چھ گھنٹے میں ہشاش بشاش لاہور پہنچ جاتے ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد آپ ایک دن میں اپنا کام نپٹا کر واپس بھی آجاتے ہیں۔ اگر یہ موٹر وے نہ ہوتی تو آپ جی ٹی روڈ کے اوپر بس میں ہچکولے کھاتے ہوئے لاہور پہنچتے تو اندر کا کوئی حصہ اپنی جگہ پر نہ ہوتا۔ اور اب لاہور سے کراچی تک بننے والی موٹر وے کتنی آسانی پیدا کرے گی یہ کوئی اس سے پوچھے جو ہوائی سفر کے اخراجات برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے برسوں اپنے پیاروں سے نہیں مل پاتا۔

یہی کچھ ہم لوگوں نے میٹرو کے ساتھ بھی کیا۔ لاہور میٹرو کے بننے پر کیا کیا تما شے نہ ہوئے ،کو ن کون سے القابات ہم نے نہیں سنے ۔ ایسا کون سا الزام تھا جو اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والوں پر نہ لگایا گیا۔ آج اسی میٹرو نے مڈل اور ورکنگ کلاس کی عورتوں کو جو فائدہ پہنچایا یہ وہی جان سکتے ہیں جو پہلے دھکے کھاتے، خوار ہوتے آفس پہنچتے تھے اور وہاں باس کی جھڑکیاں کھانا ایک اور مرحلہ تھا جو سر کرنا پڑتا تھا۔ عورتوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اب ایک باعزت سواری ان کو میسر ہے۔ وہی لوگ جو اس منصوبے کو دن رات تنقید کا نشانہ بناتے تھے اب اپنے اپنے صوبوں میں اس کی شروعات کر رہے ہیں۔ نام کچھ بھی رکھ دیا جائے ہے تو ٹرانسپورٹ کا وہی نظام جو لاہور اور پنڈی میں مڈل کلاس عوام کے لئے بنا۔

اب یہی حال ہم پاک چائنا اقتصادی راہداری کا کر رہے ہیں۔ بننے سے پہلے اس منصوبے کو متنازٰع بنانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے کہ پہلے لوگوں کو مشرقی اور مغربی روٹس میں الجھائے رکھا۔ اب اقتصادی زون، جس کا فی الحال فیصلہ بھی نہیں، کے چکر میں پھنسا دیا ہے۔اس تنقیدی اور احتجاجی عادت کی وجہ سے ہم نے پی آئی اے جیسے خسارے کے گڑھ کو ایک منافع بخش ادارہ ثابت کرنے کی دوڑ شروع کر دی ہے۔ وہ اپوزیشن جو ابھی کچھ عرصہ پہلے تک خود اقتدار میں تھی اور اس مردہ گھوڑے سے بہت تنگ تھی اچانک ان کو لگ رہا ہے کہ پی آئی اے کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے، کوئی تو ان سے پوچھے کہ جناب یہی کارخیر آپ نے اپنے دور حکومت میں کیوں انجام نہیں دیا۔ اسی طرح ایک دوسری جماعت خود کو حقیقی اپوزیشن کہتی ہے ۔ اس جماعت کے منشور میں لکھا ہے کہ اس ادارے یعنی پی آئی اے کی نجکاری ہونی چاہئے آج پی ٓئی اے کی محبت میں یہی جماعت سب سے آگے ہے۔

اس تنقید کی رو میں آج کل ایک اور منصوبہ بھی ہے۔ جی ہاں، لاہور میں بننے والی اورنج ٹرین۔ ٹی وی پر چلنے والی فوٹیج نے اس وقت بہت برا اثر چھوڑا جب ایک احتجاجی جلوس کو اس پر ڈنڈے برساتے دیکھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس منصوبے پر نہیں پاکستان کی ترقی پر ڈنڈے برسائے جارہے ہیں۔ کسی بھی منصوبہ کی ابتدا پر ہمیشہ یہی تنقید ہوتی ہے کہ پہلے اور کام تو کر لیں، پھر ٹرانسپورٹ اور سٹرکوں کا سوچیں۔ کوئی ان تنقید کرنے والوں سے پوچھے کہ جب تک آپ سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کا نظام نہیں بنائیں گے، آپ کے دوسرے مسئلے کیسے حل ہوں گے۔ اگر سڑکیں نہیں ہوں گی تو اس گاﺅں کے سکولوں میں پڑھانے کے لئے اچھے استاد کہاں سے آئیں گے۔ اگر وہاں کے بچے ابتدائی تعلیم کے بعد بڑے شہروں میں جاکر اعلی تعلیم نہیں حاصل کریں گے تو کارآمد شہری کیسے بنیں گے۔ اگر سڑکیں نہیں ہوگی تو اچھے استاد اس گاﺅں میں کیسے آئے گئے۔اگر سڑکیں نہیں ہوگی تو آپ قریبی اسپتال کیسے جائیں گے۔ ان ہسپتالوں میں شہروں سے اچھے تجربہ کار ڈاکٹرز کیسے آئیں گے۔ انسان وہاں ہی سفر کرتا ہے جہاں اچھی سفری سہولیات موجود ہوں۔

ترقی کو نہ ڈنڈے ماریں نہ اس کی ٹانگیں کھینچیں اور نہ اتنی بے جا تنقید کریں کہ ہر منصوبہ اتنا متنازع ہوجائے کہ بنانے والا آئندہ بنانے سے توبہ کر لے۔اگر حکومت کی ترجیحات میں خامیاں ہیں تو آپ اپنی ترجیحات درست کر لیں۔ کیا کبھی اپوزیشن نے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ڈیم کیوں نہیں بناتی، ہر سال لاکھوں کیوسک میٹھا پانی ضا ئع ہوتا ہے لیکن کبھی اپوزیشن کی طرف سے آواز نہیں سنی اور نہ کوئی احتجاجی تحریک دیکھی کہ بھئی اس پانی کو محفوظ کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیں۔اگر حکومت کی ترجیحات بقول اپوزیشن کے عوام کو فائدہ پہنچانے والی نہیں ہیں تو اپوزیشن کی اپنی ترجیحات بھی ان کی ذاتی خواہشات کے گرد ہی گھومتِی ہیں۔ایک جماعت نے ڈھائی سال صرف دھاندلی دھاندلی کا رونا روتے گزار دیا جب ہوش آیا تو اسی بائی پاس کا افتتاح کر کے فخر محسوس کررہے ہیں جس منصوبے کو ساری زندگی تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ دوسری جماعت کی ساری توانائیاں صرف اپنے لیڈروں کی کرپشن بچانے میں لگی ہوئی ہیں۔اس ملک میں ترقی ہونے دیں جو منصوبے بن رہے ہیں ان کو بننے دے۔آہستہ آہستہ سہی لیکن ترجیحات درست ہوجائیں گی لیکن اگر ہم نے اپنی تنقیدی اور احتجاجی روش تبدیل نہ کی تو یہ عادت پاکستان کی ترقی کی راہ کو کھوٹا کر دے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “احتجاج کی سیاست

  • 11-02-2016 at 6:15 pm
    Permalink

    کیا کہئے اس سادہ دلی پر
    کیا موٹر وے بننے کے بعد جی ٹی روڈ بند کر دی گئی ،،نہین حقیقت یہ ہے کہ اج بھی جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے موٹر وے سے زیدہ ہین،اخر کیون
    میٹرو بس پر ہر ماہ بارہ کروڑ کی سبسڈی دئ جاتی ہین،کیون یہ بس اپنا خرچہ خود نہیں نکال پا رہی ہیں،،
    میٹرو ٹرین آج کی تاریخ تک 5 مزدوروں اور 2 راہ گیرون کی قیمتی جانیں لے چکی ہیں کیوں
    اور اس پر ہر ماہ بھی کروڑوں کی سبسڈی دی جانی ہے،یعنی یہ بھی قابل منافع یا اپنا خرچہ خود اٹھانے والا منصوبہ نہین ہے۔اس لیے کہ اس پر سفر کرنے والے لوگ اتنے نہین ہین،،
    کیوں ٹرین اور بس منصوبہ پر وسائل جھونکنے والے ڈیم نہین بناتے،جب کہ یہ ان کی ہی ذمہ داری ٹھہری نا کہ اپوزیشن کی
    جو آج پی آئی اے کی نجکاری پر تلے ہیں ،،پہلے ان کے اس نجکاری پر بیان دیکھئے
    شکریہ

  • 11-02-2016 at 9:15 pm
    Permalink

    اس قسم کے بیووقفانہ تجزیوں کی وجہ سے قوم الو بنتی ہے.
    کوئی پوچھے کے بھی مٹرو کیا لاہور کے کر ہر کونے میں جاتی ہے؟ محض لاہور کا ٦% علاقہ اس کے راستے میں ہے باقی سب کیا سوتیلے ہیں. اور جناب ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے ہر ماں اس کو کو کروڑوں کی سبسڈی کس خوشی میں دی جاتی ہے ؟
    کیا لاہور سارا پنجاب ہے ؟
    یہ حکومت اپنے ادارے نہیں چلا سکتی.
    یہ حکومت سیکورٹی کی صورتحال بہتر نہیں کر سکتی
    یہ حکومت اسکول کے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتی.
    اور آپ کا خیال ہے قوم ایسے ہی شور مچاتی ہے. حد ہے

Comments are closed.